تحریر: عابد حسین قریشی
ہمارا ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ہماری افواج پوری طرح چوکس اور ہائی الرٹ پر ہیں۔ حکومت بھی اور قوم بھی افواج کی پشت پر نظر آرہی ہیں۔ جنگ کی امید رکھتے ہوئے جنگ کو غیر سنجیدہ لینا مناسب نہیں ہوتا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ایک عیار و مکار دشمن بھارت ہمارے سامنے کھڑا ہے، جسکی بھرپور مدد کے لئے امریکہ اور اسرائیل تیار ہیں۔ اسرائیل کی کافی دیر سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے، کہ مسلم دنیا میں سے ہر طرح کا potential threat ختم کر دیا جائے۔ لیبیا، شام ، عراق تو ختم ہو چکے۔ مصر سر نگوں ہو چکا۔باقی عرب ملک مصلحت کا شکار ہیں اور وہ اسرائیل کی برتری تسلیم کر چکے ہیں۔ صرف ایران کھڑا ہے مگر زیادہ خطرہ اسرائیل کو ایٹمی مسلم ملک پاکستان سے ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جنگ کے اس سنہری یا سیاہ موقع کو خالی نہیں جانے دیں گے۔ پاکستان پر انڈین حملہ یقینی نظر آرہا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک سنجیدگی سے de- escalation کی کوشش نہیں کر رہا ۔ صرف تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ تشویش تو غزہ پر بھی ساری دنیا نے ظاہر کی ہے۔ کیا اسرائیل جارحیت سے رکا ہے جو بھارت رک جائے گا۔ ہمارے لئے یہ جنگ خطرناک بھی ہوگی اور ممکن ہے فیصلہ کن بھی۔ اسرائیل اور امریکہ کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی فوجی طاقت کو ختم یا کمزور کیا جائے۔ یہ ایک گریٹر پلان تھا، جو کشمیر میں خود ساختہ دہشت گردی کراکے فوری جنگ کا ماحول بنا دیا گیا ہے۔ بھارت کو جنگ شروع کرنے کی جلدی بھی ہے اور پاکستان کو ختم کرنے کی خوش فہمی بھی۔ میں کوئی دفاعی تجزیہ نگار تو نہیں، مگر معروضی حالات کا تجزیہ یہ بتاتا ہے، کہ اس متوقع جنگ میں پاکستان سے زیادہ بھارت کا نقصان ہوگا۔ ہمارے پاس شاید کھونے کے لئے زیادہ کچھ نہیں مگر بھارت ایک ابھرتی ہوئی economy ہے۔ اسکی stakes ہم سے زیادہ ہیں۔ اس وقت پاکستانی قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ دشمن کافی گہری منصوبہ بندی سے آرہا ہے۔ اللہ تعالٰی کی تائید و نصرت بھی ہوگی اور عوام کی حمایت بھی۔ اگر یہ جنگ ہوئی تو ہمیں ہر حال میں اسے جیتنا ہے، پاکستان اگرچہ کئی معاشی و دیگر مسائل میں گرا رہتا ہے مگر عالم اسلام کی یہ آخری امید ہے۔ امید کے اس دیئے کو بجھنے نہیں دینا، ورنہ مسلم دنیا یتیم ہو جائے گی، اور اگلا آسان ہدف ایران ہوگا۔ اسکے بعد کا منظر تو بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔



