اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ اورتوڑ پھوڑ کے معاملے پر پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو باقاعدہ شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شامل تفتیش کیلئے اسلام آباد پولیس ٹیم اڈیالہ جائے گی،پولیس بانی پی ٹی آئی سے نامزد مقدمات میں تفتیش کریگی،پولیس ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کیخلاف مقدمات کو یکجا کرکے شامل تفتیش کیا جائے گا ، بانی پی ٹی آئی کو احتجاج ، انتشار کی ایما پر مقدمات میں ملزم نامزد کیا گیا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو احتجاج انتشار کی ایما پر مقدمات ملزم نامزد کیا گیا۔ پولیس نے احتجاج کے دوران تحویل میں لی گئی خیبرپختونخواہ کی سرکاری گاڑیاں بھی ریکارڈ کا حصہ بنا دیں۔
پولیس کی جانب سے پاکستا ن تحریک انصاف کے رہنماءعامر مغل کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان ،وزیراعلیٰ علی گنڈاپور، اعظم سواتی و دیگر کے خلاف دہشت گردی کا ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا، تھانہ سنگجانی میں درج کئے گئے مقدمے میں نامزد قیادت کے علاوہ 2000 سے 2500 نامعلوم کارکنان بھی مقدمے میں شامل کئے گئے ہیںجبکہ مقدمے میں دہشت گردی سمیت 12 دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف اس نئے مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، اغوا، ڈکیتی، دہشت گردی،اقدام قتل،سرکاری اسلحہ چھیننے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمے کے متن کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل میں دی گئی سہولیات کا ناجائز استعمال کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے اکسانے پر علی امین گنڈاپور نے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناتے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور اعظم سواتی نے مظاہرین کی مالی معاونت کی۔
مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے2عدد 12 بورگن،12اینٹی رائٹ کٹس،2وائرلیس سیٹ،5عدد ٹیئر گیس شیل چھینی۔ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر قتل کی نیت سے فائرنگ بھی کی جس پر پولیس اہلکاروں نے درختوں کے پیچھے چھپ کر جان بچائی تھی۔قبل ازیں بھی ترنول جی ٹی روڈ بلاک اور توڑ پھوڑ کرنے پربانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور اور دیگر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاتھا۔
مقدمے میںاپوزیشن لیڈر عمر ایوب،عامر مغل ،بیرسٹر سیف سمیت 2 سے 3 ہزار نامعلوم پی ٹی آئی کارکنان کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔مقدمہ سب انسپکٹر کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں دہشت گردی اور اقدام قتل سمیت 14 سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیاتھا۔ اے ٹی سی ایکٹ، جلاو گھیراو، املاک کو نقصان پہنچانا اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔



