شی زانگ کو سمجھنے کے لئے فلم کے بجائے وہاں کا دورہ کرنا بہتر قرار

بیجنگ (شِنہوا) چین کا شی زانگ خطہ اپنی بھرپور ثقافتی روایات، منفرد قدرتی حسن اور نمایاں ترقی کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس خطے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے بین الاقوامی ناظرین کو یکطرفہ عکاسی سے آگے بڑھ کر خود وہاں جا کر حالات کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
مغربی شہروں میں ان دنوں منعقد ہونے والا ’’تبت فلم فیسٹیول‘‘ اسی نوعیت کی یکطرفہ عکاسی کی ایک مثال ہے۔ یہ شی زانگ کے بارے میں حقیقی فہم و ادراک کو فروغ دینے میں بہت کم مدد دیتا ہے۔
ثقافت کو باہمی افہام و تفہیم کے لئے ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ اسے ایسے سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے جن کا ہدف خطے میں چین کی گورننس کو بدنام کرنا ہو۔
جو لوگ حقیقی دلچسپی اور مثبت مقصد کے تحت شی زانگ کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لئے سیکھنے کا ایک زیادہ براہِ راست طریقہ موجود ہے کہ چین آئیں اور خود اس خطے کا دورہ کریں۔ وہاں کی ترقی کا مشاہدہ، ثقافتی روایات کا تجربہ اور مقامی باشندوں سے ملاقات ایسے حقائق اور بصیرت فراہم کر سکتی ہے جنہیں کوئی ایک فلمی میلہ، بالخصوص سیاسی رنگ میں رنگا ہوا میلہ پیش نہیں کر سکتا۔
اس نام نہاد فلمی میلے کے پس پردہ ایک مانوس سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے۔ مغرب میں چین مخالف بعض قوتیں چین سے متعلق ہر معاملے کو تزویراتی رقابت کے تناظر میں دیکھتی ہیں، جبکہ علیحدگی پسند قوتیں اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے اس سوچ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
یہ قوتیں مل کر شی زانگ کو چین کو محدود کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا مقصد دنیا کو شی زانگ کے عوام، ثقافت، تاریخ اور جدید ترقی سے بہتر طور پر روشناس کرانا نہیں، بلکہ دیرینہ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے چین کو بدنام کرنا اور اختلافات کو ہوا دینا ہے۔
نام نہاد ’’تبت کی آزادی‘‘ کا تصور خود غیر ملکی مداخلت کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سامراجیوں کی جانب سے اپنے تزویراتی مفادات کے لئے اس خطے سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ تاہم آج اس علیحدگی پسند ایجنڈے کو دوبارہ زندہ کرنے کے خواہاں عناصر جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ کئی دہائیوں کی ترقی نے اس خطے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
جدید شاہراہوں اور ریلوے نے آمدورفت اور رابطوں کو بہتر بنایا ہے، تعلیم اور صحت کی سہولیات میں توسیع ہوئی ہے اور معیار زندگی بلند ہونے سے مقامی باشندوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اسی دوران جدیدیت کے ساتھ ساتھ شی زانگ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اس کے منفرد قدرتی ماحول کی حفاظت کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ یہ معمولی تفصیلات نہیں جنہیں نظرانداز کر دیا جائے، بلکہ آج کے شی زانگ کو سمجھنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
کوئی بھی فلمی میلہ، خواہ وہ چین کو تقسیم کرنے کے مطالبات کو کتنی ہی بلند آواز سے پیش کرے، شی زانگ کی شناخت کا تعین نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہاں کے عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ چین جب دنیا بھر کے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ افراد خود ملک کا دورہ کر رہے ہیں، تو حقائق کو مسخ کرنے اور حقیقی صورت حال کے درمیان فرق کو نظرانداز کرنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔



  تازہ ترین   
تہران اجلاس: پاکستان سمیت چار ممالک کا علاقائی امن کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
صدر، وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، شہداء کو خراج عقیدت پیش
مشکلات کے باوجود کشمیری اپنے عزم، حوصلے، ثابت قدمی پر قائم ہیں: اسحاق ڈار
مصر کا دفاعی معاونت کیلئے اہم فیصلہ، سعودیہ کو فوجی امداد کی منظوری دیدی
پاکستان کا سعودیہ کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
پیپلزپارٹی نے اتفاق رائے پیدا کیا، جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہئے: یوسف رضا گیلانی
سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر
افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد، دہشت گردی کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے: دفتر خارجہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر