ریاستِ پاکستان میں انصاف کا نظام اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عام شہری کے لیے قانون کی سختی اور طاقتور طبقے کے لیے قانون کی نرمی ایک تلخ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
ملتان میں کمسن یتیم بچے کو گاڑی تلے روند کر ہلاک کرنے کے مقدمے کے ملزم اور لائبہ کیس میں ویزے کے معاملے سے متعلق ایجنٹ ارسلان کی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آخر اس ملک میں انصاف کا حقیقی مفہوم کیا رہ گیا ہے؟ عوام کے ایک حلقے میں ان واقعات کو تیز ترین انصاف قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ عدالتوں میں برسوں مقدمات چلنے کے بعد بھی بعض مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں اور مظلوم خاندان انصاف کی آس لگائے اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ مگر اس صورتِ حال کا ایک دوسرا اور زیادہ سنگین پہلو بھی ہے کہ کسی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کو محض اس بنا پر انصاف نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر سنگین جرم کا الزام تھا۔ اگر پولیس مقابلہ حقیقی مسلح تصادم کا نتیجہ تھا تو اس کی قانونی حیثیت واضح ہونی چاہیے، اور اگر کسی شخص کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے تو اس کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ لیکن اس قانونی اصول کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان مظلوم خاندانوں کے دکھوں کو نظر انداز کر دیا جائے جن کے پیارے کسی کی بے حسی اور سفاکی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا نظامِ انصاف کیوں قائم نہیں ہو سکا جو مجرم کو بروقت سزا دلوا سکے اور بے گناہ کو ریاستی جبر سے محفوظ رکھ سکے؟ یہ کیسا ملک ہے جہاں غریب آدمی اپنے مقتول بچے کے لیے انصاف مانگتا ہے تو اسے تھانے، کچہری اور عدالت کے درمیان خوار ہونا پڑتا ہے، جبکہ بااثر خاندانوں سے متعلق مقدمات سامنے آئیں تو عوام کے ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ کہیں دولت اور تعلقات قانون کی راہ میں دیوار تو نہیں بن جائیں گے؟ یہ محض ایک عدالتی مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی اخلاقی ساکھ کا سوال ہے۔
پاکستانی معاشرہ اس وقت شدید معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ دولت مند طبقے کی آسائشوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب غریب خاندان اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزگار کے بنیادی تقاضے پورے کرنے کے لیے بھی پریشان ہیں۔
اس معاشی خلیج نے معاشرتی ناانصافی کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور جب اسی کے ساتھ انصاف کے دوہرے معیار کا تاثر بھی پیدا ہو تو عوام کے دلوں میں ریاست کے خلاف مایوسی جنم لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز متعدد مواقع پر خواتین کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے اور خواتین کی عزت و حرمت کو ریڈ لائن قرار دینے کا مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں، مگر محترمہ وزیراعلیٰ صاحبہ سے یہ سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ اگر خواتین کا تحفظ واقعی ریڈ لائن ہے تو اس اصول کا اطلاق ہر خاتون پر یکساں طور پر کیوں نہ ہو؟ اگر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی کا الزام سامنے آتا ہے اور اس ضمن میں پولیس کے پاس شواہد موجود ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تحقیقات میں کسی قسم کی مصلحت آڑے نہ آنے دے اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنائے۔
رضا ڈار سے متعلق الزامات اور ان کے مبینہ خاندانی تعلقات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات بھی اسی معیار پر پرکھے جانے چاہییں۔ اگر کسی شخص کے خلاف سنگین الزامات ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر الزامات ثابت نہیں ہوئے تو اسے محض عوامی غصے کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ تاہم حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ حساس معاملات میں ابہام کو طول دیں اور عوام کو بے یقینی میں مبتلا رہنے دیں۔ اگر کسی ملزم کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اسے سیاسی یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنا پر تحفظ حاصل ہے تو اس تاثر کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مریم نواز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریڈ لائن محض تقریروں میں ادا کیا جانے والا ایک پرکشش سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک ایسی عملی ذمہ داری ہے جس کا ثبوت ہر متاثرہ خاتون کو تحفظ اور ہر ملزم کے خلاف قانون کے یکساں نفاذ کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔
اسی طرح اسلام آباد میں جسٹس آصف کے برخوردار کی گاڑی سے دو نوجوان لڑکیوں کی ہلاکت کا واقعہ بھی اشرافیہ کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکر ان معصوم لڑکیوں کے گاڑی تلے کچلے جانے کے بعد سے اب تک جسٹس آصف کا برخوردار قانون کی گرفت سے ماشاءاللہ مکمل آزاد ہے، بلکہ دو بچیوں کا یہ قاتل برخوردار اب اس ریاست کا معزز شہری بھی ہے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف قانونی کارروائی میں امتیازی رعایت برتی جاتی ہے تو یہ صرف ایک مقدمے کی ناانصافی نہیں بلکہ پورے نظامِ عدل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں الزامات ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں تو یہ اصول بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی جج کا بیٹا ہو، کسی وزیر کا رشتہ دار ہو، کسی صنعت کار کا وارث ہو یا کسی سیاسی جماعت کا بااثر رہنما ہو، قانون کے سامنے اس کی حیثیت ایک عام شہری سے مختلف نہیں ہونی چاہیے۔
مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ اس تلخ حقیقت سے عبارت ہے کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں پر اپنے مخالفین کے خلاف ریاستی مشینری استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ آج جو جماعت اقتدار میں ہوتی ہے، وہ اپنے اقدامات کو قانون کی بالادستی قرار دیتی ہے، جبکہ مخالفین انہیں سیاسی انتقام کا نام دیتے ہیں، اور کل جب یہی جماعت اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو اس کے مؤقف بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی دوہرا رویہ ہماری سیاست کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ وفاقی حکومت ہو یا پنجاب سمیت دیگر صوبائی حکومتیں، سب پر لازم ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے قانون اور شواہد کی پابندی کریں اور کسی شخص کو محض سیاسی وابستگی کی بنا پر انتقام کا نشانہ نہ بنائیں۔ اگر کسی سیاسی رہنما نے جرم کیا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، اور اگر کسی شخص کو سیاسی مخالفت کی وجہ سے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے تو اس کی داد رسی کی جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست دانوں کے لیے اصول اکثر اقتدار کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔
اپنے کارکنوں کی گرفتاری پر انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں، اور مخالف جماعت کے کارکنوں کی گرفتاری پر قانون کی حکمرانی کے دعوے کیے جانے لگتے ہیں۔ یہ سیاست نہیں بلکہ اصولوں کے ساتھ کھلا تضاد ہے۔
ریاستی اداروں کو سیاسی وفاداریوں کا تابع بنانے کی کوششیں جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں اور عوام کے اس بنیادی حق کو متاثر کرتی ہیں جس کے تحت ہر شہری کو بلا امتیاز قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ اگر حکومت واقعی مضبوط ریاست کی خواہش مند ہے تو اسے اپنے مخالفین کو دبانے کے بجائے ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جہاں اس کے اپنے حامی بھی قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف کارروائی ہو سکے۔
عدالتوں کی سست روی اور انصاف کا جنازہ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے عدالتی نظام میں مقدمات کا طویل دورانیہ بھی ہے، جس کے باعث انصاف کے منتظر خاندان برسوں تک عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں۔ کبھی تفتیش ناقص ہوتی ہے، کبھی شواہد محفوظ نہیں کیے جاتے، کبھی گواہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اور کبھی مقدمات غیر ضروری التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ملزم کو قانونی ریلیف ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اور مظلوم خاندان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اس کے لیے انصاف کہاں ہے؟ پولیس کی تفتیش میں نقائص اور استغاثہ کی کمزوریوں کو دور کیے بغیر محض سخت سزاؤں کے اعلانات سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اگر ایف آئی آر درست طور پر درج نہ ہو، شواہد کی حفاظت نہ کی جائے اور تفتیشی افسران اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو عدالت کے سامنے جرم ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا اور تفتیشی نظام کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔
پارلیمنٹ کو بھی ایسی قانون سازی کرنا ہوگی جس کے ذریعے مقدمات کا فیصلہ بروقت ہو سکے اور متاثرین کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے نجات ملے۔ البتہ ضمانت کو ہر حال میں مجرم کی حمایت قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ ضمانت ایک قانونی اختیار ہے اور اس کا فیصلہ مقدمے کے حقائق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کے جائز تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے راستے بند کیے جائیں جن کے ذریعے بااثر ملزمان اپنے اثر و رسوخ یا کمزور تفتیش کا فائدہ اٹھا کر احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔
تیز ترین انصاف کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ختم کر دیا جائے، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ عدالت مقررہ مدت میں شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے۔
اب فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ پاکستان کے عوام کو اب سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں۔ انہیں ایسی پولیس چاہیے جو طاقتور کے سامنے سر نہ جھکائے، ایسی عدالتیں چاہییں جہاں مقدمات برسوں نہ لٹکے رہیں، ایسی پارلیمنٹ چاہیے جو عوام کے مسائل حل کرے، اور ایسی حکومتیں چاہییں جو اقتدار کو ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی ذمہ داری سمجھیں۔
ملتان کے واقعے میں کمسن یتیم بچے کی موت ہو یا لائبہ کیس سے متعلق الزامات ہوں، یا کسی بااثر خاندان سے منسوب حادثے اور مقدمے کے سوالات ہوں، ہر معاملے میں ایک ہی معیار اپنایا جانا چاہیے۔ مظلوم کو انصاف ملے، ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہو، اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ یہی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
پاکستان کسی سیاسی خاندان، کسی جماعت یا کسی اشرافیائی طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ ان کروڑوں شہریوں کا وطن ہے جو اپنی محنت سے اس ملک کی معیشت چلاتے ہیں اور اپنے ٹیکسوں سے ریاستی نظام کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ان شہریوں کو صرف انتخابات کے وقت یاد کرنا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے دکھوں کو فراموش کر دینا جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔
حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں قانون کمزور کے لیے بھی اتنا ہی طاقتور ہو جتنا طاقتور کے لیے، یا پھر ایسا معاشرہ جہاں غریب انصاف کی امید میں اپنی عمر گزار دے اور بااثر شخص اپنے تعلقات کے سائے میں اطمینان سے زندگی بسر کرتا رہے۔
پاکستان کو تیز ترین انصاف ضرور چاہیے، مگر ایسا انصاف جو آئین کے تابع ہو، جو شواہد کی بنیاد پر ہو، اور جو کسی سیاسی وابستگی، دولت یا خاندانی اثر و رسوخ کا محتاج نہ ہو۔
کیونکہ جس معاشرے میں انصاف طاقتور کی مٹھی میں قید ہو جائے، وہاں قانون کی کتابیں تو باقی رہتی ہیں، مگر قانون کی حرمت دم توڑنے لگتی ہے، اور جب قانون کی حرمت دم توڑ دے تو ریاست کی بنیادیں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں۔



