تحریر: عابد حسین قریشی
آج بارہ ربیع الاول کا دن، ایک تاریخی دن، کہ جب کفر و الحاد ، فسق و فجور، شرک و انکار اور ضلالت و شقاوت کے گھپ اندھیرے، صحرائے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے، کہ حضرت عبدالمطلب کے معروف و معتبر خاندان میں بی بی آمنہ سلام اللہ کے گھر ایک ایسا باکمال اور بے مثل بچہ پیدا ہوا، جس نے پوری کائنات کی کایہ ہی پلٹ دی۔ بارہ ربیع الاول کا سورج مکہ کی سر زمین میں باد بہاراں کا ایک جان فزا جھونکا لیکر آیا، جسکی تازگی، جسکی مہک، جسکی خوشبو، عرب کے ریگزاروں سے چہار سو پھیلی اور پوری انسانیت کو راہ حق کا مسافر بنا دیا۔ یہ وہ مہک اور خوشبو تھی ، جو بی بی آمنہ کے گھر سے چلی تو دنیا کے لیے حیات جاودانی بن گئی۔ بارہ ربیع الاول کوئی معمولی دن نہ ہے ،کہ اسکی یاد نہ منائی جائے، بلکہ یہ اس درخشندہ و تابندہ نور مجسم کی ولادت کا دن ہے، جن پر انسانیت تا ابد نازاں و فرحاں رہے گی۔ یہ محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کا وہ حسین و جمیل لمحہ تھا، کہ جب انوار الہی اپنی تمام تر رعنائیوں اور کمالات کے ساتھ رموز کائنات کے اسرار اور حجابات کو بے نقاب کرتے ہوئے زمین و آسمان کی بے کراں وسعتوں میں قدرت خداوندی کے بیش قیمت رازوں کے خزینوں کو ایک صاحب راز داں، اور ایک مسیحا میسر آیا۔ اس دن بنی نوع انسان کی تقدیر بدلی، کہ جو لوگ اس کفر و الحاد کی بستی میں اپنی موج و مستی اور ریشہ دوانیوں میں مگن تھے، وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ، کہ ایک دن ایک ایسی ہستی کا ورود مسعود اس دھرتی پر ہوگا، کہ جس کےپاوں کی ٹھوکر سے یہ بت پرستی کے بت پاش پاش ہوں گے۔ جس کے کے اخلاق و کردار کی بلندیوں، شب بیداریوں، اشکباریوں اور دل گدازیوں سے یہ شوریدہ سر اور بد دماغ اور بد طینت کفار مکہ اسی کعبہ کے سامنے سر بسجود ہوں گے، جہاں انہوں نے سیکنڑوں بت اپنے شرک کی پیاس بجانے کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ وہ منکرین توحید صرف ہٹ دھرم ہی نہ تھے، بلکہ فسق و فجور، مے پرستی و رندی، اخلاق باختگی اور بے راہ روی میں اس قدر آگے جاچکے تھے، کہ محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام توحید و رسالت میں انہیں اپنی عشوہ طرازیاں اور منکرانہ اور مشرکانہ طرز زندگی پر ایک ضرب کاری نظر آتی تھی۔ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہونے والے اس محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کی روح میں مساوات، پیار، الفت، ہم آہنگی، احساس اور احسان، ایثار و قربانی، ہمدردی، عفو و درگزر، برداشت، تحمل، رواداری، وضع داری، خدا خوفی اور خدا ترسی، صلہ رحمی و حق شناسی، صداقت و امانت، اخلاص و مروت، ایمان و یقین، جرات و شجاعت، بلند حوصلگی اور حسن کردار کی وہ انمول شمع روشن کی کہ جسکی روشنی اور حرارت تا ابد دلوں کو گرماتی رہے گی اور کائنات بی بی آمنہ کے اس در یتیم کو اپنا محسن اور رہبر مان کر ہی عافیت و فلاح پا سکے گی۔ یہ محمد عربی، خاتم الانبیا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تو ہیں، جو ایمان و کفر کے درمیان حق کی شناخت اور پہچان ہیں۔ جنہوں نے انسانیت کو صرف اخوت و محبت کا درس ہی نہیں دیا، بلکہ انسان کو وہ توقیر اور تعظیم بخشی کہ بلال حبشی جیسا سیاہ فام غلام بھی مکہ اور مدینہ کے بہت سے نامور سرداروں اور امراء پر فضیلت لے گئے۔ بیٹی اور عورت کو وہ مقام دیا کہ جسکا یہاں تصور بھی محال تھا۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کو وہ شان بخشی کہ وہ باعث عار ہونے کی بجائے اپنے والدین کے لئے وجہ افتخار بن گئی۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دلآویز ارشادات، سے اس غلط فہمی کو اہل عرب کے دلوں سے نکال دیا کہ بچی ایک ناگوار بوجھ ہے۔ اور پھر دنیا نے یہ حیرت انگیز منظر بھی دیکھا کہ بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے اخلاق کی ان بلندیوں پر پہنچے کہ سب کچھ ایک خواب و خیال لگتا ہے۔ یتیموں، بے کسوں اور بے نواوں کی اسطرح نگہبانی کی کہ انسانیت عش عش کر اٹھی۔ مسجد نبوی میں آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں، ایک شخص گھبرایا ہوا تیزی سے داخل ہوتا ہے اور شافع روز محشر سے عرض کرتا ہے، یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا بیٹا کل سے گھر سے غائب ہے، دعا فرمائیں، اسی دوران ایک صحابی کہتے ہیں، کہ میں نے تیرا بیٹا آج ہی صبح ساتھ والی بستی میں ایک میلے میں دیکھا ہے، وہ پریشان شخص فوری پیچھے مڑتا ہے، آقا کریم اسے روکتے ہیں، اور فرماتے ہیں، کہ جب میلہ میں اپنے بیٹے کو تلاش کر لو تو اسے میرا بیٹا کہہ کر نہ پکارنا کہ ممکن ہے وہاں کچھ یتیم بچے بھی ہوں ، جن کو میرا بیٹا کہہ کر پکارنے والا کوئی نہ ہو۔ سبحان اللہ، یہ ہے وہ سوچ اور کردار اور جزبہ جو یتیموں کے لیے کریم آقا کے دل میں موجزن ہے۔ تاریخ ایک بھی شاید ایسی مثال نہ لا سکے کہ جہاں یتیموں کی دل آزاری اور راحت و سکوں کے لیے کسی نے اس انداز میں کبھی سوچا بھی ہو۔کسی یتیم کے سامنے اپنے بچے کو پیار اور کسی بیوہ کی دل آزاری سے منع فرمایا۔ آداب گفتگو سے لیکر بہت سے معاشرتی معاملات میں انسانوں کی اس نہج اور باکمال طریقہ سے اصلاح فرمائی۔ کہ صحرائے عرب کے بدو دنیا کے کامیاب ترین حکمران ٹھہرے۔ یہی تو انسانیت کے بخت اور مقدر بدلنے کا وہ لمحہ مسعود تھا کہ جسکی یاد آج بارہ ربیع الاول کو مسلمان ایک عجب سرشاری اور وارفتگی سے مناتے ہیں۔



