بیجنگ (شِنہوا) رواں سال کی پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران چین میں اشیاء کی پرچون فروخت اور خدمات کی فراہمی میں سالانہ بنیاد پر 2.6 فیصد اضافہ ہوا جو ملک کی کھپت کی صلاحیت کا ایک اہم اشاریہ ہے۔
قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مدت کے دوران خدمات کی فراہمی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5 فیصد جبکہ اشیاء کی فروخت میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔
خدمات کی طلب کے حوالے سے مواصلات و معلومات، سیاحتی مشاورت و لیزنگ، اور ثقافتی، کھیلوں و تفریحی شعبوں میں تیز رفتار نمو دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران اشیائے صرف کی مجموعی پرچون فروخت 370 کھرب یوآن (تقریباً 55.1 کھرب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.1 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں مادی اشیائے صرف کی فروخت اور کھانے پینے کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن دونوں شامل ہیں۔
این بی ایس کے مطابق صرف ستمبر میں اشیائے صرف کی مجموعی پرچون فروخت کی شرح 6 ماہ کی تیز ترین رفتار سے بڑھی جس میں سالانہ بنیاد پر 1.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
شہری علاقوں میں اشیائے صرف کی پرچون فروخت میں 0.9 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔
اشیاء اور خدمات کی آن لائن پرچون فروخت 151 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں اشیاء کی آن لائن فروخت میں سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد جبکہ آن لائن خدمات کی فروخت میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔
چین میں پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران اشیاء کی پرچون فروخت اور خدمات میں 2.6 فیصد اضافہ



