نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ،انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان میں انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔مباحثے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے ، تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے ضروری ہے ، انتظامی یونٹس بڑھانے سے عوامی مسائل فوری حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں نئے صوبوں سے متعلق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا، میرا مشورہ ہے ڈویژن کی سطح پر نئے یونٹس بنا دیں، انگریز کے بنائے گئے ڈویژن جغرافیائی لحاظ سے ایک بہترین نظام ہیں۔ پورے ملک میں تقریباً 32 کے قریب ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنیں گے ، آپ کو پولیس کا نظام بھی لوکل کرنا پڑے گا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پولیس کا رویہ عوام سے بہتر ہے ، جتنی شدت سے صوبوں کا مطالبہ ہے ، اتنی ہی مخالفت بھی ہے ۔

مؤثر انتظامی نظام کے لیے پولیس کو بھی مقامی سطح پر منظم کرنا ہوگا ،سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں اور آئین میں اس حوالے سے طریقہ کار موجود ہے ، پاکستان کا اصل مسئلہ محض اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے ۔ ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی کے لیے 859 نمائندے ہیں، جبکہ ان کی تعداد ایک لاکھ تک ہونی چاہیے ، انہوں نے بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جاسکتی ہے ۔ آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے ، نئے صوبے بنانا تقسیم نہیں، سروس ڈلیوری کا مسئلہ ورٹیکل گیپ ہے ، ملک کی دو اسمبلیاں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا عمل انتہائی اہم ہے ، تاہم اس سے پہلے آبادی پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔مباحثے میں شرکا نے اس امر پر اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا کہ انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں، تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی حکومتوں کے استحکام اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کو یقینی بنایا جاسکے ۔



  تازہ ترین   
خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں کیلئے وفاق 160 ارب روپے فراہم کرے گا:شہباز شریف
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ریٹرننگ افسران مقرر کر دیئے گئے
عالمی بینک کی پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی
صارفین کیلئے اچھی خبر، ایل پی جی 50 روپے فی کلو سستی ہونے کا امکان
خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کیلئے وفاق کا تعاون ضروری ہے: فیصل کریم کنڈی
امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے شرائط پوری کرنی ہونگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف
افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر بھی دراندازی کی کوشش، چین کی سخت تنبیہ
شیبہ آئل فیلڈ پر حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، سعودی وزارت توانائی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر