راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) میڈیا ٹاؤن اے بلاک میں سینئر صحافیوں اصغر چوہدری (ڈیلی ڈان) اور لطیف چوہدری (اے پی پی) کو پلاٹ نمبر 334/335 سے محروم کیے جانے کے خلاف دائر پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی ڈاکٹر ایمان نے تفصیلی انکوائری کی۔
انہوں نے پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن، پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (فاطا)، کواپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کے ہمراہ میڈیا ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر میں ریکارڈ کا معائنہ کیا، اہم سوالات اٹھائے اور بعد ازاں متنازعہ پلاٹس کا سائٹ وزٹ بھی کیا۔پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکرٹری طارق چوہدری نے انکوائری کے دوران بتایا کہ سوسائٹی کے پاس منظور شدہ لے آؤٹ پلان (LAYOUT PLAN) کی تصدیق شدہ کاپی موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو اس حوالے سے خط لکھ چکے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوسائٹی نہ تو لے آؤٹ پلان تبدیل کر سکتی ہے، نہ پلاٹ الاٹ کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی پلاٹ کو منسوخ کر سکتی ہے۔انکوائری کے دوران سوسائٹی کے نمائندے نے انکشاف کیا کہ اے بلاک میں پانچ سے چھ کنال پر تعمیر شدہ’جموں ہاؤس‘ کی عمارت منظور شدہ نہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا گیا کہ پٹیشنرز کو لے آؤٹ پلان کے مطابق پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے اور پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی نے انہیں قبضہ بھی دیا تھا۔ تاہم بعد میں لے آؤٹ پلان میں تبدیلی کرکے مذکورہ پلاٹوں کی نمبرنگ بدل دی گئی اور یہ پلاٹس ختم کر دیے گئے۔
سائٹ وزٹ کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ایمان کے حکم پر جموں ہاؤس کی عمارت، اس کے لان اور دیگر تعمیرات کی پیمائش کی گئی۔ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ اس لین میں 9 پلاٹس تھے، جن میں سے چار پلاٹس پر چار گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی پانچ پلاٹس پر جموں ہاؤس اور اس کے لانز تعمیر کر دیے گئے ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ایمان نے اپنی انکوائری مکمل کر لی اور وہ اس کی رپورٹ بدھ، 12 فروری کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد حسن کی عدالت میں پیش کریں گی۔
عدالت نے اس کیس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب کو بھی سماعت پر طلب کر رکھا ہے۔یہ کیس میڈیا ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹوں کی غیر قانونی تبدیلی اور الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں سے متعلق ایک اہم قانونی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں دیگر پلاٹ مالکان اور سوسائٹی ممبران پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



