تحریر: عابد حسین قریشی
اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں
تو بھی آخر مل گیا اب کیا کریں
بشیر بدر کا یہ شعر ایک گروپ میں شیئر کیا تو ایک مہربان نے نیچے بڑا مختصر مگر معنی خیز کمنٹ کیا کہ ” اب خود کو ڈھونڈیں ” بظاہر تو یہ بے ضرر سا جملہ تھا، مگر میرے لئے غور و فکر کے بڑے در کھول گیا۔ فوری طور پر جو سمجھ آیا” یوں لکھا ” وہی تو مل نہیں رہا، جس روز اپنے آپ سے ملاقات ہوگئی، تو کمال ہوگیا، ہم دنیا کے بکیھڑوں میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں، دوسروں کو خوش کرنے یا مرعوب کرنے کے لئے عموماً مصنوعی زندگی بسر کر جاتے ہیں۔نہ دل کی بات کرتے ہیں، نہ اس بیچارے کی سنتے ہیں۔ “” مگر یہ بات اتنی سادہ تو نہیں، اسکا ذرا اور گہرائی میں جا کر جائزہ لیا، تو عقل و خرد کی کئی گھتیاں کھلتی چلی گیئں۔ انسان بھی اللہ تعالٰی کی بڑی باکمال تخلیق ہے۔ اللہ تعالٰی نےاسے عقل و شعور دیکر نیک وبد کی پہچان اور اچھے برے کی آزادی دیکر دیگر مخلوقات سے ممتاز و منفرد کردیا۔ مگر حضرت انسان نے اس دنیا میں آنے کے بعد کئی رنگ بدلے۔ یہ بیک وقت اشرف المخلوقات بھی ہے اور شاطر بھی۔ غمگسار بھی ہے اور خونخوار بھی۔ہمدرد و انیس بھی، اور دشمن دار بھی۔ کبھی سخت ترین بات بھول جاتا ہے، اور کبھی معمولی بات کا زخم دل پر اٹھائے برسوں سرگرداں رہتا ہے۔ دل کی بات چھپانا بھی جانتا ہے، اور کرنا بھی۔ مگر یہ نہیں جان سکا کہ کونسی بات کب نہیں کرنی۔ معمولی باتوں پر رنجیدہ خاطر ہونا، روٹھ جانا، روٹھ کر مان جانا اور مان کر پھر روٹھ جانا کوئی اس سے سیکھے۔ دل کی بات دل میں رکھ کر مصنوعی قہقہے لگانا، نہ اپنے من میں جھانکنا، نہ اپنے آپ سے کبھی کھل کر بات کرنا۔ سرابوں میں رہنا، اپنی ذات کا کبھی درست تجزیہ ہی نہ کرنا، ہوائی باتیں اکثر بدخواسی کو جنم دیتی ہیں۔ اگر انسان کو یہ ہی نہ پتہ ہو کہ میں کیا ہوں، کون ہوں، میری زندگی کا مقصد کیا تھا، میں زندگی کو کیا سمجھا، جو سمجھا وہ درست بھی تھا کہ نہیں، جو نہ سمجھ سکا، وہ کتنا اہم تھا۔ مگر یہ سب کچھ تو ہمکلامی سے ہی ممکن ہے، مگر ہمیں تو مدت ہوئی اپنے آپ سے ہمکلام ہوئے، ہمارا مجلسی تبسم اور گفتگو تو محفل پر رعب جمانے کے لئے ہوتی تھی۔ ہم نے تو کبھی اپنی ذات کا تجزیہ یا اپنے آپ کو آشکار یا تلاش کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ ہماری ساری سعی تو اپنی ظاہریت کو مقبول اور قبول کرانے کے لئے تھی۔ یہ کب من کی تلاش یا من کے سراغ لگانے میں تھی۔ مگر سچ پوچھیں تو کبھی کبھی تنہائی میں چاندنی رات میں باہر لان میں بیٹھے آنکھیں موند کر اپنے آپ سے باتیں کرنے میں جو لطف آتا ہے، بیان سے باہر ہے۔ اپنی حماقتوں پر ہنسی بھی آتی ہے، اور ندامت بھی، کبھی کسی گزرے لمحے کی کسک دل کو بے چین کرتی ہے، تو کبھی کسی دکھی کے پونچھے آنسو دل و دماغ میں خوشیوں کے چراغ روشن کر دیتے ہیں۔ کسی غمگسار کے ہاتھوں کا لمس، کسی ہمدم دیرینہ کی باتوں کی مٹھاس، کسی گزرے لمحے کی ہلکی آنچ کی تپش، کسی خوشگوار بات پر ہمجولیوں کے ساتھ قہقہے، کبھی باد نسیم کے جھونکوں میں گزرے کچھ دلکش لمحات کی یاد، کبھی اپنے کل کا احتساب، کبھی اپنے دل کے سامنے ہارے ہوئے لمحات، اور کبھی دل کے ہاتھوں کھائی ہوئی مات، اور کبھی اس دل کے ساتھ پرانی رنجشیں۔ کبھی دل کے یہ سب تار ہلا کر تو دیکھیں۔ کبھی رات کے پچھلے پہر کی تنہائیوں میں آسودگی میں گزرتی زندگی پر اللہ تعالٰی کا شکر اور اپنی کوتاہیوں اور نادانیوں پر معافی کا خواستگار ہونا یہی تو خود شناسی یا خود کلامی کی روح ہے۔جو اس خود کلامی سے جتنا دور ہے، وہ اپنی ذات کو ہی نہ جان سکا، نہ پہچان سکا۔ اس نے اپنے ہی دل میں نہ کبھی جھانکنے کی کوشش کی ، نہ دل کی آواز ہی سنی، وہ پرائی اور اوپری اوپری سی زندگی جی گیا، جسم کے بشری تقاضوں سے روح کی تراوت اور بالیدگی کا سفر ہی تو زندگی کے گمشدہ رازوں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔



