عابد حسین قریشی
انسانی زندگی میں کئی زمانے آتے ہیں جن کا عمومی دورانیہ چند سالوں پر یا بعض اوقات کافی سالوں پر محیط ہوتا ہے، مگر وقت کی ساعتیں لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہیں۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ زندگی میں امن چین، دکھ سکھ، راحتیں، غم و اندوہ، خوشیاں، کامیابیاں، ناکامیاں، سب کا ایک وقت ہوتا ہے۔ ہم سجھتے ہیں، کہ آج ہمارا وقت ہے، اقتدار ہے، کرو فر ہے، شہرت ہے، مگر پھر وقت بدلتا ہے، تو کچھ بھی پاس نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہمہ وقت آنکھیں بچھائے آپکی حماقتوں کے بھی قصیدے گاتے نہیں تھکتے تھے، اب آنکھیں چراتے ہیں۔ وہ آپ سے نہیں بھاگتے بلکہ اس وقت سے بھاگتے ہیں، جس کےگرداب میں انسان پھنسا ہوتا ہے۔ وقت کے سامنے انسان کتنا بے بس ہو جاتا ہے۔ کہ وہ برے وقت کے لئے ذہنی طور پرتیار ہی نہیں ہوتا۔ مودی کو دس مئی کی رات تک یہ یقین تھا، کہ یہ وقت اسی کا ہے اور اسکے عروج میں کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی، مگر دس مئی ہی کی صبح سب کچھ بدل چکا تھا۔ وقت کا بے رحم پنجہ مودی کے مقدر پر پیوست ہو کر اسے اپنی ہی قوم کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کر چکا تھا۔ پاکستانی سیاست و حکومت میں تو وقت کے ہاتھوں لگے زخموں کی کہانی اتنی طویل اور خونچگاں ہے، کہ اسے بیان کرنے کے لئے کئی کتابیں درکار ہیں۔وہ لوگ جو اس ملک کے لئے اپنے آپ کو لازم و ملزوم سمجھتے رہے، وقت کی گرد میں کہیں کھو گئے کہ لوگ انکے نام بھی فراموش کر چکے۔ بدلتے وقت کی ہمارے آس پاس ایسی بے شمار کہانیاں ہیں، قصے ہیں، دلچسپ بھی، عبرت ناک بھی، حساس بھی، دل شکن بھی اور دل افروز بھی، نمکین بھی اور شیریں بھی، دل افروز بھی اور دلفگار بھی۔
وقت اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا ہے، ہم اسے ایک خاص جگہ روکنا چاہتے ہیں، مگر یہ ممکن نہیں ہوتا۔ انسان کواپنا بچپن اور لڑکپن بڑا fascinate کرتا ہے، جوانی کی ایک الگ امنگ اور ترنگ ہوتی ہے، یہ منہ زور بھی ہوتی ہے، اور اسکا تقاضا ہوتا ہے، کہ اسکی تمناوں اور آرزوؤں کی روانی سدا موجزن رہے۔ وہ لمحات جو کسی چاہنے والے کی قربت میں گزریں، ذرا ٹھہر جائیں، وصال یار کی گھڑیاں ذرا رک رک جائیں، مگر یہ حسین و دلکش وقت بھی گزر جاتا ہے۔ جن چہروں پر کبھی کبھی جوانی کا بانکپن اور شوخی رقصاں ہوتی تھی، اب وقت کے بے رحم ہاتھوں سے انہی چہروں پر لٹکتی سلوٹیں اور بالوں میں چاندی اور لہجوں میں سکوت، وقت کی رفتار کے بارے بہت کچھ بتا جاتا ہے۔ اس مختصر سی روداد کا خلاصہ یہ ہے، کہ جب یہ وقت اپنی ہی رفتار سے رواں دواں ہے، یہ کسی کی خواہش پر اپنی سپیڈ کم یا زیادہ نہیں کرتا، اسکی فطرت میں تغیر ہے، تبدیلی ہے، اونچ نیچ ہے، تو اس نے کسی کی خواہش پر کہاں رکنا ہوتا ہے، اور اگر تلخ حقیقت یہی ہے، تو کیوں نے اچھے وقت کو اچھے انداز میں بسر کر لیا جائے۔ اس طرح کہ اس کے گزرنے کے بعد نہ کوئی پشیمانی ہو، نہ ندامت، نہ پچھتاوا ہو، نہ چھبن۔ اچھے رویوں کے ساتھ، دوسروں سے حسن سلوک کرتے ہوئے، نخوت و تکبر کی بجائے عجز و انکساری کے ساتھ گزرے لمحات، اچھے یا برے وقت کی قید سے آزاد ہوکر قرطاس زندگی میں تادیر زندہ و تازہ رہتے ہیں۔



