مقام مولا علی مرتضٰی علیہ السلام

عابد حسین قریشی

ویسے تو دنیا میں اربوں کھربوں انسان پیدا ہوئے اور تا حشر پیدا ہوتے رہیں گے، مگر بعض ہستیاں کسی مخصوص کردار کو ادا کرنے کے لئے پیدا کی جاتی ہیں۔ مولا علی علیہ السلام انہی نایاب اور باکمال ہستیوں میں سے ہیں، کہ جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھائی بنا کر، داماد رسول بنا کر، بازوئے شمشیر زن بنا کر، نبی مکرم کے دکھ سکھ کا ساتھی بنا کر، نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظتی دیوار بنا کر اور آپکا ایک سچا اور کھرا دوست و غمگسار بنا کر پیدا کیا۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی مولا علی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربت اور نسبت دوستی اور بھائی چارہ سے بڑھ کر ایک محافظ اور جان نثار سپاہی کی تھی۔ جب نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقاعدہ نبوت کا اعلان کیا تو علی تو پہلے ہی اس قافلہ حق کے رفیق تھے اور وہ تو پیدا ہی خانہ کعبہ میں ہوئے اور آغوش رسالت ماب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آنکھ کھولی۔ وہ تو پہلے مسلمان نہ تھے بلک پہلے سے ہی مسلمان تھے۔ مولا علی کا ماتھا تو اللہ تعالٰی کے سوا کسی کے آگے سجدہ ریز نہ ہوا ، نہ ہی کبھی انکی کوئی سانس یا لمحہ کسی شرک سے آلودہ ہوا۔ سب سے پہلے نماز بھی تو مولا علی نے ہی آقا کریم کے ساتھ ادا کی۔ وہ کیا منظر ہوگا جب آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم سخت مجبوری مگر دل گرفتگی میں مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے، اور اپنے بستر پر مولا علی کو سلا رہے تھے، کہ کفار مکہ کو تسلی رہے کہ بستر رسول پر کوئی سو رہا ہے۔ ویسے تو بستر رسول پر سونا ہی ایک سعادت اور خوش بختی کا استعارہ تھا، مگر اس خوف و وحشت کی کیفیت میں پورے آرام اور شان سے بستر رسالت پر سونا علی ہی کا ستارہ تھا۔ اور تاریخ نے دیکھا کہ علی کی اپنے نبی اور دین کے لئے یہ کوئی آخری آزمائش نہ تھی۔ بلکہ مجسم وفا و ایثار مولا علی تو ہر معرکہ میں ، ہر مشکل میں، ہر محاذ پر اور ہر میدان میں ایک چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ نہ پائے استقامت میں لغزش آئی، نہ کسی مصلحت کوشی نے کام دکھایا۔ بس وفا تھی، ایثار تھا، شجاعت تھی، امانت تھی، صداقت تھی، عدالت تھی، سخاوت تھی، ہر میدان اور ہر موقع پر مولا علی سرخرو رہے۔ بدر کا میدان ہو، یا احد کے پہاڑ، یثرب کی خندق ہو یا خیبر کا قلعہ، علی کی تلوار مردانہ وار اور دلیرانہ انداز میں چلتی ہے۔ وہ کونسا کافر سردار ہے، وہ کونسا مشرک شہسوار ہے، وہ کونسا جری دلاور ہے وہ کونسا دیو ہیکل پہلوان ہے ، جو علی کی شمشیر ذوالفقار سے بچ سکا۔ صرف جنگ بدر میں ہی علی کی تلوار کی زد میں اٹھارہ انیس کفار مکہ آئے اور ان میں انکے بہت سے منہ زور سردار بھی تھے جو مولا علی کے وار سے واصل جہنم ہوئے۔ ۔ اور ان سرداران قریش کی ہلاکتیں کفار مکہ کے دل و دماغ میں اسطرح پیوست ہوئیں کہ مدتوں انکے زخم مندمل نہ ہو سکے۔ مولا علی نے ان تمام جنگوں میں صرف بہادری کے جوہر ہی نہیں دکھائے بلکہ وہ محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محافظ اور حفاظتی شیلڈ بن کر بھی نظر آتے رہے۔ میرا یہ پختہ یقین ہے، کہ مولا علی علیہ السلام ،اللہ تعالٰی کی طرف سے خصوصی طور پر تیار کردہ ایک ایسا کریکٹر تھے کہ تاریخ اسلام دوسرا علی نہ پیدا کرسکی، نہ ڈھونڈ سکی، نہ دیکھ ہی سکی۔ بات صرف چچا زاد بھائی یا دوستی تک محدود نہ رہی، بلکہ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سب سے قیمتی متاع حیات اپنی لخت جگر سیدہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بھی علی کی زوجیت میں دے دیا۔ نبی آخری الزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو نسل بھی اسی بیٹی بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے چلنا تھی اور اللہ تعالٰی تو سورہ کوثر میں اسکا اشارہ بھی دے چکے تھے، تو پھر یہ بندھن اور یہ قرابت داری کس قدر مقدس و معتبر تھی، کہ مولا علی کو بھی اس چادر کے نیچے بٹھا کر سرور کونین نے دنیا کو یہ خوشخبری سنائی، کہ یہی میرے اہل بیت ہیں۔ یہ وہی علی ہیں، جنکا غدیر خم کے مقام پر آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ فضا میں بلند کرکے فرمایا کہ جسکا میں مولا ، اسکا علی مولا، اور یہ وہی مولا علی ہیں جن کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ علی کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ اور یہ کہ جنت میں علی کا گھر میرے گھر کے ساتھ ہوگا۔ مولا علی کی فضیلت میں اتنے اقوال رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہ کئی کتابیں ان پر لکھی جا سکتی ہیں۔ مولا علی کی فضیلت کیا یہ کم ہے کہ کعبہ کے اندر پیدائش ہوئی اور مسجد میں شہادت، کیا داماد رسول کی نسبت کے ساتھ مولا علی کا حسنین کریمین کا والد ہونا بھی ایک بڑی نسبت اور سعادت نہیں ہے، کہ مولا علی ان حسنین کریمین کے والد ہیں جن سے نسل رسول آخر الزماں صل للہ علیہ وآلہ نے آگے چلنا تھا۔ اور جنہوں نے لازوال قربانی دیکر اسلام کو تا قیامت زندہ و پائندہ کر دیا۔ نبی آخری الزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ اور مولا علی نے فرمایا کہ مجھے جو کچھ بھی ملا میرے رسول مکرم سے ملا اور آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم یوں سکھایا جیسے پرندہ اپنے بچے کو دانا کھلاتا ہے۔ کیا عجز و نیاز ہے، کیا حکمت و دانائی ہے، کیا دانش و دلربائی ہے، کیا دونوں ک تعلق میں دلبری اور شناسائی ہے, اور کیا شان مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور کیا مقام علی مرتضٰی ہے۔ سبحان اللہ۔ تاریخ اسلام مولا علی علیہ السلام جیسا جری، بہادر اور مجسمہ اخلاص و مروت نہ ڈھونڈ سکے گی۔ کہ جسکی زندگی کا مقصد دین اسلام کی سر بلندی، عظمت توحید اور وفائے رسالت تھا۔ وہ علی جو نان جویں کھا کر بھی اس قدر طاقتور تھا کہ صحرائے عرب کا کوئی طاقت و قوت سے بھرپور جوان، لڑنے والا یا پہلوان یا طاقت کے گھمنڈ سے سرشار کوئی بھی سر پھرا، نہ علی کو بچھاڑ سکا، نہ علی کے سامنے ٹھہر سکا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اللہ تعالٰی نے اسلام کو علی کی تلوار سے تقویت دی۔ رہا کردار علی تو قیامت تک تاریخ اس کردار اور اس جانثار رسول پر رشک کرتی رہے گی۔ مولا علی تو اپنے لازوال و تابناک کردار سے تا ابد دلوں پر حکومت کرتے رہیں گے۔ اسلام مولا علی اور انکے خانوادہ کی قربانیوں کا مقروض رہے گا، کہ کسی نے دین بچانے کی خاطر اہل بیت اطہار سے بڑھ کر کیا قربانی دی ہوگی۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر