پشاور (نیشنل ٹائمز) پشاور ہائیکورٹ نے پختونخواہ ہاؤس اسلام آباد کو سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست واپس کر تے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق درخواست پر سماعت چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی جہاں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ ’پختونخواہ ہاؤس کو سی ڈی اے نے سیل کیا ہے‘، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ’سی ڈی اے ایک خودمختار باڈی ہے‘، ایڈووکیٹ جنرل نے دلیل دی کہ ’یہ اقدام سی ڈی اے نے کیا ہے یہ کسی وفاقی ادارے نے تو نہیں کیا، کے پی ہاؤس اسلام آباد میں خیبر پختونخواہ کی پارٹی ہے، کے پی ہاؤس 1975 میں بنا ہے، اسلام آباد میں تمام صوبوں کے ہاؤسز موجود ہیں صرف کے پی ہاؤس نہیں ہے، یہ ہاؤس کے پی کا ہے اور اس کو سیل کیا گیا ہے‘۔
اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’ایڈووکیٹ جنرل صاحب ہم اس میں آپ کے ساتھ ہیں، یہ ایکشن ایک خودمختار اتھارٹی نے لیا ہے وہ وہاں کی ایک ریگولیٹر اتھارٹی ہے، آپ فیڈرل گورنمنٹ کے کسی آرڈر سے متاثر ہیں؟، یہ ہاؤس آپ کی حکومت کا نہیں ہے یہ اس صوبے کے عوام کا ہاؤس ہے، آپ سی ڈی اے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں کیوں کہ یہ ہمارے دائر اختیار میں نہیں ہے، اس لیے آپ درخواست واپس لیں اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں وہاں پر اس کو جمع کروائیں۔
بتایا جارہا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں قائم خیبرپختونخواہ ہاؤس کو سیل کر دیا ہے، سی ڈی اے نے خیبرپختونخواہ ہاؤس کے متعدد بلاک سیل کیے، اس مقصد کے لیے اسپیشل مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر اور سی ڈی اے ٹیم خیبرپختونخواہ ہاؤس پہنچی، سی ڈی اے ذرائع کا کہنا تھا کہ بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی پر خیبرپختونخواہ ہاؤس کے متعدد بلاک سیل کیے گئے کیوں کہ کے پی کے ہاؤس اسلام آباد کی لیز 2006ء میں ختم ہو چکی تھی، خیبرپختونخواہ ہاؤس کی لیز ختم ہونے پر سی ڈی اے نے انتظامیہ کو متعدد مراسلے بھیجے، جن میں سے آخری مراسلہ رواں سال تین مئی کو بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ کے پی ہاؤس کی تجدید کروائی جائے مگر کے پی ہاؤس انتظامیہ نے کوئی توجہ نہ دی، متعدد نوٹسز کے باوجود تجدید نہیں کرائی گئی اس لیے عمارت سیل کی جا رہی ہے۔



