قلم کے شہید اور زمین کے سوداگر

لکھتے لکھتے سچ کی سیاہی خون میں ڈھلتی گئی
اور مقتل میں قلم کی آبرو جلتی گئی

لکھنے کے لیے جب قلم کی جانب ہاھ بڑھایا تو دکھ کرب اور اذیت ناک لمحوں میں خود کو انتہاٸی لاچار اور کمزور پایا کیونکہ میں جب بھی ارشد شریف کا نام لکھنے بیٹھتا ہوں تو ہاتھ لرزنے لگتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ نام تنہا نہیں آتا بلکہ اپنے ساتھ شہید صحافیوں کا ایک پورا قافلہ لے کر آتا ہے۔ سوات کی وادی میں موسیٰ خان خیل کی گولیوں سے چھلنی لاش ہو یا اسلام آباد سے اٹھائے گئے سلیم شہزاد کا نہر سے برآمد ہونے والا مسخ شدہ جسم یا پھر کینیا کی اجنبی سرزمین پر گرنے والا ارشد شریف کا لہو یہ سب اس کربناک داستان کے باب ہیں جس میں سچ لکھنے اور سچ بولنے کی قیمت انسانی جان سے ادا کی گئی۔ ان واقعات نے بارہا یہ سوال اٹھایا کہ صحافی کے قتل کی تحقیقات اور انصاف کی فراہمی آخر کب تک ادھوری رہے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا صحافی کو صرف گولی نہیں مارتی بلکہ بھوک بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ بھی اس کے وجود کو لہولہان کرتے ہیں۔ جب کسی اخبار کا ادارہ بند ہوتا ہے جب کسی صحافی کی تنخواہ مہینوں رکی رہتی ہے اور جب کسی کارکن کے گھر کا چولہا بجھنے لگتا ہے تو یہ بھی صحافت کی آزادی پر ایک کاری ضرب ہوتی ہے۔ افسوس کہ اس صورت حال میں بعض وہ لوگ بھی اپنے کارکنوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں جن پر ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی تاریخ قربانیوں جدوجہد اور اصول پسندی کی تاریخ ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے صحافیوں کے معاشی حقوق اور آزادی صحافت کے لیے آمریتوں کے سامنے مزاحمت کی۔ منہاج برنا مرحوم اور نثار عثمانی مرحوم جیسے عظیم رہنماؤں نے اپنے کردار اور نظریاتی استقامت سے ثابت کیا کہ صحافتی قیادت کسی عہدے یا مراعات کا نام نہیں بلکہ کارکنوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور اصولوں پر ڈٹ جانے کا نام ہے۔ ان رہنماؤں نے پابندیوں گرفتاریوں اور مشکلات کے باوجود صحافیوں کی آواز بلند کی اور یہ پیغام دیا کہ قلم کی حرمت کسی ذاتی مفاد سے بڑی ہوتی ہے۔
پی ایف یو جے کی جدوجہد نے پاکستان میں آزادی صحافت کی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے تحریکیں چلانا سنسرشپ کے خلاف مزاحمت کرنا ملازمتوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرنا اس تنظیم کے تاریخی کردار کا حصہ رہا ہے۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران صحافیوں نے گرفتاریوں اور کوڑوں کی سزاؤں تک کا سامنا کیا مگر حق گوئی سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ان قربانیوں میں منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے رہنماؤں کی جدوجہد ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔ ان شخصیات نے ثابت کیا کہ صحافیوں کی اصل طاقت ان کی تنظیمی یکجہتی اور اصولوں سے وابستگی میں پوشیدہ ہے۔
لیکن آج دل کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب پی ایف یو جے کے نام پر ذاتی مفادات کی سیاست دکھائی دیتی ہے۔ جس تنظیم کو کارکنوں کی ڈھال ہونا چاہیے تھا اگر اسی کے بعض ذمہ داران کی ترجیحات پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ پوری صحافی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ صحافیوں کے معاشی قتل بے روزگاری اور اداروں کی بندش جیسے سنگین مسائل کے درمیان اگر کسی قیادت کی ساری توجہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور ذاتی مراعات پر مرکوز ہو جائے تو پھر کارکن کس سے امید باندھیں۔ تنظیم کسی فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا نام ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے نئے آنے والے اور معاشی مشکلات میں گھرے صحافیوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کارکنوں کے کاندھوں پر چڑھ کر عہدے حاصل کرنے والے اگر مشکل وقت میں انہی کارکنوں کو تنہا چھوڑ دیں تو انہیں اپنی قیادت کے دعووں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ صحافیوں کو اب یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ ان کی حقیقی نمائندگی کون کرتا ہے اور کون ان کے نام اور قربانیوں کو اپنے مفادات کی سیڑھی بناتا ہے۔ احتساب شخصیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار اور عمل کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ تنظیم میں اعتماد اور شفافیت بحال ہو سکے۔
پاکستان میں اخبارات کی موجودہ صورت حال بھی غیر معمولی توجہ کی متقاضی ہے۔ مالی مشکلات اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم بڑھتے ہوئے اخراجات اور قارئین تک رسائی کے بدلتے ذرائع نے پرنٹ میڈیا کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اخبارات صرف خبریں شائع کرنے والے ادارے نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کی اجتماعی یادداشت عوامی مسائل کی نشاندہی اور حکمرانوں کے احتساب کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔ جب مقامی اخبار بند ہوتا ہے تو اس کے ساتھ کئی صحافی بے روزگار ہوتے ہیں اور عوام کی آواز کا ایک دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر معلومات کی فراوانی کے ساتھ غیر مصدقہ خبروں پروپیگنڈے اور اشتعال انگیزی کے پھیلاؤ کا مسئلہ بھی سنگین ہو چکا ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موجود موبائل فون اسے خبر پھیلانے کی طاقت تو دیتا ہے لیکن خبر کی تصدیق اور ذمہ داری کا احساس ہر جگہ موجود نہیں۔ اس ماحول میں بعض عناصر صحافت کا لبادہ اوڑھ کر معاشرے میں انتشار پیدا کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیرونی دشمن قوتوں کی جانب سے پاکستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے لیے پروپیگنڈے کے امکانات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم اس چیلنج کا جواب اختلاف رائے کو دبانا نہیں بلکہ مستند معلومات تحقیق اور ذمہ دارانہ صحافت کو مضبوط بنانا ہے۔
میرا یقین ہے کہ اگر پاکستان میں پرنٹ میڈیا کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کیا جائے اور اخبارات کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اخبارات کی مضبوطی نوجوان نسل کو قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے عوامی مسائل اجاگر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا حقائق کی بنیاد پر جواب دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ریاستی اداروں اور حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ مضبوط اور آزاد میڈیا قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے ایک اہم معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اخبارات کو سرکاری سرپرستی کا محتاج بنانے کے بجائے شفاف اشتہاری پالیسی منصفانہ معاشی مواقع اور آزادی صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
بحیثیت سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس مجھے پوری امید ہے کہ ہم ماضی کی طرح پرنٹ میڈیا کو زندہ کرنے کی اس جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ اخبارات دوبارہ ایک جوان اور تنومند درخت کی صورت اختیار کریں جس کا سایہ معاشرے کے ہر طبقے تک پھیلے اور جس کی شاخوں پر سچائی تحقیق اور عوامی شعور کے پھول کھلیں۔ یہ منزل آسان نہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب صحافی متحد ہو کر اپنے حقوق اور اپنے پیشے کی حرمت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں تو مشکل سے مشکل حالات میں بھی راستے نکلے ہیں۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ پی ایف یو جے کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کارکن صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم بنایا جائے گا۔ صحافی کی تنخواہ اس کی عزت کا معاملہ ہے اس کی ملازمت اس کے خاندان کے مستقبل کا سوال ہے اور اس کے قلم کی آزادی پورے معاشرے کے شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ ارشد شریف کی روح کو سلام منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے عظیم رہنماؤں کی جدوجہد کو سلام اور ان تمام شہید صحافیوں کو سلام جنہوں نے سچ کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ ہمیں ان کے لہو کی حرمت کا پاس رکھنا ہے اور ان لوگوں کا راستہ روکنا ہے جو صحافت کو خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بناتے ہیں قلم کی حرمت زمین کے کسی ٹکڑے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اور صحافیوں کی اصل میراث پلاٹ نہیں بلکہ ان کا کردار ان کی جدوجہد اور ان کی سچائی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستان کے اخبارات دوبارہ اپنی پوری قوت کے ساتھ معاشرے کی رہنمائی کریں گے اور سچ کی آواز پہلے سے زیادہ توانا ہو کر ابھرے گی۔
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس کالم کا آغاز میں نے شہید ارشد شریف کی برسی کے موقع پر ان کی یاد اور ان کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا تھا۔ تاہم دوران تحریر جب صحافیوں کے مسائل ان کی معاشی مشکلات پرنٹ میڈیا کی زبوں حالی اور پاکستان میں میڈیا کی موجودہ صورت حال کے مختلف پہلو سامنے آئے تو یہ تمام معاملات بھی اس تحریر کا حصہ بنتے چلے گئے کیونکہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے شہید ساتھیوں میں ارشد شریف سمیت وہ تمام صحافی شامل ہیں جنہوں نے قلم کی حرمت سچائی اور حق گوئی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی قربانیاں ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ہم اس اثاثے کے وارث ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے کردار ان کی جدوجہد اور ان کی قربانیوں کی داستانیں آنے والی نسلوں اور نئے صحافیوں تک پہنچاتے رہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آزادی صحافت کی بنیاد کن قربانیوں پر استوار ہوئی ہے۔ ہم ان کے ناموں کی لاج رکھیں گے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور قلم کی حرمت کی حفاظت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے شہید ارشد شریف سمیت تمام شہید صحافیوں کی قربانیاں ہمارے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی اور ہم ان کی یاد اور ان کے نظریات کی آبیاری کرتے ہوئے اس عزم پر قائم رہیں گے کہ سچ کی یہ شمع کسی صورت بجھنے نہیں دیں گے۔



  تازہ ترین   
تہران اجلاس: پاکستان سمیت چار ممالک کا علاقائی امن کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
صدر، وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، شہداء کو خراج عقیدت پیش
مشکلات کے باوجود کشمیری اپنے عزم، حوصلے، ثابت قدمی پر قائم ہیں: اسحاق ڈار
مصر کا دفاعی معاونت کیلئے اہم فیصلہ، سعودیہ کو فوجی امداد کی منظوری دیدی
پاکستان کا سعودیہ کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
پیپلزپارٹی نے اتفاق رائے پیدا کیا، جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہئے: یوسف رضا گیلانی
سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر
افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد، دہشت گردی کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے: دفتر خارجہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر