موقع پر ہی انصاف لوگوں کو اچھا لگ رہا ہے۔ واہ واہ کی صدائیں بھی بلند ہو رہی ہیں، مگر کیا کسی مہزب معاشرہ میں نظام انصاف اسی طرح چلتا ہے۔ اگر فیصلہ پولیس نے ہی کرنا ہے، تو عدالتوں کا کیا رول بچتا ہے۔ اس میں کوئی بحث نہیں کہ ہمارے نظام انصاف میں بڑے سقم ہیں، اور سب سے بڑا بلکہ تکلیف دہ معاملہ تو انصاف میں غیر ضروری تاخیر ہے۔ فریقین مقدمہ کی حیلہ بازیاں، قانونی موشگافیاں، اور تاخیری حربے، سبھی مل کر اس نظام کو خراب کرنے کی نمایاں وجوہات ہیں۔ مگر کیا ہماری پارلیمنٹ، ہماری حکومتیں، ہمارے تھنک ٹینک اس نظام کی خرابی کے ذمہ دار نہیں۔ کیا کبھی کسی نے سنجیدگی سے سوچا کہ اس نظام کو بہتر نہیں بلکہ بہترین اور عام آدمی کے لئے کارآمد اور سود مند کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ نظام پر تنقید آسان ہے۔ مگر اسکی اصلاح جنہوں نے کرنا تھی، انہوں نے اصلاح کرنے کی بجائے ماورائے عدالت بندوں کو پھڑکانے کا نہایت سرعت انگیز کام شروع کرکے اب تھانوں کے اندر بھی فوری انصاف کا کام شروع کر دیا ہے۔ جب فیصلے عدالتوں میں چالان پہنچنے سے پہلے ہی ہونے شروع ہو جائیں گے، تو عدالتوں میں کون جائے گا۔عدلیہ کو بھی اس پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے، کہ نظام انصاف میں اس نئے عنصر کی تقویت کس قدر عدالتی نظام سے لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔مانا کہ ہمارا عدالتی نظام کوئی آیئڈیل نظام نہیں، مگر پھر بھی لوگ اسے ہی امید کی کرن سمجھتے ہیں۔اگر مقصد فوری انصاف ہی ہے، تو ضابطہ فوجداری اور ضابطہ دیوانی میں فوری ترامیم کرکے یہ کام عدالتوں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ مگر ایک چلتے نظام کو تو نہ لپیٹا جائے، اچھا برا جو بھی ہے، اس کو بے اثر کرکے ملک میں بہتری نہیں بلکہ انارکی پھیلے گی۔ جو کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ عدالتی نظام پر کاری وار ہے۔ مگر شاید ہم اس پر اس طرح غور نہیں کر رہے جس طرح کرنا چاہئیے۔ ممکن ہے کچھ دیر بعد یہ آواز اٹھے کہ چونکہ پولیس کے فوری انصاف سے لوگ خوش اور مطمئن ہیں، لہزا ان عدالتوں کی اب ضرورت ہی نہ رہی ہے۔
نظام انصاف پر کاری وار



