اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) نیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف نیا توشہ خانہ 2ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیاہے،ریفرنس میںتوشہ خانہ سے تحائف غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ،نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون اور کیس افسر وقار الحسن نے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا، نیب کی جانب سے دائر نیا توشہ خانہ ریفرنس 2 والیمز پر مشتمل ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے نئے توشہ خانہ 2 ریفرنس کے حوالے سے تفتیش کی ہے ۔ گزشتہ روز احتساب عدالت نے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا یاد رہے کہ اس سے قبل 13جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے دونوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔ نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق تھا۔نیب رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہے۔
تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی قیمت ادا کئے بغیر ہی بیچ دیا گیاتھا۔ نجی تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تخمینہ ساز کا توشہ خانہ سے ای میل آنے سے پہلے ہی گھڑی کی قیمت تین کروڑ کم لگانا ملی بھگت کا ثبوت ہے۔
بشریٰ بی بی کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری کی گئی تھی۔ بشریٰ بی بی کو گیٹ نمبر 3 سے رہا کر کے دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔اس حوالے سے وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کیا تھا۔ نوٹیفکیشن نیب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 16 بی کے تحت جاری کیا گیا تھا۔اس میں بتایا گیا کہ امن امان کی صورت حال کے پیش نظر نیب عدالت اگر ضروری سمجھتی ہے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ٹرائل جیل میں کیا جائے۔



