تحریر: عابد حسین قریشی
نصیب اپنا اپنا۔ ہمیں ایک کمینہ اور عیار دشمن وراثت میں ملا۔ جو مدتوں سازشوں پر رو بہ عمل رہا۔اپنی طاقت کا زعم اور اپنی شیطانی چالوں پر گھمنڈ۔ ہم نے اس دشمن کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے۔ اب کہ بار پہلگام کے واقعہ کی آڑ میں وہ ہم پر چڑھ دوڑا۔ ہم نے جنگ کو بڑا ٹالا۔ ثالثی کی پیشکش کی، بات چیت کی دعوت دی، مگر وہ بڑی عجلت میں تھا۔ اسکے سامنے اب کہ بار معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ قرضوں میں جھکڑا پاکستان، اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کا شکار ملک، سیاسی طور پر ایک منقسم قوم ، اسکا نعرہ تھا کہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔بھارت کافی دیر سے گھات لگائے بیٹھا تھا کہ کب وار کرنا ہے۔ امریکہ کی درپردہ اور اسرائیل کی کھلے عام تائید و حمایت کے ساتھ بھارتی وزیراعظم مودی کی باڈی لینگویج ہی دیدنی تھی۔ باولا انڈین میڈیا وہی رول ادا کر رہا تھا جو زمانہ قدیم میں عورتیں قبائلی لشکروں کے ساتھ گیت گا کر اور ڈھول بجا کر کیا کرتی تھیں۔ پاکستان کو تو حریف کیا وہ ملک ہی تصور نہیں کر رہے تھے۔ امریکہ اس خطے میں چین کے خلاف بھارت کو ایک بڑی موثر فوجی طاقت بنانے پر بضد تھا تو اسرائیل مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو ختم کرنے کے درپے۔ بھارت نے نہ چینی اسلحہ کا مہلک پن دیکھا تھا نہ پاکستانی فوج کا عزم۔ پاکستان اسے سمجھاتا رہا۔ کہ جانے دیں یہ جنگ ٹھیک نہیں، مگر وہ ہمیں اندر گھس کر مارنے اور آزاد کشمیر پر قبضہ کی بات کرتا رہا۔ مودی کا جنون ہندو ازم کے پاگل پن کے ساتھ پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ پاکستان کی طرف سے کافی احتیاط اور دور اندیشی کا مظاہرہ ہوا۔ پاکستان نے شروع میں restraint کا مظاہرہ کیا مگر مودی کو طاقت کا نشہ کب چین لینے دیتا تھا۔ مودی اس بات کا ادراک ہی نہ کرسکا کہ جب بھارت پہلی رات کو پاکستان کے اندر میزائل حملے کر رہا تھا تو پاکستانی فضائیہ نے اسکے چار پانچ جہاز بغیر بھارت میں گھسے گرا دیئے تھے، جن میں بھارت کا جنگی گھمنڈ رافیل بھی شامل تھے۔ جب زیادتی حد سے بڑھ گئی تو پھر چند ہی گھنٹوں میں وہ ہوگیا جسکا تصور نہ بھارت نے کیا تھا نہ ہی ماڈرن ہسٹری کی عسکری تاریخ میں اسکی کوئی نظیر ملتی تھی۔صرف چند گھنٹوں کے اندر چشم فلک نے یہ منظر کب دیکھا تھا، کہ اپنے سے چار گنا بڑی عسکری طاقت کی ہر چیز اڑا دی گئی۔ دنیا میں IT پر ناز کرنے والا بھارت اپنے ریڈار سسٹم سے لیکر سیٹلائٹ سسٹم تک، اپنے کیمروں سے بجلی گھروں تک ہر چیز ناکارہ کروا چکا تھا۔ جموں سے گجرات تک ہر ائیر بیس اور ہر چھاونی ہماری فوج اور ایئر فورس کے نشانہ پر تھی۔ تباہی و بربادی کے مناظر میڈیا پر رقصاں تھے۔ پاکستانی قوم فرط جزبات میں سڑکوں پر جھوم رہی تھی، تو فوجی جوان اور ہمارے پائیلٹ جزبہ جنوں کی سرمستی سے سرشار بھارتی فضاوں میں حریت و دلیری کی تاریخ رقم کر رہے تھے۔ افسوس اس مرتبہ مودی کے بھارت نے ہماری اصل طاقت کا اندازہ ہی غلط لگایا۔ اب کہ بار پاکستانی فوج کی کمانڈ ایک انتہائی پروفیشنل ، دلیر مگر زیرک سپہ سالار کے ہاتھوں میں تھی۔ جس نے اپنی سپاہ میں ایک نیا جزبہ، ایک نئی امنگ اور ترنگ پیدا کی ہوئی تھی۔ اور جس نے تاریخ کے کچھ قرض بھی چکانے تھے۔ وہی مودی اور بھارت جو ایک روز قبل بڑی حقارت سے ثالثی اور جنگ بندی کی تجویز ٹھکرا رہا تھا، آج صرف ایک ہی دن اس قدر خوفزدہ اور پیشمان تھا کہ امریکہ سے رو پیٹ کر پاکستان سے جان چھڑانے پر مجبور ہوا۔ اسکا سارا تفاخر، سارا غرور، سارا گھمنڈ اور ساری نخوت زیر زمین پاؤں کی ریت ثابت ہوئی۔ وہ سو پیاز بھی کھا گیا اور سو جوتے بھی۔



