عابد حسین قریشی
انسانوں کی بستی میں بندے زیادہ اور انسان کم ہوتے جارہے ہیں۔ بندے سے انسان بننے کا سفر ذرا مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔بندہ بھی اگر بندگی والا ہو تو کمال ہے اور اگر انسان بن کر اشرف المخلوقات بن جائے تو کیا ہی بات ہے۔ اپنی کتاب عدل بیتی میں اچھے انسان کا ذکر کرتے ہوئے چند جملے لکھے، جو بہت پسند کئے گئے۔ اچھے انسان کی تعریف کرتے ہوئے بہت سی خوبیوں کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ اگر ساری خوبیوں کو نظر انداز بھی کر دیں تو اعتدال کا لفظ ہی کافی ہے۔ ہم جب اپنے معاشرہ پر نظر دوڑاتے ہیں، تو ہمیں زیادہ تر لوگ افراط و تفریط کا شکار نظر آتے ہیں۔ معتدل مزاج ، متوازن اور بیلنس لوگ بہت کم نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالٰی کو اعتدال اور توازن بہت پسند ہے۔ ہماری صرف سوچ ہی افراط و تفریط والی نہیں ہوتی بلکہ ہمارے رویئے زیادہ ابنارمل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ شریف آدمی کی عزت نہیں کرتے مگر بدمعاش سے ڈرتے ہیں۔ لوگ عاجزی و انکساری کی بجائے تکبر و نخوت کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ یہ خاک کا پتلا انسان کس بھروسے اور مان پر تکبر کرتا ہے۔ اسکا اپنا اس دنیا میں کیا ہے، جو خود اللہ تعالٰی کی طرف سے دی گئی سانسوں کی مہلت پر زندہ ہو، جو ایک قدم بھی قدرت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہونے پر اٹھانے کا مجاز نہ ہو، وہ کس بات پر اکڑتا ہے، بات سمجھ نہیں آتی۔ جو انسان جتنا توازن اور اعتدال سے دور ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی عقل و خرد سے دور اور شعور و آگاہی سے نابلد ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی طور پر شدید
ترین منقسم معاشرہ میں اس وقت اعتدال و توازن،معتدل سوچ اور نارمل رویوں کی ضرورت ہے۔ ہم لاحاصل بحث میں اپنے دوستوں کو ناراض کر دیتے ہیں۔ سیاست میں روایتی وضع داری اور برداشت کب کی ختم ہوچکی۔ اس وقت ہمارے معاشرہ میں طلاق کی شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی اور بہت سی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ عدم برداشت اور متشدد رویّے اسکی اہم وجہ ہیں۔شاید پیار اور نرمی سے بات کرنے کا رواج ہی ختم ہوچکا۔ حالانکہ ایک میٹھا بول اور چہرے پر مسکراہٹ بڑے سے بڑے قفل کھول سکتے ہیں۔ بڑی آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی کھل کر ہنس لینا چاہیے، دوسروں پر نہیں مگر دوسروں کے ساتھ ہنسنے کا زیادہ مزا آتا ہے۔اپنے آپ پر ہنسنا بھی خوب ہے۔ اپنی جوانی کی کئی حماقتوں پر ہنسی بھی آتی ہے، اور ندامت بھی۔ ہم دوسروں پر ہنسنا چاہتے ہیں، مگر ہمارے اپنے اندر ہنسنے کا خاصا مواد موجود ہوتا ہے۔ صرف حوصلہ چاہیئے۔
بندے سے انسان بننے کا سفر انہی مسکراہٹوں اور معتدل رویوں کے ساتھ بڑی خوبصورتی اور احسن طریقہ سے تکمیل پزیر ہو سکتا ہے۔ آزمائش شرط ہے۔



