آج 11 اپریل ہے ۔ ماں جی کو بچھڑے 7 برس بیت گئے ۔ گذشتہ سے پیوستہ

ماں جی

تحریر: محمد شجاع الدین

بیٹا آپ کھڑے ہو جاو آنٹی کو بیٹھنے دو ۔۔۔۔ یہ پہلا حکم تھا جو سن شعور کی ابتدائی یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور ماں جی کے اس حکم نے ذہن پر کچھ ایسی مہر ثبت کی کہ آخر دم تک تابعداری نہ گئی ۔ پلٹ کر جواب دینا کیونکہ اس زمانے کا رواج نہ تھا اس لئے ہر بات پر سرتسلیم خم کئے رکھا یہاں تک کہ بچوں نے چھیڑ بنا لی کہ پاپا تو مما جان سے زیادہ دادی اماں سے ڈرتے ہیں ۔۔۔ بات بہ بات بلیک میل بھی کرتے ۔۔ میں چھپ چھپ کر سگریٹ پیتا ہوں ۔۔ بچے اپنی ضد منوانے کیلئے دھمکی بھی دے ڈالتے ، اچھا تو پھر بتائیں دادی اماں کو ؟
بات اس وقت کی ہے جب لاہور کی تنگ سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بس دوڑتی تھی ۔۔ میں اور ماں جی خواتین کے جالی دار حصے میں سوار تھے ۔ میں کھڑکی کیطرف بیٹھا ، بھاگتے درختوں کا نظارہ کر رہا تھا جو ماں جی کی پیار بھری آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ منہ پھیر کر دیکھا تو ایک خاتون کھڑی میری ہی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ میں اٹھا ، پلٹا اور ماں جی کی سیٹ کے برابر جم کر کھڑا ہو گیا ۔ خاتون شکریہ کہہ کر بیٹھ گئیں لیکن ماں جی کی آنکھیں میری سعادت مندی کے باعث چمک اٹھیں ۔ میں نے زندگی میں جب تک بس یا ویگن میں سفر کیا ، ماں جی کی آنکھون کی چمک نے کسی خاتون یا بزرگ مسافر کی موجودگی میں مجھے سیٹ پر ٹک کر نہیں بیٹھنے دیا ۔۔۔ لڑکپن ، جوانی اور پھر 64 برس کی اس ادھیڑعمری میں ماں جی کی چمکتی آنکھیں آج بھی میرا طواف کرتی رہتی ہیں ۔۔۔
شہر لاہور کے سر سبز و شاداب علاقے مسلم ٹاون میں پیدا ہونیوالی سرور بیگم بس پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکیں ۔ ایک ساتھ گڈی گڈے کا بیاہ رچانے ، اسٹاپو کھیلنے اور دیو قامت درختوں پر پینگ جھولنے والی ایک ہم جماعت ڈاکٹر بشری کہلائیں تو دوسری سہیلی سرفراز بیگم نے افسانہ نگاری میں خوب نام کمایا ۔ اس دور کا مسلم ٹاون برصغیر کے چند بڑے ناموں کا مسکن تھا جن میں ایک طرف مولانا عبدالمجید سالک ، مولانا غلام رسول مہر ، استاد اللہ بخش تو دوسری طرف صبیحہ خانم ، سنتوش ، درپن ، اکمل ، ایس سلیمان ، لقمان اور ایسی کئی نامور ہستیاں پڑوس میں رہتی تھیں ۔ ہمیں تختی کی مشق کرواتے ماں جی اکثر کہتیں ابا جی نے پڑھنے ہی نہیں دیا بس یہی کہا ، لڑکیوں نے شادی کے بعد چولہا چوکہ ہی تو سنبھالنا ہے ، قرآن پاک پڑھنے کے قابل ہو گئی ہو ، بہت ہے ۔ .
اپنا شوق پورا کرنے کیلئے ہمیں مشق ستم بنایا گیا ۔ ہم بہن بھائیوں کو سلیٹ ، تختی ، کاپی پنسل کی کبھی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔ تختی دھونا ، اسے کڑکتی دھوپ یا پنکھے کے نیچے رکھ کر سکھانا ، اس پر گاچنی جمانا ، قلم بنانا اور پڑیوں کی روشنائی تیار کرنا ۔ الغرض ہم انگلش میڈیم کے جنٹلمین ، دیسی بچوں کے مقابلے میں کسی کمپلیکس کا شکار نہیں رہے ۔ ماں جی کی انگریزی ہمارے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی ۔ ہمارے درجے بڑھتے رہے ان کی انگریزی میں نکھار پیدا ہوتا گیا ۔ ہم سوچتے ماں جی کو ہمارا سبق کیسے یاد ہوتا ہے؟ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ ہمارا سبق ہم ہی سے سن کر ہمیں پڑھا دیتی تھیں ۔ البتہ حساب میں وہ ہمیشہ چار قدم آگے رہیں ۔ ہم ٹو ، ٹو از فور پڑھتے ۔ وہ ایک ، سوایا ، ڈیوڑھا ، پونے دو ، دو ، سوا دو ، ڈھائی ، پونے تین اور آگے کے تمام پہاڑے فر فر سنا دیتی تھیں ۔
باو خدا بخش کی بیٹی سرور بیگم دفعدار اللہ بخش کی بہو بنیں تو سسرال کے آنگن میں اترتے ہی ملکہ کہلائیں اور پھر زندگی بھر ملکہ بن کر ہی راج کیا ۔ ساس ، سسر اور 7 نندوں پر مشتمل خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا بن گئیں ۔ خدمت گزاری کو ایمان کا درجہ دیا تو کیا بچہ کیا جوان سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ ساس وارے وارے جاتیں تو نندیں صدقہ نہارتیں ۔ اس وقت ساس بھی کبھی بہو تھی کی سیریل ابھی عام نہیں ہوئی تھی ۔ گھروں کی دیواریں پردہ داری کیلئے تعمیر کی جاتی تھیں ، بٹوارے کیلئے نہیں ۔ زندگی اس ڈھب پر چل نکلی تو پھر رکی نہیں تا وقتیکہ گاوں سے شہر لاہور آنیوالا دیہاتی جوان اور ملکہ کا ہیرو شہری بابو بن گیا ۔
بھلے وقتوں میں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ایجاد نہیں ہوا تھا ۔ والدین بیٹی کو بیاہتے تو چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیتے جس گھر تمھاری ڈولی جا رہی ہے اب وہاں سے تمھارا جنازہ ہی نکلے ، اور وہ بھی بھیگی آنکھوں کو گواہ بناتی ماں باپ کی نصیحت پلو سے باندھ لیتی ۔ ماں جی بھی اسی قبیل کی تھیں ، نصیحت کو آخر دم تک نبھائے رکھا ۔۔۔ زمانے کی دھوپ چھاوں ان کے روز و شب کے معمولات نہ بدل سکی ۔
میکے سے گھر گرہستی کا سبق پڑھ کر آنے والی سرور بیگم کیلئے چودھری صلاح الدین ہی سب کچھ تھے ۔ ماں جی نے تو شاید مجازی خدا کا تصور ہی بدل ڈالا ۔ خدمت کو کچھ یوں اوڑھنا بچھونا بنایا کہ کولہو کا بیل بھی شرما جائے ۔ شکر دوپہر ، کڑکتی دھوپ میں صحن کے بیچ دو چارپائیاں کھڑی کر کے اوپر چادر ڈال دی اور سائبان تیار کر لیا ۔ اب نمک ، مرچ ، ہلدی اور دیگر مسالے پیسنا شروع کر دیئے ۔ اس وقت مشینیں دستیاب نہیں تھیں اس لئے ہر خاتون خانہ اسی طور اپنے گھرانے کو توانا رکھتی تھی ۔
ماں جی ہفتے میں ایک بار کپڑے دھونے کا اہتمام ضرور کرتیں ۔ سرکاری ٹونٹی کسی کسی گھر میں ہوتی تھی لیکن نلکا ہر آنگن کا جزو تھا ۔ قمیض ، شلوار ، پتلون ، بش شرٹ تو کسی کھاتے میں نہیں آتی تھی ۔ گھر بھر کی چادریں ، میز پوش ، تکیئے ،غلاف ، لحافوں کے اوچھاڑ اور پھر قالین نما فرشی دریاں ۔ محشر کے روز اپنی گٹھڑی اپنے سر اٹھانے کی روایت فقط ایک یوم کیلئے ہے لیکن ہر اتوار کی چھٹی کے دن ، ان دھلے کپڑوں کا یہ گٹھڑ نلکے کے ساتھ علی الصبح رکھ دیا جاتا ۔ اس زمانے میں گھروں کی عورتیں کچھ دم رکنے کیلئے دھوبی کی چھوا چھو کہنے کی نعمت سے بھی محروم تھیں کہ آواز کا دیوار پار جانا معیوب خیال کیا جاتا تھا ۔ کپڑوں کو تہہ در تہہ پھیلایا اور بڑے دیگچے کا کھولتا پانی انڈیل دیا ۔ ولائتی اور انگریزی صابن تو چہروں کے نکھار کیلئے ہوتا تھا یہاں تو کاسٹک سوڈے سے بنا دیسی صابن ہوتا جو کپڑے کی میل کیساتھ ہاتھ کی کھال بھی نکال ڈالتا ۔ ماں جی اپنی دھن میں سوار صبح سے شام کر دیتیں ۔ اس دوران صحن کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پھیلے تاروں پر اجلے کپڑے قطار اندر قطار جمع ہوتے رہتے ۔
ہمارے بچپن میں ناشتہ ، لنچ یا پھر ڈنر نہیں ہوتا تھا ۔ صبح ، دوپہر اور شام کی روٹی کو تین وقت کا کھانا کہا جاتا ۔ ڈبل روٹی ، انڈے اور چائے کے چونچلے تو کسی فرد کے بیمار پڑنے پر ہی دیکھنے میں آتے ۔ صبح پرات بھر آٹے کے پراٹھے بنتے جو رات کے بچے ہوئے سالن کیساتھ شوق سے پیٹ بھر کر کھائے جاتے ۔ ایک وقت میں ایک ہی سالن بنتا تھا ۔ البتہ چھوٹے بھائی علاوالدین کے نخرے پر کبھی آلو کی بھجیا بن جاتی ۔ اسے بینگن اور کدو سے رغبت نہیں ۔ عید تہوار یا پھر گرمی کی چھٹیوں میں خوب دھماچوکڑی مچتی ۔ اکلوتے بھائی کے ہاں سات بہنیں آجائیں تو جانو رات شبرات اور دن عید ہوجاتا ہے ۔ سارے بچے خوب اودھم مچاتے ، نندیں ایک جگہ بیٹھی خوش گپیاں کرتیں ۔ ایک سے زیادہ بہنوں کا یہی فائدہ ہے جہاں اکٹھی ہوئیں اپنے دکھ بانٹ لئے ۔
ماں جی اس سارے ہنگامے سے بے نیاز ، اپنی مگن میں گم باورچی خانے کی زینت بنی رہتیں ۔ ان دنوں بھی ایک دسترخوان پر ایک پکوان ہی سجتا بس میٹھے کا اضافہ ہو جاتا ۔ ماں جی کا اپنی نندوں کیساتھ ایک بھابھی کے بجائے ماں ایسا ہی تعلق تھا ۔ دو بڑی نندوں کے سوا باقی پانچ کو پڑھایا لکھایا اور ان کی شادیاں بھی خود ہی کیں ۔ اس لئے ہمارے حصے کا پیار بھی ان کی جھولی میں ڈال دیا ۔ یہی وجہ بنی کہ ان کے درمیان نند بھاوج کا رشتہ وجود میں ہی نہیں آیا ۔ نندوں کے بعد ان کے بچوں کی تعلیم اور تربیت کا بندوبست بھی اپنے ہی گھر کیا لیکن کیا مجال کبھی ماتھے پہ شکن آئی ہو ۔ رشتوں سے پیار کا اظہار اس روز دیکھا جب کلمہ شہادت کی آواز ابھری ، ماں جی کی چارپائی اٹھی تو بھانجوں ، بھانجیوں کے نوحے ہم بہن بھائیوں کے ماتم پر غالب آگئے ۔
ماں جی کا سبھاو عمر بھر کچھ ایسا رہا کہ گھر اور گھرداری کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔ گھر سے تو جیسے انہیں عشق تھا ۔ اپنے گھر سے باہر ایک رات قیام کرنا بھی ان پر بھاری گزرتا ۔ جس گھر کی بنیاد حضرت احمد علی لاہوری اور اپنے وقت کے جید علمائے کرام نے رکھی ہو اس کی قدر و منزلت کوئی دل والا ہی جان سکتا ہے ۔ گھر کا نقشہ بڑھایا تو کمروں کی چھتوں کی تیاری میں خود اپنے ہاتھ سے اینٹیں تک اٹھاتی رہیں ۔ اسی لئے گھر بدلنے کی ہر تدبیر کو سرے سے رد کر دیتیں ۔ بس یہی کہتیں ان اینٹوں میں برکت ہے ۔ اسی برکت کے سبب یہ گھر آج پانچ پشتوں سے آباد ہے ۔ رہی بات گھر والوں کی تو ماں جی نے اپنا آپ مار کر ایک ایک ذی نفس کی کچھ اسطرح خدمت کی کہ خود اپنا حال بے حال کر لیا ۔ دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں ساس ، سسر ، نندوں اور سسرال کے ہر رشتے کی دلجوئی کرتے اپنے مجازی خدا کی بشری ضرورتوں سے بے نیاز ہوگئیں ۔ ہوش آیا تو گاوں کا بھولا بھالا اور ماں جی کا ہیرو ، شہری بابو بن چکا تھا ۔
چودھری محمد صلاح الدین نارنگ منڈی کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم کا غدر مچا تو ہجرت کر جانے والے سکھوں کے ہمسایہ گاوں سے ایک دوات اور درانتی مال غنیمت کے طور پر لے آئے ۔ گاوں بھر کو مسلمان کرنیوالے دین دار ، دفعدار اللہ بخش کو خبر ہوئی تو اکلوتی نرینہ اولاد سے خفا ہو گئے ۔ ننھے محمد صلاح الدین کو معافی اس وقت ملی جب والد سے حرام نہ کھانے کا عہد کیا ۔ یہی وجہ تھی کہ پٹوار کا امتحان پاس کیا تو اسوقت کے لاہور کے چار پٹواریوں میں سے ایک ہونے کے باوجود صاف ستھری تنخواہ پر گزارا کیا اور والد کی نظر میں عمر بھر کیلئے سرخرو ہو گئے ۔
شہر لاہور کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔ سو بولا ۔۔۔ ماں جی نے اپنے ہیرو کے ہر شوق کا ساتھ دیا ۔ سیر کو کہا سیر کو گئیں ۔ 50 اور 60 کی دہائیوں میں پگڈنڈیوں کا سفر کرتے ملکہ کہسار مری سے ہوتے کاغان ، ناران تک گھوم آئیں لیکن دل گھر میں ہی اٹکا رہا ۔ سنیما دیکھنے کو کہا تو ساتھ ہو لیں مگر دھیان سسرال والے کیا کہیں گے ؟ کیطرف ہی رہا ۔ مال روڈ اس دور میں ٹھنڈی سڑک کہلاتی تھی اور لارنس گارڈن حسن و عشق کی آماجگاہ ۔ ماں جی اپنے ہیرو کیساتھ قدم قدم تو چلتی رہیں لیکن زقند رفتار شہری بابو شاید ہواوں میں اڑنا چاہتا تھا اور ماں جی کے پاوں گھر کی دہلیز سے چپکے کھڑے تھے ۔
یہی وجہ بنی کہ ماں جی گھر میں رہیں اور باہر کی دنیا گھومنے کیلئے بی سوکن آ گئیں ۔ ماں جی کے دل نے شور تو خوب مچایا لیکن جسے خدا سمجھا اس کیخلاف حرف بد دعا زبان پر نہ آیا ۔۔۔ زمانے کا سچ تو یہ ہے کہ آدمی کو باورچن نہیں ہیروئن چاہیئے ہوتی ہے ۔۔۔۔ میکے والوں کو خبر ہوئی تو بیٹی کو لینے آ گئے ۔ والد نے کہا ، آو تمہارے اور تمہارے بچوں کیلئے بہت کچھ ہے ۔ جواب دیا ۔۔۔ آپ نے نصیحت کی تھی ، اب تو اس گھر سے جنازہ ہی نکلے گا ۔ والد ناراض ہو گئے تو ایک ہی سڑک پر چار گھر چھوڑ کر واقع میکہ کوسوں دور ہو گیا ۔ ماں جی کسی کام سے نکلتیں تو والد کے گھر کے سامنے سے گزرنے کے بجائے لمبا چکر کاٹ کر آگے بڑھتیں ۔
صبر کا دامن تھام لینے والے اپنی منزل کھوٹی نہیں کرتے ۔ ماں جی نے بھی بچوں کی تعلیم کے حصول کو اپنی آئندہ کی زندگی کا مقصد بنا لیا ۔ ہم بہن بھائیوں کی تعلیمی ضروریات کیلئے دن رات ایک کیا لیکن ان حالات میں بھی اپنے سسرال کی خدمت سے ہاتھ نہیں کھینچا ۔ اسے خدمت کا صلہ کہیں یا قدرت کا انعام کہ ساس ، سسر نے آخری وقت تک بیٹی سمجھا تو نندوں نے سگے اور اکلوتے بھائی کے بجائے ہمیشہ ان کی طرف داری کی ۔
اولاد میں بیٹے ، بیٹی کی تخصیص نہیں ہوتی ۔ دونوں کا احساس یکساں ہوتا ہے ۔ اس لئے اولاد کی خدمت تولی نہیں جاتی لیکن ماں جی نے جس انداز میں بہو سے ساس تک کا سفر طے کیا، قدرت نے انعام میں انہیں بہوئیں بھی ایسی ہی دیں ۔ شکوہ شکایت دنیا کی زندگی کا حسن ہے مگر خدمت ، عبادت سمجھ کر کی جائے تو مشیت ایزدی ہر تدبیر کو تقدیر بنا دیتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ماں جی کے رخت سفر کی تیاری میں ان کا آخری اور ابدی سوٹ بھی ان کی بہو عارفہ بیگم اور پوتی نحلہ شجاع نے خود تیار کیا ۔
شراکت داری کا غم کیا کم تھا کہ ایک اور حادثے نے آ لیا ۔ بڑے بھائی جان محمد ضیاالدین پائیلٹ اسکول وحدت کالونی میں ساتویں جماعت کے ہونہار طالبعلم تھے ۔ اسکاوٹ تھے ۔ گھر میں بڑا ہونے کے باعث سب کے لاڈلے تھے ۔ ہم سب فیصل آباد شادی میں گئے تھے ، وہ گھر رہے ۔ صبح سویرے ایک حادثہ جاں کناں کی خبر ملی ۔ واپس پہنچے تو کہرام مچا ہوا تھا ۔ چودھری صلاح الدین کی پیلی کوٹھی پر موت بال کھولے ناچ رہی تھی ۔ آہ و بکا کے شور میں پتہ چلا کہ بھائی جان ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں ۔ جوان بیٹے کی ناگہانی موت نے ماں جی کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ۔ موت کے خوف نے ایسا رنگ جمایا کہ پھر رہتی عمر تک ماں جی کے دل سے یہ کھٹکا نہ گیا ۔
ہم دونوں بھائی ڈی پی ایس ماڈل ٹاون میں داخل ہوئے تو ماں جی برقع پہنے ایم ٹی بی ایس کی لال بس پر سوار ہو کر ہمارے ساتھ اسکول جاتیں ۔ مین گیٹ پر پہنچ کر سر پر ہاتھ پھیرتیں اور واپسی بس پر مسلم ٹاون گھر چلی جاتیں ۔ دوپہر چھٹی کی گھنٹی ہونے سے پہلے ماں جی اسی آہنی گیٹ کے کونے سے لگی کھڑی ہوتیں ۔ یہ سلسلہ ایک دو روز نہیں بلکہ سالہا سال چلتا رہا ۔ ہم نویں دسویں میں پہنچ گئے ، ہم جماعت ہمارا مذاق اڑاتے کہ ابھی فیڈر نہیں چھوڑا جو والدہ ساتھ آتی ہیں ۔ ہم نے احتجاج کیا تو ماں جی اپنے معمول میں تھوڑی سی تبدیلی لے آئیں ۔ اب وہ اسکول کے مین گیٹ کی بجائے ایچ بلاک بس اسٹاپ کی برجی کے نیچے کھڑی ہو جاتیں ۔
1970 کی پوری دہائی اسی طرح گزری ۔ گرمی ، سردی کے ہر موسم میں ماں جی کے معمول میں رتی برابر فرق نہیں آیا ۔ ہماری پڑھائی کا اس حد تک خیال تھا کہ اسکول کی دیوار کے ساتھ جڑے حبیب بینک کی برانچ میں ماہانہ فیس جمع کرانا بھی ماں جی نے اپنے معمول کا حصہ بنا لیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن میں لگنے سے پڑھائی کا حرج ہو گا ۔ ڈی پی ایس اسکول سے ڈی پی ایس کالج میں آ گئے لیکن ہم دونوں بھائی کبھی اسکول ، کالج سے لیٹ ہوئے نہ کبھی ہماری فیس جرمانے کے ساتھ بھری گئی ۔ ماضی کو اپنے بچوں کے بچپن سے ملاتا ہوں تو شرمندگی ہوتی ہے کیونکہ گاڑی کی آسائش ہونے کے باوجود میں اپنے بچوں کو کبھی وقت پر اسکول نہیں پہنچا سکا اور اخبار کی نوکری میں وقت بے وقت تنخواہ ملنے کے باعث ہمیشہ جرمانے کے ساتھ بچوں کی فیس بھرنا پڑی ۔
ماں جی نے دولت کی ریل پیل بھی دیکھی اور مٹھی بھر سکے بھی گنے ۔ عیش و عشرت میں تکبر سے دور رہیں تو افلاس کی آزمائش میں وضعداری کا بھرم قائم رکھا ۔ اچھے دنوں میں عید بکر عید پر شامیانے لگتے ، دیگیں پکتیں ، خاندان بھر کی محفلیں سجتیں ۔ والد بزرگوار کی جڑیں چونکہ دیہات سے جڑی تھیں لہذا ہمارا گھر باو ٹرین سے لاہور آنیوالے ہر مسافر کی منزل تھا ۔ گاوں سے آئے ہر مہمان کیلئے دو چیزوں کا خاص اہتمام کیا جاتا ۔ حقہ اور میٹھا ۔ والد صاحب گاوں کی جم پل ہونے کے باوجود سگریٹ ، پان ، بیڑی اور حقے جیسی نعمت اور خالص نسلی گالی دینے کی صلاحیت سے عمر بھر محروم رہے لیکن میں نے خوب استفادہ کیا ۔ خوبصورت رنگ کے دھاتی تاروں اور موتیوں سے مزین حقہ بیٹھک میں بچھے تخت پوش کا لازمی حصہ تھا جبکہ صوفہ سیٹ کے سامنے دھری میز پر چاندی کا چمکتا سگریٹ کیس ، جو بٹن دبانے سے کھلتا تو جلترنگ بج اٹھتا ۔
دسترخوان پر حلوے کی بھری پرات ضرور ہوتی ۔ اس زمانے میں بازار کے گلاب جامن یا برفی کی ٹکڑیاں خرید کر گھر لانا خاتون خانہ کے سگھڑ پن کی توہین سمجھا جاتا تھا ۔ ایک مرتبہ گاوں کے چودھری صاحب آئے ۔اونچے طرے والی پگڑی ، کھلے گھیر کا کرتہ اور بڑے جوڑ کا تہبند ۔ کیا خوب وجاہت تھی ۔ حقے پانی کا بندوبست کیا گیا ۔ آو بھگت کیلئے باورچی خانے سے بیٹھک تک کے چکر میرے ذمے تھے ۔ باقی سب تو ٹھیک رہا لیکن جب موصوف نے حلوے کا پورا ڈونگا صاف کر دیا تو ہمارے ہاتھ ایک کھیل آ گیا ۔ ہم بہن بھائیوں نے معزز مہمان کی موجودگی میں انکل ڈونگا کے نعرے لگانے شروع کر دیئے ۔ مہمان نے تو شاید سنا یا نہیں مگر باورچی خانے میں بیٹھیں ماں جی کے کانوں تک آواز پہنچ گئی ۔ زندگی میں وہ واحد دن تھا جب ہم بہن بھائیوں کی ایک ساتھ دھلائی ہوئی ۔ ان کا ماننا تھا کہ کھانے کی بیحرمتی رزق میں کمی لاتی ہے ۔
وقت نے پلٹا کھایا تو ماں جی نے پاو بھر دودھ ، دو چھٹانک چینی ، دو چھٹانک ڈالڈا گھی خرید کر بھی گزارا کیا ۔ ان دنوں گھر میں صرف ایک پراٹھا بنتا تھا جس پر ایک چمچ گھی لگایا جاتا ۔ وہ پراٹھا چھوٹی بہن کے حصے میں آتا ۔ دودھ کم ہونے کیوجہ سے ہم بڑے بہن بھائی دودھ کی جگہ انگریزی لفظ وائٹ ، استعمال کرتے تاکہ چھوٹی دودھ پینے پر اصرار نہ کرے ۔ ان حالات میں بھی ماں جی نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ خزاں نے کروٹ لی تو دیکھا ایک بار پھر بہار دستک دے رہی تھی ۔
ماں جی کی وفا شعاری کا سبب تھا کہ ان کا ہیرو روشنیوں کے دیس سے واپس لوٹ آیا ۔ وفا کی جوت جگی رہے تو شادی کا بندھن کیلنڈر کی تاریخوں کا محتاج نہیں رہتا ۔ 90/91 کی بات ہے والد صاحب محترم دل کے عارضے میں پی آئی سی داخل ہوگئے ۔ ماں جی نے داتا صاحب حاضری کی منت مانی ۔ ڈاکٹر شہریار نے تسلی دی تو گاڑی کا انتظار کئے بغیر حاضری بھرنے نکل پڑیں ۔ بالوں میں بھرپور چاندی آ جانے کے باوجود ماں جی تین پردوں والا برقعہ پہنتی تھیں ۔ موٹر سائیکل پر بیٹھے برقعہ پہیئے کی چین میں پھنس گیا ۔ موٹر سائیکل نے قلابازی کھائی تو ماں جی کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ ہیرو پی آئی سی میں تو خود یو سی ایچ بستر پر رہیں لیکن چند دن بعد ہی وہیل چیئر پر پی آئی سی جانا شروع کر دیا ۔ سلسلہ اسوقت تک چلتا رہا جب تک والد صاحب بھلے چنگے ہو کر گھر واپس نہیں آ گئے ۔ پھر آخر تک ساتھ اسطرح نبھا کہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پہلو بہ پہلو جا سوئے ۔
بچپن کی ایک رات ماں جی کے پیٹ میں اچانک درد اٹھا ۔ ایسے میں وہ صرف کوکا کولا پیتی تھیں ۔ کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو وہ سو گئیں ۔ میں دبے پاوں ان کی پائنتی کھڑا ہو گیا ۔ نجانے کیوں آنکھیں بھر آئیں ۔ آنسووں کی جھڑی لگی تو ہچکی بندھ گئی ۔ ماں جی اٹھیں مجھے سینے سے لگایا اور کہا بہادر بچے روتے نہیں ۔ وہ رات مجھے بھول گئی تھی ، ماں جی کو یاد تھی ۔ بچھڑنے سے کچھ دن پہلے ماں جی کے پاس بیٹھا تو بچپن کی باتیں چھڑ گئیں ۔ اس رات کا ذکر آیا تو ماں جی نے کہا اب تو بڑا ہو گیا ہے ۔ چھوٹا تھا تو اچھا تھا ۔ میں نے خفگی مٹاتے ہوئے کہا آپ بھی تو بستر پر لیٹی ہیں ۔ سینے سے نہیں لگاتیں ۔ ماں جی خود کو سمیٹتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور پھر پتہ نہیں کتنی دیر ہم ایک دوسرے کے ساتھ چپکے رہے ۔۔۔ لیکن ماں جی سچ کہتی تھیں میں بڑا ہو گیا یوں ، چھوٹا تھا تو اچھا تھا ۔۔ کم از کم رو تو لیتا تھا ۔۔۔
ماں جی کے ترکے سے ان کے سر کی چادر اور ایک جوڑی جوتا اپنے پاس رکھ لیا ہے ۔ میرا ایمان ہے کہ جوتا قدم قدم پر سیدھی راہ چلائے گا اور چادر تا روز محشر سر پر سایہ فگن رہے گی
انا للہ وانا الیہ راجعون



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر