چالان کی چکی میں پستی ہے رعیت پنجاب کی
تختیوں پر نام لکھنے والو ذرا انجام سوچو
صاحبان ذی وقار اور اہل درد قارئین ذرا پنجاب کی اس سرزمین پر نگاہ ڈالیے جہاں کبھی بازاروں کی رونقیں زندگی کی علامت ہوا کرتی تھیں جہاں گلیوں میں محنت کش کے پسینے سے رزق اگتا تھا اور جہاں چھوٹا دکاندار اور ریڑھی بان اپنی محنت سے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی جمع کرتا تھا آج اسی پنجاب میں حکمرانی کا ایسا منظر دکھائی دے رہا ہے کہ غریب کے ہاتھ میں روزگار کے بجائے جرمانے کی پرچی تھما دی گئی ہے اس کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لی گئی ہے اور اس کی محنت کو قانون کے نام پر ایسی چکی میں ڈال دیا گیا ہے جس کے دونوں پاٹ سرکاری اختیار اور مالی وصولی کے بھاری پتھر بن چکے ہیں مریم نواز کا خاتون وزیراعلیٰ ہونا اپنی جگہ قابل احترام ہے اور کسی خاتون کے منصب یا شخصیت کی توہین ہمارا مقصد نہیں مگر منصب کا احترام طرز حکمرانی کو ظلم سے پاک کرنے کی ضمانت نہیں ہوتا سوال شخصیت کا نہیں اقتدار کے استعمال کا ہے سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے کروڑوں عوام کو حکمرانی کے نام پر محض ایک ایسا محکوم طبقہ سمجھ لیا گیا ہے جس سے ٹیکس بھی وصول کیا جائے جرمانے بھی لیے جائیں روزگار بھی چھینا جائے اور پھر اسی کی کمائی سے حکمران خاندان کے نام کی تختیاں بھی سجائی جائیں اگر یہ عوامی خدمت ہے تو پھر ظلم کسے کہتے ہیں اگر یہ فلاح ہے تو پھر تباہی کی تعریف کیا ہوگی تاریخ میں ہلاکو خان کا نام تباہی اور بربادی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے لیکن آج پنجاب کے عوام جس طرز حکمرانی سے دوچار ہیں اس میں بھی ایک عجیب بے رحمی دکھائی دیتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں شہر تلواروں سے اجاڑے جاتے تھے اور آج غریب کے چولہے پر جرمانوں اور پابندیوں کی ضرب لگتی ہے وہاں عمارتیں گرتی تھیں یہاں محنت کش کی روزی گرتی ہے وہاں خون کی ندیاں بہتی تھیں یہاں ایک ایک جرمانہ غریب کے گھر میں فاقے کی صورت اختیار کر لیتا ہے حکمرانوں کو شاید اندازہ نہیں کہ کسی غریب کی جیب سے آخری ہزار روپے نکلوانا بھی اس کے گھر میں کئی دن کی بھوک کا سبب بن سکتا ہے
ٹریفک چالان کے نام پر جو مہم چلائی جا رہی ہے اس نے قانون نافذ کرنے اور خزانہ بھرنے کے درمیان فرق ہی مٹا دیا ہے دنیا بھر میں ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داری سڑکوں پر نظم قائم کرنا حادثات روکنا ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور شہریوں کو محفوظ سفر فراہم کرنا ہے قانون شکنی پر جرمانہ اپنی جگہ مگر جب حکومتی کارروائی کا نمایاں چہرہ اصلاح کے بجائے وصولی بن جائے تو سوال اٹھنا لازمی ہے کہ ریاست شہریوں کو قانون کا پابند بنا رہی ہے یا شہریوں کی جیب کو اپنی آمدن کا ذریعہ سمجھ بیٹھی ہے اگر حکومت واقعی ٹریفک کا نظام درست کرنا چاہتی ہے تو پہلے سڑکوں کی حالت بہتر بنائے ٹریفک اشاروں کی درست تنصیب اور مرمت یقینی بنائے خطرناک مقامات کی نشاندہی کرے پارکنگ کا مناسب انتظام کرے ڈرائیونگ کے شعور کو عام کرے اور شہریوں کو قانون کی پابندی کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرے جہاں سڑکوں کا ڈھانچہ ناقص ہو جہاں اشارے غائب ہوں جہاں راستوں کی ترتیب شہریوں کے لیے الجھن بن چکی ہو وہاں صرف جرمانوں کی بوچھاڑ سے اصلاح نہیں ہوتی انتظامی ناکامی کو عوام کے کھاتے میں ڈالنا انصاف نہیں کہلاتا۔
قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی ہونی چاہیے مگر قانون کا مقصد شہریوں کی اصلاح اور تحفظ ہے نہ کہ انہیں معاشی طور پر نچوڑ دینا حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ جرمانوں سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ ہوتی ہے اس نظام کی نگرانی کیسے ہوتی ہے اور شہریوں کو غلط چالان کے خلاف فوری اور مؤثر داد رسی کیسے ملتی ہے اگر چالان کی کارروائی میں شفافیت نہیں اگر شہری کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں دشواری ہے اور اگر سزا کی شدت اس کی مالی حیثیت کے مقابلے میں غیر متناسب ہے تو اس نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ریاست کی ذمہ داری ہے
اسی طرح پیرا فورس اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر غریب کے روزگار کو کچلنے کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا ریڑھی بان کوئی جاگیردار نہیں کسی بڑے تجارتی ادارے کا مالک نہیں نہ اس کے پاس سرمایہ ہے نہ طاقتور پشت پناہی وہ تو اپنی محنت کے چند سکوں سے بچوں کا پیٹ پالتا ہے اگر تجاوزات کا مسئلہ ہے تو اس کا حل باقاعدہ جگہیں مختص کرنا منظم بازار قائم کرنا مناسب ضابطے بنانا اور متبادل روزگار فراہم کرنا ہے نہ کہ ایک ہی دن میں کسی کا سامان اٹھا کر اسے بے روزگاری اور بھوک کے حوالے کر دینا
پنجاب کے بازاروں میں چھوٹے کاروبار اور گلی محلوں کی منڈیاں محض تجارت نہیں بلکہ ہماری معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں بیوٹیفیکیشن کے نام پر شہر کی شکل سنوارنے کا حق حکومت کو ضرور ہے مگر اس حق کی آڑ میں شہریوں کی زندگیاں بگاڑنے کا اختیار کس نے دیا ہے ایسی خوبصورتی کس کام کی جس کے نیچے غریب کی آہیں دفن ہوں ایسی کشادہ سڑکیں کس کام کی جن کے کنارے سے محنت کش کی روزی غائب ہو جائے اور ایسے روشن بازار کس کام کے جہاں چھوٹے کاروباری کی زندگی اندھیروں میں ڈوب جائے۔
پھر تختیوں کا یہ شوق بھی کسی سے پوشیدہ نہیں سرکاری منصوبوں پر حکمران خاندان کے نام لکھنے کی روایت آخر کب ختم ہوگی عوام کے ٹیکس سے تعمیر ہونے والے منصوبے کسی خاندان کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتے یہ اس قوم کی امانت ہوتے ہیں جس نے اپنی محنت کی کمائی سے ان کی قیمت ادا کی ہوتی ہے میاں نواز شریف اور کلثوم نواز کے نام پر تختیاں لگانے کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو اس کے اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کیے جائیں عوامی خزانے کو خاندانی تشہیر کا ذریعہ بنانے کا جواز کیا ہے کس قانون نے کسی حکمران کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ عوام کی کمائی سے اپنے خاندان کی سیاسی یادگاریں تعمیر کرے عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ جب بجلی کے بلوں میں اضافے اور اوور بلنگ کی شکایات موجود ہیں جب آٹے اور دوسری بنیادی ضرورتوں کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو رہی ہیں جب گیس اور پانی کی فراہمی جیسے مسائل شہریوں کو پریشان کر رہے ہیں تو حکومت کی اولین ترجیح تشہیری تختیاں کیوں ہیں لیسکو کی اوور بلنگ کے معاملات ہوں یا سڑکوں اور گلیوں کی کھدائی کے بعد بحالی میں تاخیر عوام آخر کب تک سرکاری اداروں کی نااہلی کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے خزانہ خالی ہونے کا نوحہ غریب کے لیے اور نام روشن کرنے کے منصوبے حکمرانوں کے لیے آخر یہ کیسا انصاف ہے۔
اس تمام صورت حال میں عدلیہ کی ذمہ داری بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی اعلیٰ عدالتوں کو دیکھنا چاہیے کہ جرمانوں کے نظام میں قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہیں یا نہیں شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں یا نہیں سرکاری اختیارات کا استعمال قانون اور آئین کی حدود میں ہے یا نہیں کسی حکومتی اقدام سے روزگار اور معاشی زندگی پر غیر متناسب ضرب پڑ رہی ہو تو اس کا آزادانہ جائزہ لیا جانا چاہیے عدالتوں کا کام حکومت چلانا نہیں مگر حکومت کو قانون کی حدود میں رکھنا ضرور ہے خاموشی اگر شہریوں کے جائز حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ بن جائے تو پھر انصاف کے اداروں سے سوال اٹھنا فطری ہے۔
محترمہ مریم نواز صاحبہ یاد رکھیے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا تختیاں وقت کے ساتھ مٹی میں مل جاتی ہیں عمارتوں کے نام بدل جاتے ہیں سرکاری تشہیر کے رنگ اتر جاتے ہیں مگر عوام کے ساتھ ہونے والا سلوک تاریخ کے صفحات پر باقی رہتا ہے پنجاب کے عوام آپ کے مخالف نہیں آپ کے صوبے کے شہری ہیں ان کے مسائل حل کرنا ان کا روزگار بچانا ان کی عزت نفس کی حفاظت کرنا اور انہیں باوقار زندگی فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے انہیں ہر قدم پر ملزم بنا کر ہر راستے پر جرمانے کے خوف میں مبتلا کر کے اور ان کی روزی پر پابندیاں لگا کر کسی حکومت کی عظمت ثابت نہیں ہوتی۔
اللہ کے عذاب سے ڈریے اور اس دن کو یاد کیجیے جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں سے بھی ان کے اعمال کا حساب ہوگا عوام کی آہ کو کمزور نہ سمجھیے کیونکہ جب بھوک سے تنگ آدمی کی امید ٹوٹتی ہے تو اس کی فریاد صرف گلیوں تک محدود نہیں رہتی حکمرانوں کے لیے اصل خطرہ تنقید نہیں بلکہ وہ ناانصافی ہے جو لوگوں کے دلوں میں نفرت اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے ابھی وقت ہے کہ ناجائز اور غیر متناسب چالانوں کے نظام کا شفاف جائزہ لیا جائے پیرا فورس کی کارروائیوں کو قانون اور انسانی وقار کا پابند بنایا جائے چھوٹے کاروباریوں کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں اور سرکاری وسائل کو خاندانی تشہیر کے بجائے عوامی فلاح پر خرچ کیا جائے ورنہ یاد رکھیے گا کہ تخت پر بیٹھنے والے بدل جاتے ہیں مگر مظلوم کی فریاد تاریخ سے کبھی مٹتی نہیں اور تختیوں پر نام لکھنے والوں سے ایک دن یہی سوال ضرور ہوتا ہے کہ جب رعیت رو رہی تھی تو تم اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کی جیبیں کیوں ٹٹول رہے تھے



