چیف جسٹس سے بدتمیزی کرنے والے پی ٹی آئی وکیل کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے بدتمیزی کرنے والے پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی کا4روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا،اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، پی ٹی آئی کے وکیل مصطفین کاظمی کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
مصطفین کاظمی کی جانب سے ایمان مزاری، رضوان اور دیگر وکلاءپیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کے سامنے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی۔وکیل صفائی نے کہا کہ جن ملزمان کو ایف آئی ار میں نامزد کیا گیا وہ تمام وکلاءہیں جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے۔ جج طاہر سپرا نے استفسار کیا کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ قانون سے کون بالاتر ہے۔

پراسیکیوٹر کی جانب سے مصطفین کاظمی کے 9 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ گزشتہ روزسپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائر عیسیٰ سے بدتمیزی کرنے والے وکیل مصطفین کاظمی کو گرفتار کر لیا گیاتھا۔
اس حوالے سے وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ نے مصطفین کاظمی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وکیل کو تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق مصطفین کاظمی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سابق ملازم ہیں۔ دو روز قبل آرٹیکل 63 اے نظر ثانی درخواستوں پر دوران سماعت مصطفین کاظمی روسٹر پر آے اور انہوں نے چیف جسٹس سے بدتمیزی کی تھی۔
کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے لارجر بینچ کو دھمکی دے دی اور کہا تھا کہ باہر پانچ سو وکیل کھڑے ہیں دیکھتا ہوں پی ٹی آئی کے خلاف یہ بینچ کیسے فیصلہ دیتا ہے؟۔خود کو تحریک انصاف کا وکیل ظاہر کرنے والے طیب مصطفٰین کاظمی مشتعل ہوئے اور پانچ رکنی لارجر بینچ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ جس پر ان کے اور چیف جسٹس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
دوران سماعت مصطفین کاظمی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کس کی طرف سے ہیں تو وکیل نے بتایا تھا کہ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ قاضی فائز عیسیٰ نے بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ نہیں بیٹھ رہے تو پولیس اہلکار کو بلالیتے ہیں جس پر مصطفین کاظمی نے کہا کہ آپ کر بھی یہی سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہم اپنی توہین برداشت نہیں کریں گے جبکہ جج جسٹس مظہر عالم میاں نے کہا تھا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب دیکھیے گا کچھ یوٹیوبرز بھی ساتھ باہر جائیں گے اور پھر تبصرے ہوں گے لگتا ہے عدالت میں ایک مقصد کے تحت یہ کیا گیا تھا۔



  تازہ ترین   
امریکہ اور چین بڑی طاقتیں، حل صرف سفارت کاری، عالمی استحکام مشترکہ ہدف ہے: صدر شی
امریکہ چاہتا ہے کہ مؤقف بدلنے کیلئے چین ایران پر دباؤ ڈالے، مارکو روبیو
یو اے ای نے نیتن یاہو کے دورہ امارات سے متعلق دعوے مسترد کر دیے
شاہ چارلس کا یوکرین، مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن کی حمایت کا عزم
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی: 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سمیت5 جوان شہید
چین نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں چار اہم سرخ لکیریں واضح کر دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر