اسلام آ باد (نیشنل ٹائمز)پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین برگیڈئیر(ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں عالمی مالیاتی اداروں کی خواہشات کے برعکس عوامی بجٹ پیش کیا ہے جو قابل تعریف ہے۔حکومت نے موبائل کالز ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ میں ایک سو ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس لے کر درست قدم اٹھایا ہے کیونکہ موجود ہ وباء کے دوران ٹیلی مواصلات پر دارومدار بہت بڑھ کیا ہے۔ تعمیراتی پیکج میں ایک سال کی توسیع کی جائے اورتمباکو چینی والے مشروبات اورسامان تعیش پر ٹیکس مزید بڑھا کر اسکی آمدنی کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلہ اور واٹر سیکورٹی کے لئے استعمال کیا جائے ۔محمد اسلم خان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ موسمیاتی تغیر گردشی قرضہ سے بڑا مسئلہ ہے جس سے معیشت کو سالانہ ڈیڑھ کھرب سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے مگر اس پر توجہ کم ہے جو اس شعبہ کے لئے بجٹ میں مختص کردہ سولہ ارب روپے کی رقم سے ظاہر ہے۔اس مسئلہ کو بھرپور توجہ نہ دی گئی تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بجلی کے نرخ میں چھیالیس فیصد اضافہ کا مطالبہ کر رہا ہے جسے تسلیم نہ کیا جائے کیونکہ اس سے معاشی ترقی کا عمل رک جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جسے روکا جائے کیونکہ اس سے کسان کے بجائے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور اب بھی وہ مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے لولے لنگڑے جواز پیش کر رہے ہیں جنکے خلاف سخت انتظامی کاروائی کی جائے۔مہنگائی پر قابو پانے سے مرکزی بینک شرح سود مزید کم کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا جس سے کاروباری اور روزگار میں اضافہ ہو گا۔ملک میں ساٹھ لاکھ دکاندار کھربوں روپے سے زیادہ کی پرچون فروشی کر رہے ہیںجن سے ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ ، ان ڈائرکیٹ ٹیکس میں کمی اور قرضوں پر انحصار کم کر کے کے زریعے غربت پر قابو پایا جا سکے۔
آئی ایم ایف کی لٹکتی تلوار کے باوجود عوامی بجٹ پیش کیا گیا



