اتنی گراوٹ بھی ٹیھک نہیں

تحریر: عابد حسین قریشی

چند روز قبل معروف دانشور اور کالم نگار پروفیسر توفیق بٹ کے ایک کالم میں جب یہ فقرہ نظر سے گزرا” کہ پہلے لوگ گھر کی گندی باتیں چھپاتے تھے، اب اس سے کماتے ہیں۔ “” تو ایسے لگا کہ توفیق بٹ صاحب نے اس معاشرہ پر بڑی گہری چوٹ لگائی ہے۔ اس سوشل میڈیا نے واقعی ہمیں بیچ بازار ننگا کرکے کھڑا کر دیا ہے۔ جو بات کبھی عزت و ناموس کے نام پر چھپانے کے لاکھ جتن کئے جاتے تھے، وہ اب سوشل میڈیا پر کبھی Reel کی صورت، کبھی ٹک ٹاک کی شکل میں، کبھی کسی وی لاگ اور کبھی یو ٹیوب اور فیس بک پر وہ سارے مناظر عجب ذوق و شوق بلکہ دھڑلے سے دکھائے جاتے ہیں کہ بعض اوقات دیکھنے والے شرمندہ ہو رہے ہوتے ہیں۔ کیا وقت ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں، کہ جو باتیں لوگ گھر کی چار دیواری میں دروازے بند کرکے کرتے ہوئے بھی احتیاط یا حجاب رکھتے تھے، آج سر عام دھڑلے سے کی جاتی ہیں۔ اب نہ کوئی پرائیویسی، نہ رازداری، نہ حجاب نہ پردہ داری، سب کچھ کھلے عام اور سر عام۔ بہت کچھ شوقیہ اور کچھ کچھ مال بنانے کے لئے بھی۔ جو باتیں زوجین کے مابین بھی بہت پرائیویٹ ہوتی تھیں، وہ بھی اب روپیہ کمانے کے چکر میں کھول کر سوشل میڈیا کی نزر کی جاتی ہیں۔ عورت کی آزادی اور اسکے حقوق اپنی جگہ مسلمہ اور قابل احترام مگر عورت کی عصمت و نسوانیت کو ہی اس سوشل میڈیا پر شہرت و دولت کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ عورت کی نسوانیت اور عزت کو سوشل میڈیا پر صرف بیچا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے باقاعدہ بلیک میل بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس قبیح حرکت میں اسکے وہ رشتے بھی شامل ہوتے ہیں، جن کا تقدس بڑا معتبر ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ کیا معاشرہ میں روپے پیسے کی دوڑ میں جائز ناجائز کی تمیز ختم ہوچکی، یا شہوت رانی کی ہوس منہ زور ٹھہری، معاشرہ میں اخلاقی اقدار زوال پزیر ہوئیں یا لوگ مزہب سے دور ہوتے گئے۔ ماڈرن ازم حاوی آگیا یا آزاد خیالی غلبہ پاگئی۔ قانونی ضابطے کمزور ہوئے یا قانون کا نفاذ کرنے والے کمپرومائزڈ ہوئے، لوگ منہ زور ہوگئے یا معاشرتی بے حسی غالب آگئی۔ معاشرہ میں بزرگوں اور استادوں کے ادارے کمزور ہوئے یا محراب و منبر سے اٹھنے والی صدائیں کمزور ہوئیں۔ جو بھی وجہ ہے، مگر ہے باعث شرمندگی و عار کہ جو کسی زمانے میں لوگ گندی اور قابل اعتراض باتیں چھپاتے تھے، لوگوں نے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ لمحہ فکریہ تو ہے۔اور یہ بات دلوں پر دستک بھی دیتی ہے اور دلوں میں چھبتی بھی ہے۔ کہ ہماری نسل جس نے ایک پرسکون اور شرم و حیا والا معاشرتی دور دیکھا تھا، وہ ان خوبصورت اور قابل رشک روایات کو بکھرتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ یہ گراوٹ اور تنزلی راتوں رات تو نہیں آئی۔ حزیمت و پسپائی کی داستان طویل بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ سوشل میڈیا تو انفرمیشن اور ترقی کے دروازے کھولنے والا تھا۔ ہم نے اسے صرف Entertainment تک محدود کردیا۔ اس میں بھی جنسی ہوس پرستی اور بے حیائی جنس نقد ٹہھریں۔ حزیمت اور گراوٹ کا سفر بڑا شرمناک ہے۔ بڑا تکلیف دہ ہے۔



  تازہ ترین   
چین اور پاکستان ہر موسم کے سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں، چینی سفیر
محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ
نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چند دنوں میں ایران سے متعلق پیشرفت کا دعویٰ
شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی
ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا: کینیڈین وزیراعظم
سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف
سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر