سپریم کورٹ کے فیصلے سے آرٹیکل63 اے ہی نہیں بلکہ آئین بھی بحال ہوا ہے

لاہور (نیشنل ٹائمز) مرکزی رہنماء پاکستان مسلم لیگ ن میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آرٹیکل 63 اے ہی نہیں بلکہ آئین بھی بحال ہوا ہے، آئین کی خواہشات پر مبنی تشریح کرکے آئین کا حلیہ بگاڑا گیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 63 اے کی خواہشات پر مبنی تشریح کرکے آئین ری رائٹ کیا بلکہ اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا، جس سے آرٹیکل 95 غیرفعال کرکے پارلیمنٹرین کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا۔
بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ اسی فیصلے کو پنجاب میں پھر اپنی خواہش کے مطابق ڈھال دیا گیا آج 63 اے ہی نہیں بلکہ آئین بھی بحال ہوا ہے۔ اسی طرح ن لیگی رہنماء سینیٹر عفان اللہ نے ایکس پر کہا کہ پاکستان میں اس وقت جب ایس سی او کی کانفرنس ہو رہی ہے اس وقت احتجاج کی کال دینا شرمناک ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کھلے عام پاکستان کے خلاف سازش کیوں کر رہے ہیں؟ کوئی محب وطن انسان ایسا کام نہیں کرتا جس سے ملک کے لیے شرمندگی اور مشکالات ہوں۔

ان تمام معاملات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو یقین ہو جائے گا کہ عمران خان ایک صیہونی اسرائیلی پروجیکٹ ہے۔ یاد رہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی اپیلیں متفقہ طور پر منظور کرلیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اپیل منظور کی جاتی ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے تشریح نظر ثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس امین الدین ، جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم بینچ میں شامل تھے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کی اپنے مؤکل سے ملاقات ہوگئی جس پر انہوں نے جواب دیا جی بالکل گزشتہ روز ملاقات ہوئی لیکن ملاقات علیحدگی میں نہیں تھی، جیل حکام بھی موجود رہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان عدالت سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں گذارشات رکھنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے انہیں ہدایت دی کہ اچھا آگے چلیں، دلائل شروع کریں۔علی ظفر نے کہا کہ نہیں پہلے عمران خان عدالت میں گزارشات رکھ لیں، پھر میں دلائل دوں گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ سینئر وکیل ہے، آپ کو معلوم ہے عدالتی کارروائی کیسے چلتی ہے۔
علی ظفر نے جواب دیا کہ میرے مؤکل کو بینچ پر کچھ اعتراضات ہیں، عمران خان کی وڈیو لنک پر پیشی کی اجازت نہیں دیتے تو انہوں نے کچھ باتیں عدالت کے سامنے رکھنے کا کہا ہے، میں نے اپنے مؤکل سے ہی ہدایات لینی ہیں، ہدایت کے مطابق چلنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ صرف اپنے مؤکل کے وکیل نہیں، آفیسر آف دا کورٹ بھی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم بھی وکیل رہ چکے ہیں، اپنے مؤکل کی ہر بات نہیں مانتے تھے، جو قانون کے مطابق ہوتا تھا وہی مانتے تھے۔
علی ظفر نے کہا کہ اگر عمران خان کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کررہے تاکہ کل سرخی لگے جس پر علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں۔



  تازہ ترین   
امریکہ اور چین بڑی طاقتیں، حل صرف سفارت کاری، عالمی استحکام مشترکہ ہدف ہے: صدر شی
امریکہ چاہتا ہے کہ مؤقف بدلنے کیلئے چین ایران پر دباؤ ڈالے، مارکو روبیو
یو اے ای نے نیتن یاہو کے دورہ امارات سے متعلق دعوے مسترد کر دیے
شاہ چارلس کا یوکرین، مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن کی حمایت کا عزم
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی: 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سمیت5 جوان شہید
چین نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں چار اہم سرخ لکیریں واضح کر دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر