عابد حسین قریشی
اکیسویں صدی، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، چاند پر انسانی قدم رکھنے والی کہانی بھی پرانی ہوچکی۔ انسان نے خلاؤں کو مسخر کر لیا۔ ماڈرن دنیا میں شاید انٹر نیٹ سب سے بڑی ایجاد تھی، کہ جس نے انسانی زندگی کے سارے رخ ہی تبدیل کر دیئے۔ زندگی کے بہت سے ضروری کام انسانی یا manual ہاتھوں سے نکل کر انٹر نیٹ پر شفٹ ہو گئے۔ سچی بات تو یہ ہے، کہ انٹر نیٹ نے ہماری زندگی کا رہن سہن ، ہماری طرز معاشرت، ہماری تہزیب، ہماری معشیت اور ہمارے کاروبار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہمارے سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر، بنک، ہمارا نظام تعلیم، ہمارا کارپوریٹ سیکٹر، سبھی تو انٹر نیٹ پر منتقل ہوکر دنیا سے مسابقت میں چل پڑے۔ کبھی ہمارے یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ work from home کا دور بھی آئے گا۔ لوگ پاکستان میں بیٹھ کر امریکہ اور برطانیہ سے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں اور اس طرح کی فضا میں اچانک ہماری اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ فتوٰی نما اعلان کہ بذریعہ VPN نیٹ یا X کا استعمال خلاف اسلام ہے، جگ ہنسائی ہی تو ہے۔ حکومت کے اپنے وزراء بھی اس انوکھے اعلان پر انگشت بدنداں ہیں۔مولانا طارق جمیل نے بھی اس اعلان اور فتوٰی کی مذمت کی ہے۔ اور اس پر حیرانگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ بنیادی طور پر 1973 کے آیئن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام کی بنیادی غرض و غایت یہ تھی کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بن سکے۔ اور اس قسم کے ہر طرح کے قانون کا یہ کونسل جائزہ لےسکتی تھی۔ مگر VPN یا X یا انٹر نیٹ یہ تو کسی پاکستانی پارلیمنٹ نے نہیں بنایا۔ یہ تو ماڈرن devices ہیں جو ہر طبقہ فکر کے لوگ مختلف کاروباری، تعلیمی، معلوماتی اور تفریحی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، سوشل میڈیا کا حصہ ہونے کی بنا اس پر اچھا برا ہر طرح کا مواد ہوتا ہے۔ یہ تو استعمال کرنے والے پر منحصر ہے۔ کہ وہ اسے کس غرض کے لئے استعمال کرتا ہے۔ کیا اس ماڈرن دنیا میں آپ سیل فون، وٹساپ،انسٹا گرام ، ٹویٹر اور دیگر ذرائع کے ذریعے آنے والی انفرمیشن کو روک سکتے ہیں۔صرف ایک کلک پر پوری دنیا ، جو کہ اب گلوبل ولیج بن چکا وہ آپ کی دسترس میں ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔ ہمیں دنیا میں شعور و آگہی، بلوغت فکری، بلند نگاہی، ماڈرن طرز فکر، جدید دور کے عملی تقاضوں کی تکمیل و تشکیل کا تگڑا میسج دنیا کو دینا تھا، اور انہیں بتانا تھا کہ اسلام ایک روشن خیال ، لبرل ، ترقی کا دلدادہ، تعلیم و شعور، اور علم کی حوصلہ افزائی کرنے والا دین ہے۔ اس دین میں تو پہلی وحی ہی رسول مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اقرا سے شروع ہوئی تھی۔ جن کا فرمان عالی شان ہے۔کہ مسلمان علم حاصل کریں خواہ انہیں چین ہی جانا پڑے۔ چین اس وقت تو ایک دور افتادہ ملک تھا، مگر آقا کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر یقیناً اس ماڈرن چین کی طرف ہی ہوگی جو آج ٹیکنالوجی میں ساری دنیا کو حیرت زدہ کرتا جا رہا ہے۔ اس طرح کے بین الاقوامی ماحول میں کوئی بھی ملک جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع پر پابندی لگا کر کس طرح دنیا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ VPN کے ذریعہ کسی ماڈرن device تک رسائی کو روکنے سے ہمیں کس قدر مالی، تعلیمی یا معلوماتی خسارہ ہوگا یہ تو الگ المیہ ہے، مگرہم نے دنیا میں اپنی کم علمی یا عدم بصیرت کا مزاق ضرور بنایا ہے۔ اس فیصلہ پر ملکی وقار کی خاطر نظر ثانی کی فوری ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اچھا ادارہ ہے مگر اسے اپنے دائرہ کار کا بھی علم ہونا چاہیے، اور اسے حکومتی خوشامد یا پسند و ناپسند کی نذر نہیں ہونا چاہیئے۔



