واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے واشنگٹن نہیں چاہتا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کو کسی بھی طرح خطرے میں ڈالا جائے جس میں اسرائیل کی جانب سے حملے بھی شامل ہیں محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ مشن اس ملک میں سلامتی کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے.
ترجمان میتھیوملر نے بریفینگ میں بتایا کہ ہم اقوام متحدہ کی امن فورسز کو کسی بھی طرح خطرے میں نہیں دیکھنا چاہتے لبنان میں یو این عبوری فورسز لبنان میں سیکورٹی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ کا اندازہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی افواج غزہ جنگ کی پہلی برسی کے موقع پر جنوبی لبنان میں زمینی حملوں میں اضافے کے لیے تیار نظر آتی ہیں لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائیاں ابھی تک محدود ہیں.
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ وہ بیروت ائیر پورٹ کو جانے والی سڑکوں کو ”آپریٹنگ“ یعنی کام کرتا دیکھنا چاہتا ہے لبنان میں یو این عبوری فورس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے لبنان کے اندر اپنے مشن کی پوزیشن سے ملحق اسرائیل کی حالیہ سرگرمیوں پر گہری تشویش ہے ‘مشن کو سلامتی کونسل نے لبنانی فوج کی مدد کیلئے تفویض کیا تھا تاکہ وہ اس علاقے کو ہتھیاروں اور مسلح افراد سے پاک رکھے اس نے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ اختلاف کو جنم دیا ہے جس کا جنوبی لبنان پرموثر کنٹرول ہے.
اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے امن دستوں سے کہا تھاکہ وہ اپنی سلامتی کی خاطر اسرائیل اور لبنان کی اس سرحد سے 5 کلومیٹر سے زیادہ دور جلد سے جلد منتقل ہونے کی تیاری کریں جسے بلیو لائن کے نام سے جانا جاتا ہے جمعرات کو اقوام متحدہ امن فوج کے سربراہ نے کہا کہ امن دستے اپنی جگہ پر موجود ہیں اور ممالک کی فوجوں کے درمیان واحد مواصلاتی رابطہ فراہم کرتے ہیں اسرائیل حماس جنگ میں توجہ تیزی سے شمال میں لبنان کی طرف منتقل ہو گئی ہے جہاں اسرائیلی افواج کا حزب اللہ کے ساتھ اس وقت سے فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جب سے ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے حماس کی حمایت میں 20 اکتوبر سے اسرائیل حملے شروع کیے تھے.
تاہم اسرائیل کے بڑے حملوں نے جس میں گزشتہ دو ہفتوں میں 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جنوبی لبنان سے ایک بڑے پیمانے پر انخلا شروع کیا ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں لبنان کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ پیر کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں دو نئے حملے کیے گئے اس سے پہلے اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقے کے رہائشیوں کو وارننگ جاری کی گئی تھی.



