کیا ہماری عدلیہ سے آزادی چھینی جا رہی ہے، یا یہ خود سرنڈر کر چکی ہے

عابد حسین قریشی

ہماری عدلیہ کی تاریخ دلچسپ بھی، قابل فخر بھی اور شرمناک بھی۔ قیام پاکستان کے فوری بعد قائد اعظم کی رحلت اس نو زایئدہ ملک کو بغیر کسی آئین اور پٹری پر چڑھائے ایک قومی سانحہ تھا۔ پھر یکا یک محلاتی سازشوں کا دور شروع ہوا۔ ہر طاقتور نے اس ملک کو کسی قانون قاعدہ سے ڈی ریل کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈالا۔ سول و خاکی اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحہ پر نظر آئیں اور عدلیہ نے نظریہ ضرورت تخلیق کرکے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اور پھر کافی عرصہ تک یہ ملک بغیر کسی آئین کے ہی چلتا رہا۔ چشم فلک نے یہ بھیانک منظر اس ملک میں بار بار دیکھا، کہ جب بھی کبھی ملک میں مارشل لا لگا، آئین منسوخ یا معطل ہوا یا بنیادی انسانی حقوق معطل ہوئے، عدلیہ نے نہ صرف فوری طور پر ڈکٹیٹرز کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرکے دوام بخشا۔ بلکہ کمال فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ڈکٹیٹرز کو من مانی آئینی ترامیم کا اختیار بھی بخشا۔لوگ مشکل ترین حالات میں عدلیہ کی طرف دیکھتے تو عدلیہ کا رخ انور ڈکٹیٹرز کی طرف ہوتا۔ اس دوران کچھ انفرادی طور پر ججز نے مزاحمت ضرور کی اور اسکی پاداش میں عہدے بھی چھوڑے مگر مجموعی طور پر اس کے دامن پر داغ ہی لگتے رہے۔ اسی طرح کا ایک بڑا داغ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کا تھا۔ جسٹس مولوی مشتاق نے جس طرح اپنے ذاتی تعصب کو اس فیصلہ میں پرویا سپریم کورٹ کو پچاس سال بعد اسے صاف کرنا پڑا۔ڈکٹیٹرز کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر کبھی تو معاوضہ فوری کسی نئے عہدے کی صورت میں ملتا رہا اور کبھی خفیہ ڈیل ہی چلتی رہی۔ کئی ایک کو تو وعدہ فردا پر ٹال دیا گیا۔ گزشتہ 45 سال سے شعبہ عدل سے وابستہ ہونے کے باوجود اس بات کی سمجھ ہی نہ آسکی، کہ کیا جج سے بڑھکر بھی اس ملک میں کسی کی عزت کی جاتی ہے۔ یہ خواہ سول جج ہو یا سپریم کورٹ کا جج۔ لوگ اسے عزت و توقیر کی نظر سے ہی دیکھتے تھے۔ احاطہ کچہری میں جتنے بھی دفاتر ہوتے، اس میں عدالتوں کا ایک الگ وقار اور رعب ہوتا۔ لوگ انتظامی اور پولیس افسران کے ہر طرح کے قانونی اور غیر قانونی اقدامات کو عدالتوں میں اس امید سے چیلنج کرتے کہ یہاں غیر جانبدار اور آزاد لوگ بیٹھے ہیں، اور یہاں سے انصاف ضرور ملے گا۔ اور انصاف ملتا بھی تھا اور یہی وجہ تھی کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ہماری عدلیہ خاص طور پر ڈسٹرکٹ جوڈیشری بڑی تگڑی نظر آتی تھی۔ ہاں کبھی کبھار کسی سیشن جج کو انتظامیہ اور پولیس سے تعلقات کا شوق اس آزادی پر سوالیہ نشان چھوڑتا، مگر مجموعی طور پر عدلیہ کا perception بہتر ہی رہا۔ ہماری اعلٰی عدلیہ میں بھی کبھی جسٹس صمدانی، جسٹس شبیر، جسٹس کیانی اور جسٹس کار نیلیس پیدا ہوتے رہے۔ حال ہی میں جسٹس شاہد جمیل خاں نے اصولوں پر اپنا عہدہ چھوڑا۔

ہماری عدلیہ میں اب بھی کافی ججز جرآت، ہمت اور اسقامت سے انصاف کر رہے ہیں۔ مگر مجموعی تاثر یا perception دن بدن بگڑتا جا رہا ہے۔ ہزیمت اور ندامت کا سفر ڈھلوان کی طرف تیزی سے چل رہا ہے۔ گزشتہ دو تین سالوں میں تو تنزلی کا یہ سفر کچھ زیادہ سپیڈ پکڑ گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے شروع ہونے والی ججز کے درمیان چپقلش جب باقاعدہ گروپ بندی اور باہمی مناقشت میں تبدیل ہوئی، ہر آنے والے چیف جسٹس آف پاکستان کے دور میں یہ چپقلش باقاعدہ گروپ بندی، پارٹی بازی، اور دشمنی میں بدلتی چلی گئی۔ جہاں عدلیہ کو اکٹھے ہو کر ایگزیکٹو کو سخت میسج دینا تھا، وہاں کمزوری یا مصلحت دکھائی گئی۔وجہ وہی اندرونی خلفشار اور لڑائی تھی۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ، سیاستدان اور وہ حکومتی مشیران جو عدالتی نظام کی اندرونی کمزوریوں اور خامیوں سے بخوبی آگاہ تھے اور گھات لگائے بیٹھے تھے، انکے لئے تگڑی عدلیہ کے پر کاٹنے کی یہ مشکل مہم بڑی آسان ہو گئی، اور پھر کیا تھا، 26 ویں آئینی ترمیم کے سہارے عدلیہ کا سارا تفاخر، سارا clout اور سارا glamour اور سارا کرو فر چھین لیا گیا۔ اسی سپریم کورٹ کو جس کے خوف سے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوتا تھا، جس سے حکمران خوف زدہ رہتے تھے، اسے toothless بنا دیا گیا۔ اب سپریم کورٹ کا اصل اختیار اس آئینی بنچ کے پاس ہے، جس میں حکومت نے جوڈیشل کمیشن میں اپنے ووٹوں کی اکثریت سے ججز مقرر کرنے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت ججز کے ووٹ جوڈیشل کمشن میں اقلیتی بن چکے۔ تمام فیصلے اکثریتی رائے سے جو حکومت کے پاس ہے,ہو رہے ہیں۔ پہلے یہ پلڑا ججز کے پاس تھا۔ وہ کئی سالوں تک اپنی من مرضی کرتے رہے۔ میرے سمیت بہت سے دوست ڈسٹرکٹ جوڈیشری سے اس ججز کلب کا شکار ہوئے۔ حکومت جس کو چاہتی ہے جج مقرر کر رہی ہے اور جہاں چاہتی ہے وہاں کر رہی ہے۔ نہ کوئی انکار کر رہا ہے، نہ مزاحمت ، لوگ حیران اور وکلا پریشان، مگر جب عدلیہ نے خود مزاحمت کرنا چھوڑ دی ہے۔ باقی لوگ کیا کریں گے۔ اب یوں نظر آرہا ہے کہ عدلیہ سے آزادی چھینی نہیں جارہی، بلکہ یہ خود لمحہ بہ لمحہ سرنڈر کر رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ایک طویل عرصہ سروس کرنے کے بعد جب یہ خبر ملتی ہے کہ 160 سیشن ججز میں سے ایک بھی ہائی کورٹ کا جج نہیں بن سکا تو حیرت کے ساتھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔ لگتا ہے اب ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی معراج سیشن جج تک ہی ہے۔ اور آخر میں یہ درخواست کہ بندوں کا نہیں ادارے کا تحفظ ضروری ہے۔ مضبوط اور آزاد عدلیہ ہی ملک کی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے۔تقرریاں صرف میرٹ پر کی جائیں۔ میرا جج اور تیرا جج، عدلیہ کو کمزور سے کمزور تر کر دے گا۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر