سال میں تین فصلیں
15 جولائی سے پنجاب کے ہر ضلع میں خصوصاً چولستان اور تھل کے علاقوں میں پیاز کی کاشت کا آغاز کامیابی سے جاری ھے ، جولائی میں کاشت شدہ پیاز کی فصل اکتوبر میں تیار ھوجاتی ھے، اکتوبر میں کاشت کردہ فصل آخر جنوری یا آغاز فروری میں تیار ھوجاتی ھے اور فروری مارچ میں کاشت کردہ فصل شروع مئی سے آخر مئی تک تیار ھوجاتی ھے۔
ستمبر 20 کے بعد پیاز کا بیج تیار کرنے کے لئے پیاز کو کاٹ کر کاشت کیا جاسکتا ھے تاکہ کسان اپنا گھر کا تسلی بخش بیج تیار کرسکے ، نیز ان دنوں میں کاشت کردہ پیاز آئیندہ آنے والی ساگ کی فصل کے ساتھ لازم و ملزوم ھے ، پیاز کی فصل کو اس ترتیب سے کاشت کریں کہ ساگ کے دنوں میں کچا پیاز مارکیٹ میں بھیج سکیں ، ایک پیاز کا پودا چھوڑ کر دوسرے کو اکھاڑ کر سبز پیاز کی شکل میں مارکیٹ میں بیچ دیں ، اس طرح ایک ھی فصل سے دو بار منافع حاصل کریں ۔۔۔۔۔ اور آئیندہ جولائی میں پیاز کاشت کرنے کے لئے جنوری ، فروری میں پیاز کی گنڈی کی شکل میں پنیری تیار کرکے تاروں پر لٹکا دیں ، 20 سے 25 جولائی کی تاریخوں میں پیاز کی خشک شدہ گنڈی کو کاشت کردیں ، صرف 70 سے 75 دنوں میں پیاز کی فصل تیار ھو جائے گی ، جس کو برداشت کرتے ھی نئی پیاز کی فصل آغاز اکتوبر میں کاشت کریں ، یاد رھے کہ اگر آغاز اکتوبر میں کاشت کی جانے والی پیاز کی فصل بھی 10 سے 15 گرام کی گنڈی کی شکل میں کاشت کی جائے تو دسمبر کی 10 سے 15 تاریخ تک فصل تیار ھو جائے گی ، اسی طرح آخر جنوری یا آغاز فروری سے مارچ تک پیاز کی پنیری جو کہ گنڈی کی شکل میں موجود ھو کاشت کریں اپریل ، مئی میں فصل تیار ملے گی ۔۔۔۔۔ اس سارے پروگرام میں کسان کو اپنی ذاتی پیاز کی پنیری کاشت کرنی بہت ضروری ھے ، پنیری کو کم بیج کا چھٹہ دے کر 2 ماہ تک کھیت میں رکھ کر تیار کرنا ھے ، جب گنڈی یا جڑ 10 سے 15 گرام یا اس سے بھی زیادہ سائز میں ھو جائے تو اس پنیری کو اکھاڑ کر ایک دوسرے سے باندھ کر رسیوں پر لٹکا دیں ، پیاز کے سبز پتے سوکھ جائیں گے اور گنڈی نما پیاز خشک حالت میں رہ جائے گا ، اسے زمین تیار کرکے 16 سے 18 انچ کے بیڈ پر کاشت کریں۔
فروری مارچ والے پیاز میں اگیتی کپاس کی کاشت بھی کی جاسکتی ھے ، کم مدتی کپاس کی اقسام مارکیٹ میں موجود ھیں جو 4 ماہ 10 دن میں مکمل تیار ھوجاتی ھیں ۔۔۔۔۔ کسان پچھلے دو تین سال سے ھر فصل نقصان میں بیچ رھا ھے ، کسان کو چاھئے کہ چھوٹے اور بڑے پیمانے پر نقد آور فصل کی کاشت کے رجحان کو فروغ دے ، خصوصاً ایسی فصلوں کی کاشت کو فروغ دے جو مارکیٹ میں بہتر قیمت میں فروخت ھو جائے ، پیاز ان نقد آور فصلوں میں سے ایک ھے ، بہتر منافع بخش زراعت کو اپنا کر کسان اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتے ھیں ، ورنہ پچھلے دو سال سے فصلوں کی جو قیمت لگ رھی ھے سب کو معلوم ھے۔
سبزیوں اور پھل دار اجناس کو فروغ دینے سے کسان کو بہتر منافع مل سکتا ھے ، روائتی کاشت سے تو زمین دار گھاٹے میں ھے۔



