عابد حسین قریشی
تقریباً ایک سو سال قبل شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے جب اپنی شہرہ آفاق نظم” شکوہ ” لکھی، تو ایک کہرام مچ گیا، مسجد و منبر سے غم و غصہ کا اظہار ہوا، عوامی جزبات بھی مچلے۔ کچھ نے اقبال کو سر پھرا اور کچھ نے کفر کے فتوے بھی دھر دیئے۔ دراصل علامہ اقبال مسلمانوں کی حالت زار سے اس قدر رنجیدہ و کبیدہ خاطر تھے۔کہ انکی مسلم امہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والی ساری شاعری رائگاں جاتی نظر آتی تھی، کہ بر صغیر کے مسلمان ہندو و انگریز کی غلامی کا طوق گلے میں سجائے اپنی غلامانہ حالت و کیفیت سے مطمئن نظر آتے تھے، تو علامہ اقبال نے براہ راست اللہ تعالٰی سے شکوہ کرنے کی جسارت کی۔ علامہ اقبال کے اندر جو جزبہ مستانہ اور جرآت رندانہ تھی، اور یہ جزبات مسلمانوں کی حالت زار کی سلگتی ہوئی آنچ سے دو آتشہ ہو رہے تھے۔ قدرت چونکہ نیتوں کا حال سب سے بہتر جانتی ہے، اسلئے اقبال کے شکوہ میں للکار اور جرات رندانہ پر پکڑ نہیں کی، بلکہ اسے ایک لازوال نظم بنا دیا۔ حالانکہ اقبال تو یہ بھی کہہ چکے تھے۔ “فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا۔ یا اپنا گریبان چاک یا دامن یزداں چاک۔ ” اور یہ بھی کہ. حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی۔ یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا۔ اردو ادب کی تاریخ میں شاید ہی کسی شاعر نے اتنی بیباکی سے قدرت کو مخاطب کیا ہو۔ مگر” شکوہ” میں تو اقبال کا رنگ اور اور طرز بیاں ہی الگ ہے۔ اس میں امنگ بھی ہے اور ترنگ بھی، جزبہ مستانہ بھی ہے، اور نعرہ رندانہ بھی، سنہرے ماضی کا بانکپن بھی ہے، اور حال کی کسمپرسی اور بدحالی کا رونا بھی۔ اگرچہ شکوہ میں بنیادی طور پر فریاد ہی کہ جارہی ہے ، مگر انداز واضح طور پر باغیانہ اور جارحانہ ہے۔ایک تڑپ اور برجستگی ہے۔ ایک طرف انداز التجا ہے، کہ۔ “”ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم۔ قصہ درد سناتے ہیں، کہ مجبور ہیں ہم۔ “” اے خدا شکوہ ارباب وفا بھی سن لے۔ خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔ “” اور پھر مسلمانوں کی راہ حق میں دکھائی گئی استقامت، جرات اور شجاعت کا ذکر کچھ یوں کیا۔ تجھ سے سرکش ہوا کوئی، تو بگڑ جاتے تھے، تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے ۔ نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے۔ زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے۔ آج ایک سو سال سے زائد عرصہ گزرنے پر عالم اسلام پر ایک سکوت طاری ہے، بلکہ پوری مسلم امہ باوجود عددی، مالی اور دفاعی وسائل رکھنے کے روبہ زوال ہے۔ لاپور شہر سے کم آبادی والے ملک اسرائیل نے ساری مسلم دنیا کو آگے لگایا ہوا ہے۔ غزہ کی سرزمین معصوم بچوں کے خون سے لت پت داستان الم بیان کر رہی ہے، بلکہ غزہ صفحہ ہستی سے مٹنے کو تیار ہے۔ آج کوئی علامہ اقبال جرات للکار کے ساتھ کوئی” نیا شکوہ” لکھنے والا بھی دستیاب نہیں۔ کہ اپنے جزب و مستی اور جرات رندانہ سے مسلم امہ کو جنجھوڑ ہی سکے۔ اور شاید علامہ اقبال نے اسی نظم شکوہ میں مستقبل کی مسلم امہ کی صورت گری کافی مایوسی اور اضطراب میں کچھ اس طرح کی تھی۔ تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے۔
شب کی آہیں بھی گیئں صبح کے نالے بھی گئے۔ دل تجھے دے بھی گئے، اپنا صلہ لے بھی گئے۔ آ کے بیھٹے بھی نہ تھے، اور نکالے بھی گئے۔ اور پھر آخر میں علامہ اقبال اللہ تعالٰی کے حضور کچھ اس طرح عرض پرداز ہوتے ہیں۔ “” مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے۔ مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دے۔ شکوہ میں علامہ اقبال کی تڑپ، درد، سوز و گداز، ببیباکی اور جرات اظہار ایک طرف مگر انہیں اندازہ تھا کہ وہ رب کائنات سے براہ راست مخاطب ہے، لہذا اپنا شکوہ کس دلنشین بلکہ پرنم آنکھوں سے کر رہے ہیں۔ کہ جب امید کی کرنیں بھی ماند پڑنا شروع ہو جائیں، تو الفاظ اسی دکھ اور کرب کے اظہار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ عہد گل ختم ہوا، ٹوٹ گیا ساز چمن۔ اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرواز چمن۔ اک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک۔ اسکے سینوں میں ہے، نغموں کا تلاطم اب تک۔



