عابد حسین قریشی
آجکل لاہور کے ایوان عدل میں پولیس کی شیلنگ کی خبر گرم ہے۔ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اس کی مزمت کر رہی ہیں اور آج کی ایک اخباری خبر کے مطابق دو تین چھوٹے رینک کے پولیس ملازمین کو اس جرم کی پاداش میں معطل بھی کر دیا گیا ہے۔ اصل بات شروع کرنے سے پہلے اس طرح کی شیلنگ یا فائرنگ پر ایک ہلکا پھلکا لطیفہ یوں ہے، کہ کسی ضلع میں پولیس کانسٹیبلز کی بھرتی ہو رہی تھی،کہ ایک نوجوان امیدوار جسکی سفارش تگڑی تھی مگر اسکی بینائی کمزور تھی، تو متعلقہ افسر نے اسے کہا کہ آپ کی نظر بہت کمزور ہے مگر بھرتی بھی کرنا ہے توکس شعبہ میں کر لیں، تو اس نوجوان نے برجستہ کہا کہ مجھے اندھا دھند فائرنگ والے شعبہ میں بھرتی کر لیں۔ پنجاب کے مختلف آٹھ نو اضلاع میں بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کام کرنے کے بعد جو کہ زیادہ تر وکلاء تحریک 2007 کے بعد کے عرصہ پر محیط تھا، وکلا کا پورا جوبن اور پولیس اور عدلیہ کی پسپائی کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس وکلاء تحریک کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں اور ایوان عدل کے آس پاس ہونے والی پولیس وکلاء جھڑپوں کے نتیجہ میں اس وقت کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے جو موقف اختیار کیا اور جس طرح پولیس کے خلاف ایکشن لیا، جرمانے کئے، محکمانہ کاروائیاں کیں اور عدالتوں میں بلا بلا کر ڈرایا دھمکایا، اسکے بعد پولیس افسران اور ملازمین نے اپنی strategy تبدیل کر لی۔ ایک ضلع کے ایک نیک نام اور نفیس اطبع DPO نے مجھے اعتماد کے ساتھ بتایا کہ اس وکلا تحریک کے بعد عدلیہ کو اب پولیس کی طرف سے شاید وہ تعاون دوبارہ کبھی نہ مل سکے جو ہم پہلے مہیا کرتے رہے ہیں، کہ ہماری وکلا کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہ تھی بلکہ عدلیہ کی حفاظت کرنے کے صلہ میں عدلیہ نے ہی ہمیں رگیدا ہے۔ ایک اور DPO نے بردارانہ مشورہ دیا کہ وکلاء کے ساتھ معاملات no return پر کبھی نہ لے کر جائیں کہ ہم آپ کی مدد ہی نہ کر سکیں۔ یہ ساری باتیں اگرچہ تلخ تھیں مگر حقیقت پر مبنی تھیں۔ اب اسکا ایک دوسرا بڑا دلچسپ رخ بھی ہے۔ اس وکلا تحریک کے ثمر میں وکلا پولیس تلخی اور بد مزگی کے بعد پولیس نے وکلاء کے بارے میں اپنی پالیسی بدلی۔ ہر ضلع میں پانچ سات مشہور SHOs کو چیدہ چیدہ وکلاء کے ساتھ “”خوشگوار تعلقات “”قائم کرنے کا ٹاسک سونپا گیا،جو وکلاء نے خوشدلی کے ساتھ نبھایا۔ اس میں کچھ سئنیر پولیس افسران نے بھی “”مثبت رول” ادا کیا۔ اس جزبہ کے پیچھے حفاظت خود اختیاری کا آئیڈیا تھا، کہ اگر عدلیہ وکلاء کے خلاف پولیس کو استعمال کرنے کے بعد ہماری معاونت نہیں کرتی یا ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہوتی تو ہم خود وکلاء سے دوستی بنا کر اپنے آپ کو محفوظ کیوں نہ کر لیں۔لہزا ایک وقت آیا کہ وکلا پولیس پر نہال اور پولیس وکلاء پر فریفتہ۔ “گلشن کا کاروبار ” پر امن بقائے باہمی کے مسلمہ اصولوں پر چلنا شروع ہوا۔ اس دوران اگر کبھی ہمارے جج صاحبان پولیس کے inaction یا صورتحال سے گریز کا گلہ کرتے، تو میں حقیقت سے واقف حال ہونے کی بنا پر انکو مشورہ دیتا کہ”” اب سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے گی”” تو message خوشگوار انداز میں convey ہو جاتا۔ اور بات بگڑنے سے بچ جاتی۔ مگر لگتا ہے پچھلے ایک دو سال میں پولیس اور وکلاء میں پھر دوریاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں۔ اب پھر پولیس عدالتی برآمدوں اور بار ایسوسی ایشنز کے کمروں اور گھروں سے وکلاء کو گرفتار کر رہی ہے۔اور وہ کچھ دیکھنے کو مل رہا جسکا ہونا چشم تصور میں بھی نہ تھا، مگر اب کی بار یہ عدلیہ کے لئے یا عدلیہ کی حفاظت کے لئے نہ ہے، بلکہ حکومتی ایجنڈہ کی تکمیل اور حکومتی احکامات کے تابع ہو رہا ہے۔ اب پولیس والے فیض کے اس شعر “”کہ مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ”” سنا کر وکلاء پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس تو مجروح ہو ہی رہا تھا اب عدالتی احاطہ میں بات شیلنگ تک پہنچ گئی ہے۔ ایوان عدل میں ہونے والی شیلنگ بھی اگر “فرینڈلی” نہ ہے تو اندھا دھند تو ضرور ہے۔



