چکوال شہر سے مغرب میں قریباً چالیس کلو میٹر دور ضلع کا اکلوتا دریا سواں بہتا ہے۔ یہ چکوال شہر سے اس کا قریب ترین فاصلہ ہے جو نیلہ کے تاریخی قصبہ کے پاس تک ہے۔ دریائے سواں ضلع چکوال میں ایک قوس کی شکل میں تقریباً ساٹھ میل تک بہتا ہے اور اسکے بعد ضلع اٹک کے قصبہ تراپ سے گزرتا ہوا ضلع میانوالی میں داخل ہو کر عظیم دریائے سندھ میں مدغم ہو جاتا ہے۔
دریائے سواں کو دریائے سندھ کے معاون دریا کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان پھیلے تقریباً اڑھائی سو کلو میٹر علاقے کا واحد بڑا دریا ہے۔ ان دو بڑے دریاؤں یعنی سندھ اور جہلم کے درمیانی علاقے کو مغلیہ عہد میں سندھ ساگر کا علاقہ کہا جاتا تھا۔ دریائے سواں بارانی علاقوں یعنی راولپنڈی، اٹک، چکوال کا واحد دریا ہے اور اس کا کچھ حصہ ضلع میانوالی کے بالائی علاقوں نکی ڈھوک بھرتھال سے بھی گذرتا ہے۔ میانوالی کے یہ علاقے بھی بارانی علاقوں میں ہی شمار ہوتے ہیں جن کے بعد دریائے سندھ اور اس کے اردگرد پھیلے علاقے جنوبی پنجاب سے ہوتے ہوئے بحیرہ عرب تک جاتے ہیں۔
دریائے سواں اپنا 250 کلو میٹر لمبا سفر ملکہ کوہسار مری سے پتریاٹہ کے مقام سے شروع کرتا ہے اور چھوٹا سا گاؤں “بن”وہ پہلا گاؤں ہے جو اس کے کنارے پر آباد ہے۔ دارلحکومت اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے سملی ڈیم کو پانی فراہم کرنے کے بعد یہ اپنے بچے کچھے پانیوں کو لے کر یہ تاریخی قلعہ پھروالہ کے قریب اونچی پہاڑیوں کو درمیان سے کاٹ کر اپنا راستہ بناتا ہے اور اس مقام کو “سواں کٹ” کہا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ کوئی بھی دریا یا ندی پہاڑیوں کو نہیں کاٹ سکتے چنانچہ دریائے سواں اس جگہ پر پہلے بہتا تھا جس کے بعد اس کے گرد پہاڑیاں زمین سے نمودار ہوئیں گویا دریائے سواں اپنے اردگرد کی پہاڑیوں سے بھی قدیم ہے۔ اس بات کو کئی ملین سال گذر چکے ہیں۔
سہالہ کے قریب کاک پُل تک پہنچتے دریائے سواں میں کئی چھوٹے بڑے ندی نالے شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔ سہالہ انڈسٹریل اسٹیٹ صنعتی فضلہ بھی اسی مقام پر اس میں شامل ہوتا ہے اور راولپنڈی شہر کا سیوریج کا پانی بھی۔ ماضی میں اس مقام پر ماہی گیر جال کے ذریعے اس دریا سے مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔ چند دہائیاں قبل تک راولپنڈی شہر کے لوگ بھی اس مقام پر کانٹے سے مچھلی کا شکار کرنے آیا کرتے تھے مگر اب اس قدیم تہذیب کے گہوارے کے پانی بے حد آلودہ ہو چکے ہیں۔
اس دریا میں اب بھی خال خال چینی روہو، سانپ مچھلی، بام مچھلی، کیٹ فش اور مہاشیر مچھلی موجود ہے اور مختلف انواع کے کچھوے بھی مگر آلودہ پانی کے سبب یہ سب معدومی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ کنگ فشر نانی پرندہ کبھی کبھار اس دریا میں شکار کرتا دیکھا جا سکتا ہے۔ دریائے سواں کے اردگرد پھیلے ناہموار علاقوں کے باعث اس دریا کا پانی زرعی زمینوں کی سیرابی کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی نہر نکالی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ مقصد اس کے آس پاس منی ڈیم بنا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ دریائے سواں کا 250 کلو میٹر لمبا سفر کالا باغ ڈیم کے لیے مختص کے گئے علاقے پیر پیاہی کے پاس ختم ہوتا ہے جہاں سے یہ دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔
نزع کے عالم میں موجود دریائے سواں کے کناروں پر قبل از تاریخ کے شواہد ملتے ہیں۔ یہ ایک قدیم تہذیب اور کلچر کا مرکز رہا ہے مگر اب یہاں کچھ نہیں اور یہ صرف “جدید تہذیب” کا کچرا بہانے کے کام آتا ہے۔ انسانی زندگی کے پاکستان میں قدیم ترین آثار دریائے سواں کے گرد ملے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دریائے سواں کے آس پاس پتھر کے دور کے قریب پانچ لاکھ سال پرانے انسان کے فاسل ملتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف خطہ پوٹھوہار بلکہ قدیم ترین انسان بھی اسی دریا کے گرد آباد تھے۔ اب تک پاکستان میں ملنے والے قدیم ترین پتھر کے اوزار راولپنڈی میں مورگاہ کے قریب سے ملے ہیں ۔
تاریخ دانوں کا یہ ماننا ہے کہ دنیا کا قدم ترین انسان جو مل جُل کر رہتا تھا وہ دریائے سواں کے کناروں پر موجود تھا اور انہی انسانوں نے وہ کلچر پروان چڑھایا جسے آج ہم وادی سواں کی ثقافت کہتے ہیں۔ سواں کے آس پاس سے عظیم الجثہ جانوروں کے فاسل بھی ملے ہیں۔
ضلع چکوال میں سے دریائے سواں ضلع اٹک کی سرحد سے قصبہ ملتان خورد(جبی شاہ دلاور) کے پاس سے قصبہ ”تراپ“ کے مقام پر داخل ہوتا ہے۔
دریاے سواں کے کنارے آباد اٹک کے قصبے تراپ اور چکوال کے گاوں شاہ محمد والی کے مابین 2011 میں دریاے سواں پل بنایا گیا تھا جس کے باعث تراپ سے تلہ گنگ شہر کا فاصلہ محض پچاس کلو میٹر رہ جاتا ہے۔ پل بننے سے پہلے دریاے سواں کے تقریباً 3000 فٹ چوڑے پیٹ کو پیدل عبور کیا جاتا تھا جبکہ طغیانی کے موسم میں علاقہ تراپ و امن پور کے مکین براستہ پنڈیگھیب تقریباً 140 کلومیٹر کا سفر کر کے تلہ گنگ پہنچ پاتے تھے۔ بعد ازاں غالباً 2001ٕ میں اس مقام پر کیبل کار کا انتظام ہوا جس سے تراپ اور شاہ محمد والی کا سفر بذریعہ کیبل کار سے کیا جاتا تھا اور وہاں سے تلہ گنگ، راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک سفر کیا جاتا تھا۔ تراپ پل سے میانوالی اور بنوں کے شہر کا فاصلہ بھی کم ہو کر رہ جاتا ہے۔ دریائے سواں چکوال شہر سے 48 کلو میٹر دور واقع حاصل گاؤں کے عین سامنے بہتا ہے اور یہاں اس کا پاٹ مختلف مقامات پر 1200 سے 3500 فٹ تک چوڑا ہے۔ بارش کے موسم میں یہاں دریائے سواں سے پیدل گزرنا مشکل ہوتا ہے چنانچہ یہاں کے مکینوں نے دریائے سواں عبور کرنے کے لیے چیئر لفٹ لگا رکھی ہے۔ یہ چیئر لفٹ 2007ء میں لگائی گئی تھی اور قبل از گاؤں کے باسی مون سون کے موسم میں دریا تیر کر عبور کرتے تھے۔ چیئر لفٹ خراب ہونے کی صورت میں حاصل قصبہ کے باسی دریائے سواں کے مشرقی کنارے پر آنے کے لیے کشتیاں استعمال کرتے ہیں۔ یہ صورتحال چند سال قبل تک موجود تھی اور اب اس مقام پر بڑا پل بنانے کا منصوبہ ہے۔
چکوال میں دریائے سواں کے کنارے قصبہ نیلہ کے پاس نیلہ ڈھیری کے مقام پر علاقہ کہون کے ذیلدار راجا مل کی فوج اور کابل کے والی معیز الدین کے درمیان جنگ کا ذکر ملتا ہے۔ یہ جنگ 1185ء میں ہوئی جس میں کابل کے والی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سواں دریائے سندھ کا معاون دریا ہے۔ چکوال کا قصبہ اوڈھروال ایسا مقام ہے جہاں سے ضلع چکوال کا پانی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہاں سے ضلع کے مشرقی حصے کا پانی مختلف ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریائے جہلم میں جا گرتا ہے جب کہ مغربی حصوں کا پانی مختلف ندی نالوں سے ہوتا ہوا پہلے دریائے سواں میں گرتا ہے اور وہاں سے قریب کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔
دریائے سواں کے متعلق گزیٹیئر آف جہلم 1904ء میں لکھا ہے کہ
“سندھ اور جہلم کے آب فاصل ان نالوں میں شاید سب سے زیادہ قابل غور چیز جہلم اور سندھ کے درمیان آب فاصل کا مخصوص رجحان ہے۔ یہ خیال آنا فطری ہے کہ کوہ نمک کی ایک ڈھلوان کا پانی ایک دریا میں اور دوسری کا دوسرے دریا میں جاتا ہو گا لیکن ایسا نہیں ہے۔ فاصل آب (واٹر شیڈ) کی لائن تحصیل کے عین اندر سے گزرتی اور پھر چکوال قصبے میں سے سارے مشرقی کوہ نمک میں سے ہو کر جاتی ہے”
“ضلع کے جس حصے کا پانی دریائے سندھ میں گرتا ہے وہاں زیادہ تر نالے کوہ نمک کی شمالی ڈھلوانوں سے نیچے آتے اور سب کے سب بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر سواں میں گرتے ہیں جو خود بھی دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ سواں راولپنڈی ضلع سے اس ضلع میں آتا ہے اور پھر تقریباً 60 میل تک ان دونوں کے درمیان اندازاً سرحد تشکیل دیتا ہے۔ یہ بہت دھوکے باز نوعیت رکھتا ہے۔ ایک رات کو بالکل سوکھا جبکہ اگلی صبح کو اتنے زیادہ پانی کا حامل ہوتا ہے کہ مشک کے بغیر اسے پار کرنا ممکن نہیں ہوتا اور اکثر یہ دھسانی ریت سے بھرا ہوتا ہے۔ ضلع جہلم (اب چکوال) میں اب کو پانی مہیا کرنے والے اولین نالے کڑاہی، بھگناؤ اور سوج ہیں جو سبھی قصبہ دلہہ کے قریب ملتے ہیں اور چوتھا نالہ راولپنڈی کی طرف سے آتے ہوئے اس میں ملتا ہے۔ یوں اس سنگم کے مقام کا نام پچنند یعنی پانچ ندیاں پڑگیا”۔
پانچ ندیوں کے اتصال والے مقام پچنند کے بارے ایک کہاوت بھی تاریخ کی کتب میں درج ملتی ہیکہ!
کرڑ کڑاہی بھگنا_نیلہ والی دند
اَدھا رُوپ ولایتی اَدھا رُوپ پچنند
چکوال میں دریائے سواں کا سب سے دلکش نظارہ قصبہ نیلہ کے بلند ترین حصے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیلے پر پولیس ریسٹ ہاؤس اور پولیس اسٹیشن نیلہ کی عمارت بھی ہے۔ یہ عمارت 1892ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ نیلہ دریائے سواں اور پُلہارن ندی کے سنگم پر آباد ہے۔ علاقہ دھن کی مشہور لوک کہانی شیریں فرہاد اسی قصبہ سے منسوب ہے۔ شیریں فرہاد سے منسوب قبریں بھی ایک بلند ٹیلے پر موجود ہیں تاہم اس کہانی کے یہاں وقوع پذیر ہونے کے کوئی ٹھوس تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔ تھانہ نیلہ کی عمارت جس بلند ٹیلے پر واقع ہے اس پر کھڑے ہو کر دریائے سواں کا منظر دور دور تک دیکھا جا سکتا ہے اس ٹیلے پر بے شمار پتھر اور ٹھیکریاں بکھری ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پر کسی زمانے میں کوئی آبادی موجود تھی۔ دریائے سواں کی ریت سے سونا تلاش کرنے والے بھی کچھ سال قبل تک سرگرداں رہتے تھے مگر اب یہ کام بہت محدود ہو چکا ہے۔ اب دریائے سواں سے بس ریت اور گیڑہ کنکر ہی نکالے جاتے ہیں جو تعمیرات میں استعمال ہوتے ہیں۔
دریائے سواں اب نزع کے عالم میں ہے اس کے پانی اپنا جوش کھو چکے ہیں کبھی اس دریا کے ذریعے تجارت بھی ہوتی تھی اور اس کا چوڑا پاٹ اور گہرے پانی راولپنڈی سے کشتیوں کو قصبہ نیلہ تک لاتے تھے۔ قصبہ نیلہ قیام پاکستان سے پہلے بڑی تجارتی منڈی تھا اور یہاں کے تاجر قالین اور اشیائے خوردو نوش کی تجارت کے لیے مشہور تھے۔ نیلہ کے اکثر تاجر ہندو تھے اور ان کی تجارت کا بڑا حصہ دریائے سواں کے ذریعے سر انجام پاتا تھا ۔
دریائے سواں چکوال میں قریباً 85 کلو میٹر بہتا ہے۔ اس کے کناروں کے گرد بعض مقامات جنگلی حیات کی افزائش کے لیے بہترین ماحول ہے۔ قریباً ڈھائی سو کلو میٹر لمبے اس دریا کے گرد مختلف مقامات پر سمال ڈیم بننے سے اس میں پانی کی مجموعی آمد سخت متاثر ہوئی ہے۔ اس دریا میں ماضی میں بڑی تعداد میں آبی حیات تھی جو اب قریباً معدوم ہو چکی ہے۔ دریائے سواں کافی حد تک سُکڑ چکا ہے چند عشروں بعد قدیم ترین انسانی تہذیب وتمدن کا گہوارہ دریائے سواں شاید مکمل معدوم ہو جائے اور یہاں اس کے پانیوں کے نیچے بچھی ریت ہی رہ جائے جو آئندہ نسلوں کو بتائے گی کہ یہاں کبھی ایک دریا بہتا تھا۔



