سکندر اعظم، ہمارے حکمران اور سرکاری افسر

عابد حسین قریشی

سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا، کہ تو نے اتنی بڑی دنیا کیسے فتح کرلی، حالانکہ تجھ سے پہلے بادشاہ مال و متاع اور وسائل اور لاو لشکر میں تم سے کہیں بڑھ کر تھے، تو سکندر اعظم نے کیا خوبصورت جواب دیا کہ، اس نے جو ملک بھی فتح کیا، وہاں کے باشندوں کو نہ تنگ کیا، نہ ہی گزرے ہوئے لوگوں اور حکمرانوں کی عمدہ اور اعلٰی روایات اور کارناموں کو منسوخ کیا۔ بلکہ گزشتہ بادشاہوں کی اچھی اور متاثر کن باتوں کو حتی الامکان قائم رکھا۔ یہ ہے وہ راز سکندری جس سے اس نے پوری دنیا کے تاج و تخت گرا دئیے اور ایک کامیاب حکمرانی کا بہترین تصور بھی پیش کیا۔ اب اس کا تقابل اپنے ملک سے کرتے ہیں، تو یہ دیکھ کر حیرانی کے ساتھ پشیمانی بھی ہوتی ہے، کہ یہاں بر سر اقتدار آنے والا ہر حکمران اپنے سے پہلے حکمرانوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو اچھالنا اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔ ہر صورت میں اپنے پیشرو حکمرانوں میں نقص ڈھونڈنا، اسکی تشہیر کرنا، جھوٹے سچے الزامات لگانا، کردار کشی کرنا اور ایسے اچھے کاموں کو جو پہلے حکمران کر گئے انہیں روکنا یا reverse کرنا۔ یہ کونسا انداز حکمرانی ہے۔ میں نے اپنے ہوش و حواس کے ساتھ گزشتہ 40/50 سال میں کسی حکمران کو اپنے سے پہلے حکمران کی تعریف تو دور کی بات ہے، کسی اچھے اور عوامی بہبود کے منصوبے کو جاری رکھتے بھی نہیں دیکھا۔ یہ عجب مائنڈ سیٹ صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہ ہے۔ بلکہ یہ جرثومہ ہماری قومی نفسیات میں اس بری طرح سرایت کر گیا ہے، کہ کوئی بھی شعبہ زندگی اس سے بچ نہیں سکا۔ اپنی طویل عدالتی سروس کے دوران شاید کوئی ایک آدھ ہی مرد قلندر ملا ہو، جو اس اخلاقی بیماری سے مبرا ہو، ورنہ کم ہی دیکھا کہ کوئی اپنے پیشرو کو اچھے الفاظ میں یاد کرتا ہو۔ بعض دفعہ تو کسی پیشرو کا ذکر کراہت سے اور بعض دفعہ حقارت بھری مسکراہٹ سے اور کئی دفعہ شرارتی مسکان سے ذکر خیر ہوتا رہا۔اپنے کسی پیشرو کی کوئی غلطی پکڑ کر جو فاتحانہ مسکراہٹ چہروں پر سجتی ہے، اس سے صرف وہی لطف اندوذ ہو سکتے ہیں جو شریک محفل ہوتے ہیں۔ صرف عدلیہ ہی اس سے متاثر نہیں، ہم نے انتظامیہ اور پولیس میں بھی کم و بیش یہی چلن دیکھا۔ ہم نے تو ایسے افسران بھی دیکھے جنہیں اپنے کسی پیشرو کا نام کسی تختی یا دیوار پر کندہ نظر آیا تو چہرہ مبارک پر ناگواری کے اثرات فوری ابھرے۔اور پوری سرعت سے کوشش کی گئی کہ یہ نام جتنی جلد آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ کسی وکیل نے اگر غلطی سے وہاں ماضی میں تعینات رہنے والے جج یا کسی دیگر افسر کا ذکر خیر کیا تو طبیعت میں فوری انقباض کی کیفیت ابھری۔ ہم نے ایک اور ناپسندیدہ حرکت بھی دیکھی کہ ہر محکمہ کے افسر اعلٰی کی تبدیلی کے ساتھ ہی سابقہ دور کے لگائے گئے سبھی یا اکثر ضلعی اور دیگر اہم عہدوں پر لگے افسر فوری تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ ایسا تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ پہلے سے تعینات کئے گئے لوگ یا تو نااہل تھے یا کرپٹ۔ اور بہتر لوگ ہم ہی لگا سکتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو یہ تاثر ابھرا کہ نئے آنے والے پرانوں کے بارے میں علامہ اقبال کے اس خیال کے حامی ہیں۔ کہ” جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو۔” ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، کیا ہم کوئی نفسیاتی مریض ہیں، کسی احساس کمتری کا شکار ہیں، اپنے سے پہلے حکمرانوں یا افسروں کی تضحیک کرکے کیا ہمیں ذہنی سکون ملتا ہے۔ کیا اس طرح زیادہ عوامی پذیرائی ملتی ہے، کیا کسی انا کی تسکین ہوتی ہے، کیا ہمارے geans میں کوئی خرابی ہے، یا ہمارے دھرتی کے خمیر میں کوئی ایسی بات ہے۔ کچھ تو ہے جو ہمیں کامیاب راز حکمرانی کی بجائے ناکام و نامراد حکمران بنا دیتا ہے۔ ابھی پچھلے چھ سات سال کا عرصہ صرف حکمرانوں نے اور ہر حکمران سیاسی جماعت نے اپنے سے پہلے والوں کو برا بھلا کہنے میں، کردار کشی اور الزامات لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ سوال کسی حکمران سے ملک میں مہنگائی، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا ہو، یا لا اینڈ آرڈر کی ابتری کا ہو، جواب پچھلے حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کا آئے گا۔ ذرا اور پیچھے جائیں تو سابقہ حکمرانوں کی چور اور ڈاکو کی گردان کانوں میں رس گھولے گی۔ اور اب دوسروں کو موقع ملا ہے تو وہ ہر بات کی تان پچھلی حکومت کی ناکامی پر ختم کرتے ہیں۔ بات عقل و شعور سے بالا تر ہے، کہ اچھے خاصے کامیاب منصوبے اور پراجیکٹ ہم اسلئے بند کر دیتے ہیں، کہ یہ کسی دیگر حکمران نے شروع کئے تھے اور اسکا کریڈٹ کیوں اسے جائے۔ بعض اوقات تو نام بدل کر وہی منصوبہ جاری رکھا جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ کریڈٹ لینے کی دوڑ میں کیا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس طرح کا کریڈٹ لینے والے اپنی نظروں میں اور عوام کی نظروں میں ڈس کریڈٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر