عابد حسین قریشی
ہمارے ہاں کچھ رشتے انمول ہوتے ہیں، کچھ دلنشین، کچھ حساب کتاب والے، کچھ اخلاص والے، اور بہت سے جان چھڑوانے والے۔ کچھ یاد رہ جاتے ہیں، کچھ بھول جاتے ہیں۔ رشتوں یا تعلق میں ایک سٹیج پر تڑپ بھی ہوتی ہے اور خلوص بھی۔ مگر اس ستم کش معاشرہ میں یہ تعلق اور رشتے وقت کی تیز دھار پر چلتے لوگوں کے عروج و زوال کے ساتھ اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ بچپن اور زمانہ طالب علمی کے ساتھی سنگی اور دوست ہر ایک کا سرمایہ ہوتے ہیں، مگر شاید ہمارے عروج کے زمانہ میں وہ دوست کچھ neglect ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات دیدہ دانستہ بعض اوقات غیر شعوری طوع پر۔ حالانکہ وہ ہمارے عسرت و تنگدستی کے زمانے کے ساتھی ہوتے ہیں جنہیں کسی عام سے دیہاتی سکول میں پڑھتے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کل کون کیا بنے گا اور کہاں ہوگا۔ اس سب کے باوجود اس دوستی میں چاہت، پیار، اخلاص، ہمدردی، اپنائیت، ایثار ، وارفتگی اور وابستگی کے گہرے بندھن ہوتے ہیں۔ پھر ہم پڑھتے پڑھاتے بڑھے ہو جاتے ہیں۔ عملی زندگی کی سنگلاخ زمینوں اور تنے ہوئے رسے پر چلنے کا وقت شروع ہوتا ہے۔ جو جتنا زیادہ ترقی کرتا ہے، پرانے دوستوں اور ساتھیوں سے اتنا دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ بہت سے پرانے دوست غم روزگار میں سات سمندر پار چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ دنیا سے بھی۔ اور پھر جنہاں باج اک پل ناہیں جیندے، او صورتاں یاد ناں رہیاں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تعلق اور رشتے مطلب اور غرض کے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر سو فیصد نہیں۔ دراصل بچپن اور زمانہ طالب علمی کے بعد والے جتنے تعلق بھی بنتے ہیں، یہ رابطوں اور connectivity سے ہی قائم رکھے جا سکتے ہیں۔ ان تعلقات میں خلوص و وفا بھی ہوتی ہوگی، مگر اس تعلق اور ناطے کو مسلسل رابطے کی آبیاری دینی پڑتی ہے۔ ورنہ آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل۔ بعض اوقات جن دوستوں کے ساتھ بے تکلفی اور گپ شپ عروج پر رہی، پھر رابطے منقطع ہوئے، کوئی کہاں اور کوئی کہاں سیٹل ہوا، کہ جب کسی کی دنیا سے رخصتگی کی خبر آتی ہے، تو ذہن کو جھٹکا دے کر آنکھوں میں وہ تصویر بڑی مشکل سے آتی ہے جو کبھی ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رقصاں ہوتی تھی۔ شاید یہی دستور زمانہ ہے، یہی دنیا کا چلن ہے۔ اس میں حیرانگی و پریشانی والی بات نہیں ہے۔ بس رابطے اور connectivity کو ڈھیلا نہ پڑنے دیں۔ ہمارے ہاں ایک پنجابی کہاوت ہے کہ”” کھوہ وگدیاں دے، تے رشتے ملدیاں دے۔ “” یعنی کنویں چلتے رہنے سے اور رشتے ملتے رہنے سے ہی قائم رہتے ہیں۔ ملتے رہنے سے غیر بھی اپنے بن جاتے ہیں اور نہ ملنے سے اپنے بھی اجنبی۔ یہ ضروری تو نہیں ہوتا کہ ہر ملاقات کا کوئی مقصد ہو، کبھی کبھار بغیر کسی وجہ اور مقصد کے بھی مل لینے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ زمانہ سروس میں ایک دور دراز سٹیشن سے جہاں میں اکیلا ہی سول جج تھا تو پندرہ بیس روز بعد صرف اکلاپا دور کرنے کے لئے اور گپ شپ کے لئے ہیڈ کوارٹر کا رخ کرتا تو ایک دوست کولیگ نے حیرانگی سے ایک دن پوچھ لیا کہ خیریت تو ہے، جب انہیں بتایا کہ صرف گپ شپ کے لئے تو انہیں اپنے کانوں پر اعتبار ہی نہ آیا۔کہ ہمارے ہاں یہ چلن نہ تھا، نہ ہے۔ کسی ہمدم دیرینہ کو ایک فون کال، ایک خوبصورت سا میسج، کبھی کبھار ملاقات اگر ممکن ہو سکے، دکھ سکھ میں شرکت، بس اسی سے اس تعلق کی آبیاری ہوتی رہے گی اور یہ تعلق مرجھانے سے بچ جائے گا۔ مگر جس معا شرہ میں لوگ بوڑھے والدین کو اولڈ ہوم پھینک آتے ہوں، وہاں تعلق اور رشتوں کو قائم رکھنے کی امید اور تو قع رکھنا لگتا تو کچھ عجیب سا ہے، مگر ہمارا کام دلوں پر دستک دینا ہے،بعض اوقات بند دروازے بھی اس دستک سے کھل جاتے ہیں۔ تعلق کی بھی کئی اقسام ہیں، عارضی اور دوامی، بنیادی اور حادثاتی، روایتی اور ڈنگ ٹپاو۔ اخلاصی اور مفاداتی۔ سروس کے دوران ان سبھی سے کسی نہ کسی لیول پر واسطہ پڑتا ہے۔ آپ wise ہیں تو نبھا جائیں گے، otherwise ہیں تو گنوا جائیں گے۔ تعلق اور دوستی کے فلسفہ کی جو سمجھ آسکی وہ بس اتنی ہے، کہ دوستی ایک انمول تحفہ ہے، اچھے اور مخلص لوگ اور دوست مقدر سے ملتے ہیں، مگر اس دنیا میں سارے لوگ اپنی مرضی کے نہیں ملتے اور کچھ کا نہ ملنا خوش قسمتی ہوتی ہے، زندگی کے اس سفر میں جو آپکو چھوڑنا چاہے، اسے نہ روکیں، جو مل جائے اسے بچھڑنے نہ دیں، کہ زندگی بہت مختصر ہے،ممکن ہے دوبارہ ملاپ کا موقع میسر نہ آ سکے، اور جو بچھڑنے پر بضد ہو، وہ نہ رکتا ہے نہ اسے کوئی روک سکا ہے۔ مگر بچھڑنے پر بھی نہ ملال ہو، نہ پچھتاوا۔ نہ چھبن نہ الجھن۔ اس سوشل میڈیا نے تو ان دوستوں اور پرانے شناسا چہروں کو بھی جوڑ دیا ہے، جن سے ہمکلام ہوئے سالوں بیت چکے تھے۔ چلیں سوشل میڈیا کا کوئی مثبت پہلو تو نظر آیا، ورنہ سارا دن مایوسی اور فرسڑیشن پھلانے والی خبروں، ویڈیوز اور من گھڑت ٹک ٹاکرز نے تو سچائی اور اعلی معاشرتی روایات کو گہنا ہی دیا ہے۔



