آج سے تقریباً پچاس سال قبل 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک تاریخی آئینی ترمیم کے ذریعہ احمدیوں اور قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو نان مسلم قرار دیتے ہوئے انہیں اقلیت قرار دیا۔اب اگر قادیانی اپنے آپ کو ایک غیر مسلم اقلیت سمجھ لیتے تو تنازعہ ہی ختم ہو جاتا، مگر انہوں نے اول تو اس آئینی ترمیم کو کبھی مانا ہی نہیں ہے، اور اوپر سے وہ اب بھی شرعی طور پر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے اور گردانتے ہیں۔جو نہ صرف ایک بڑی غلطی ہے، بلکہ آیئن پاکستان اور عدالتی فیصلوں کی توہین بھی ہے۔ بطور ایک قانون کے طالب علم کے اور عقیدہ ختم نبوت پر پختہ اور راسخ ایمان رکھتے ہوئے اس اہم مسئلہ پر کچھ عرض کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بطور مسلمان ہمارا یہ عقیدہ بلکہ ایمان کا بنیادی جزو ہے، کہ پیارے آقا کریم حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم, اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں۔ قرآن پاک اللہ تعالٰی کی آخری الہامی کتاب آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی، اب نہ کسی نبی نے آنا ہے، اور نہ ہی کسی الہامی کتاب نے، کہ اب سلسلہ وحی مکمل طور پر منقطع ہو چکا۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو شخص بھی کسی طریقہ سے نبوت یا صاحب وحی ہونے کا اعلان کرے وہ کاذب ہے، جھوٹا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ متزکرہ بالا آیئنئ ترمیم کے بعد وقتاً فوقتاً قانون سازی سے اور کچھ عدالتی نظائر سے قادیانیوں کی غیر قانونی اور غیر شرعی حرکات کو روکنے کے لیے انکی حوصلہ شکنی بھی کی گئی، مگر تنازعہ بدستور وہیں کھڑا رہا بلکہ وقفے وقفے سے سر اٹھاتا رہا۔ اسکی ایک وجہ تو عام مسلمانوں کا قادیانیوں کے جعلی نبی مرزا غلام احمد اور اسکے خلیفوں کی طرف سے لکھی گئی کتابوں اور لٹریچر سے عدم واقفیت اور لاعلمی ہے۔ جن لوگوں کو یہ کتابیں خواہ کراہت اور ناپسندیدگی سے ہی پڑھنے کا موقع ملا ہے، وہی بتا سکتے ہیں، کہ اصل مسئلہ اور فتنہ قادیانیت کیا ہے۔ یہ کس قدر خطرناک، مشتبہ اور مضحکہ خیز ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں “”ایک غلطی کا ازالہ، ” حقیقت الوحی،” روحانی خزائن، “کشتی نوح “”اور اسکے خلیفہ مرزا بشیرالدین کی”” کلمتہ الفصل،”وغیرہ میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے خلیفہ نے جو ہرزہ سرائی کی ہے وہ تو بیان بھی نہیں کی جاسکتی۔ مرزا غلام احمد چونکہ مکمل طور پر اپنی نبوت کی بنیاد جھوٹ اور مکر و فریب پر رکھ رہا تھا، اسلیے اس نے دعوٰی نبوت تک پہنچتے پہنچتے کئی روپ اور کئی رنگ بدلے۔ کبھی اس نے اپنے آپ کو حامل وحی، کبھی مسیح موعود، کبھی امام مہدی، کبھی عین مسیح، کبھی ظلی نبی، کبھی بروزی نبی اور کبھی پورے نبی ہونے کے دعوے ،اسکے غیر منطقی استدلال، عقلی اور شعوری طور پر باطل، غیر حقیقی اور مضحکہ خیز ہیں۔ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ پتہ ہی نہ تھا کہ وہ کیا غیر منطقی اور قران و سنت کے برعکس جو دعوے کر رہا ہے، وہ self conflicting اور self contradictory ہیں۔ اسکی کتاب “کشتی نوح” کو ہی اگر پڑھ لیا جائے کہ کس طرح وہ اپنی دوبارہ پیدائش کا ذکر نہایت مضحکہ خیز انداز میں کرتا ہے کہ ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے، ہر قیمت پر وہ اپنے آپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام ثابت کرنے کے لیے اپنی دوبارہ پیدائش اپنے اندر سے ہی دوبارہ کرتا ہے، کہ حیرانگی کے ساتھ پشیمانی بھی ہوتی ہے، اسکے پیروکار تو قادیان کو مکہ اور ربوہ کو مدینہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ مرزا کے گھر والوں کو نعوز باللہ اہل بیت اور اسکے ساتھیوں کو معاذ اللہ صحابہ کرام کہتے ہیں۔ وہ نماز میں اور اذان میں استعمال ہونے والے نام محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم جو ہمارے نزدیک ختم نبوت کی مہر ہیں، انکی بجائے وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر یہ درود بھیجتے ہیں، بلکہ وہ تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ قرآن دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہوا اور اسطرح کی بے شمار دیگر خرافات اور بے سروپا باتیں کرکے وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اب اس طرح کے مسلک یا اعتقاد کے لوگوں کو صرف آیئنئ طور پر نان مسلم تو نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ شرعی طور بھی نان مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ قادیانیوں کو آئینی اور شرعی طور پر غیر مسلم سمجھتے ہوئے اگر اقلیت ٹریٹ کرنا ہے تو انہیں وہ شہری حقوق دینے پر تو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں، جو دیگر اقلیتوں جن میں کرسچن، ہندو،سکھ اور پارسی وغیرہ شامل ہیں کو حاصل ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہماری قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی تو ممتاز مزہبی سکالر اور رکن اسمبلی مولانا ظفر احمد انصاری نے کیا خوب یاد دلایا، کہ ان قادیانیوں نے 13 نومبر 1946 کو جو درخواست انگریز حکومت کو دی تھی، کہ انہیں بھی عیسائیوں اور پارسیوں کی طرح بر صغیر میں حقوق دیے جائیں، تو انکی یہ درخواست منظور کر لی جائے۔ قبل ازیں ہماری فیڈرل شریعت کورٹ نے ایک مشہور مقدمہ مجیب الرحمان بنام حکومت پاکستان”” PLD 1985 FSC page 8 “”میں اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر یہ فیصلہ دیا کہ قادیانی آئینی اور شرعی طور پر نان مسلم ہیں، اور وہ شعار اسلامی اور اسلامی ترکیبات اور اصطلاحات کا استعمال نہیں کرسکتے۔ اس سلسلہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات ۔ 298 ,B اور C کا حوالہ بھی دیا گیا ،کہ انکے تحت یہ جرم ہیں کہ کوئی قادیانی کسی اسلامی شعار یا ترکیب کا نام استعمال کرے۔ یا اپنے نام نہاد مزہب کی تبلیغ کرے، اور ظاہر ہے اسکا اطلاق جلوت و خلوت ہر جگہ پر ہوگا۔پھر اسی فیصلہ کی روشنی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی فل بنچ نے “ظہیر الدین بنام سٹیٹ”1993SCMR 1718, میں شریعت کورٹ کے متزکرہ فیصلہ کی تائید کی اور قادیانیوں کو آئینی اور شرعی طور پر نان مسلم ہی قرار دیا اور انہیں اسلامی شعار کے استعمال سے روکا ، مگر بد قسمتی سے ہمیں ایک ایسی اقلیت سے سامنا ہے، جو اپنے آپ کو اقلیت بھی نہیں مان رہی اور وہ اس من گھڑت دین کی اور اس کاذب نبی کی پیروی کر رہی ہے، جو سر تا پا جھوٹ ،مکر اور ریا کاری ہے۔جہاں تک کسی اقلیت کے شہری حقوق کا تعلق ہے، وہ نہ صرف برابری کی بنیاد پر ملنے چاہئیں بلکہ انکی حفاظت بھی سٹیٹ کو کرنی چاہیئے، مگر جب کوئی مسلمانوں کا نام استعمال کرکے آذان اور کلمہ میں استعمال ہونے والے الفاظ نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے کسی کاذب اور جھوٹے شخص کے لیے استعمال کریں گے، تو مسلمانوں کو تکلیف تو ہو گی، خواہ یہ حرکت کھلے عام کی جائے یا چھپ کر۔ اور پھر فیڈرل شریعت کورٹ کے متزکرہ فیصلہ کی رو سے قانون بھی حرکت میں آئے گا۔ لہزا اس قسم کی اقلیت کے ہاتھوں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ قادیانیوں کی مزہبی آزادی کو دیگر اقلیتوں کی طرح نہ لیا جائے۔ یہ مسلمہ اور طے شدہ معاملہ ہے، اور ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے، مسلمانوں کے ایمان سے عقیدہ ختم نبوت نکال دیں تو پیچھے ایمان ہی نہیں بچتا۔ یہ کیسے ممکن ہے ،کہ کوئی اپنے آپ کو مسلمان بھی کہے اور عقیدہ ختم نبوت کا منکر بھی ہو۔ ہمیں یہ گوارا نہیں کہ کوئی مرزا غلام احمد قادیانی یا اسکا کوئی پیروکار کسی بھی حوالہ سے ظاہراً یا اشاروں کنایوں میں ہمارے آقا و مولا محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثل بننے یا انکے نام کو غلط استعمال کرنے کی جسارت کریں۔ اس طے شدہ مسئلہ سے ہٹ کر جو بھی فیصلہ جس فورم سے بھی آئے گا مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہوگا۔ میرے محدود فہم میں یہی مسئلہ قادیانیت کی آئینی اور شرعی تعبیر ہے۔
مسئلہ قادیانیت کی آئینی اور شرعی حیثیت، تحریر: عابد حسین قریشی



