اپنی مرضی کے جج، اپنی مرضی کا انصاف

تحریر: عابد حسین قریشی

میرا جج ،میری مرضی کا انصاف، شاید اس قوم کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ طویل عدالتی کیریئر میں یہ بات اکثر کھٹکتی رہی، کہ یہاں انصاف کا مفہوم یہی ہے کہ جو میرے حق میں ہو، جو میرے خلاف ہوا یا ہو سکتا ہے، ہم اسے انصاف ماننے کو تیار ہی نہیں۔ لوگ عجیب منطق اور مائنڈ سیٹ سے عدالتوں میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہارنا لوگوں نے سیکھا ہی نہیں۔ یہاں تو بعض اوقات مقدمہ بازی کیس جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ فریق مخالف کو ہرانے کے لئیے کی جاتی ہے۔ ایک عادی مقدمہ باز جب تقریباً ہر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے غیر مطمئن ہوکر اپنا مقدمہ اس عدالت سے ٹرانسفر کراتا رہا، اور جب ضلع میں کوئی دیگر عدالت نہ بچی، تو بطود ڈسٹرکٹ جج میں نے اسے کہا کہ اب صرف میری عدالت ہی رہ گئی ہے، تو اس نے کمال سادگی مگر عیاری سے جواب دیا، کہ اگر آپ نے میرے حق میں فیصلہ کرنا ہے، تو اپنے پاس رکھ لیں۔ میں دم بخود رہ گیا۔ اپنے حق میں فیصلہ کو ہی انصاف سمجھنے والی بات پہلے افراد میں تھی، اب یہ اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اب تقریباً نصف صدی کے لگ بھگ اس نظام عدل سے اپنی وابستگی ہونے کو ہے۔ یہ تصور بھی نہیں تھا، کہ کوئی سرکاری افسر، یا ملازم یا کوئی ادارہ کبھی سول جج کا حکم ماننے سے بھی انکار کرے گا۔ پھر تنزلی کا دور شروع ہوا۔ عدلیہ جو کبھی نظریہ ضرورت کا ماسک پہن کر درپردہ حکومتوں کی اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد کیا کرتی تھی۔ اسے فرنٹ فٹ پر کھیلنے میں مزہ آنے لگا۔ جج صاحبان نے باقاعدہ حکومت کو مشورے دینے شروع کئے، نہ صرف بنچ حکومتی منشا کے مطابق بنننے لگے، بلکہ تفتیش اور انکوائری میں بھی عدالتیں براہ راست اثر انداز ہونا شروع ہوئیں۔ عدالت کے اندر بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان ججز یہ سمجھتے رہے کہ انکا اختیار و حکم اب ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، اور اب انکے حکم کے آگے کسی کی مجال نہیں۔کہ کوئی بولے۔ اسی اندھی طاقت کے نشہ میں ہسپتال، سکول کالج بھی چیک ہوتے رہے،لوگوں کو دربدر کرنے کے لئے کئی بڑی بلڈنگز بھی گرا دی گئیں۔ طاقت اور اختیار کا نشہ سر چڑھ کر بولا، مگر بدقسمتی سے یہ عدلیہ کے ادارے کو کمزور کر گیا۔ جوں جوں ججز نے وکٹ اور کریز سے باہر آکر کھیلنا شروع کیا، توں توں عدلیہ کے ادارہ کا وقار مجروح ہوتا گیا اور عدلیہ بطور ادارہ تنزلی کی منازل کی طرف گامزن ہونا شروع ہوا۔ جب پسند و ناپسند ہی میرٹ ٹھہرا تو حکومت کا بھی حوصلہ بڑا۔ سیاستدان تو کافی دیر سے عدلیہ کے ادارہ کے کمزور ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ لہزا انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جس کا آئین کے تابع حق بنتا تھا، اسے روکنے ،اپنی مرضی کا چیف جسٹس لگانے اور سپریم کورٹ کے پر کاٹنے کی ٹھانی۔ جب عدلیہ کی اندرونی کمزوریاں دیگر اداروں پر عیاں ہوئیں، تو بہت سے پول کھل گئے، بہت سے بھرم جاتے رہے۔ اب ملک کی سب سے اعلٰی عدلیہ حکومت سے دو صوبوں میں الیکشن کا تقاضا کرتی ہے، تو بڑی ڈھٹائی سے اس سے پس و پیش کیا جاتا ہے۔ عدالت مخصوص سیٹوں کے حوالے سے ایک حکم صادر کرتی ہے، تو حکومت تو دور کی بات ہے، الیکشن کمیشن ہی اس صاف اور صریح حکم کی تعمیل سے انکار کر دیتا ہے۔ بات یہاں تک کیسے پہنچی، یہ ہے اصل لمحہ فکریہ۔ مجھے ذاتی طور پر افراد سے زیادہ عدلیہ کے ادارے سے غرض ہے، اسلیے نہیں کہ ایک طویل عرصہ تک اس سے وابستگی رہی، بلکہ اس لئے کہ اس ملک کے عام لوگوں کی جو کروڑوں میں ہیں، انکی آخری امید تو عدالت ہی ہوتی ہے۔ ہم ان بے بس و لاچار لوگوں سے وہ امید کی کرن بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ یہ قوم تو پہلے ہی سیاسی طور پر منقسم ، غربت و افلاس میں دبی ہوئی اور لگتا ہے کہ 25 کروڑ عوام کا جم غفیر بے قابو ہجوم کی طرح بے سمت بھاگ رہا ہے اوپر سے منقسم عدلیہ کا تصور اور حکمرانوں کا ہر صورت میں من پسند چیف جسٹس کا تقرر۔ آج کے حکمران کل تک عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں، انہی عدالتوں نے انہیں ریلیف دیکر حکومت تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔ اسی عدلیہ کے پر کاٹ کر کس منزل کے مسافر بننا چاہتے ہیں، سمجھ سے باہر ہے۔اگر نظام عدل بھی بکھر گیا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ ادارے افراد سے نہیں ، اصولوں سے، قواعد و ضوابط کی پیروی اور آیئن کی پاسداری سے بنتے ہیں۔ جو بھی طریقہ آیئن میں نئے چیف جسٹس کی تقرری کا ہے، اسے follow کیا جائے، ملک بھی بچ جائے گا اور ادارے بھی۔ ملک میں پہلے افراتفری تھوڑی ہے کہ ایک نئی آئینی بحث چھیڑ کر ایک نئے بحران میں اسے دکھیلا جا رہا ہے۔ ملک کا مفاد یہی ہے کہ جو آئین میں اس وقت تک موجود ہے اسی کی من و عن پیروی کی جائے۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر