بیجنگ (شِنہوا) چین اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان ہائبرڈ گاڑیوں کی تجارت سے متعلق حالیہ اتفاق رائے سے پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کم ہونے، منڈی کی توقعات مستحکم ہونے اور دونوں جانب کاروباری اداروں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس سے اس شعبے میں زیادہ قابل پیش گوئی اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی راہ ہموار ہوگی۔
باہمی احترام اور مساوی مشاورت کے اصولوں کے تحت، بیجنگ میں چین۔یورپی یونین تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی طریقہ کار کے حالیہ اجلاس میں طے پانے والے اتفاق رائے کے تحت دونوں فریقوں نے ہائبرڈ گاڑیوں کے حوالے سے 3 بنیادی اصولوں پر زور دیا اور ان کی توثیق کی۔ ان میں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کی پابندی، امتیازی سلوک سے گریز اور حقائق کا احترام شامل ہیں۔
اس انتظام کے تحت چین عالمی تجارتی تنظیم کے دائرہ کار میں اپنے تمام حقوق برقرار رکھے گا، جن میں تنازعات کے حل کے لئے رجوع کرنے اور تجارتی معاوضے کا مطالبہ کرنے کا حق بھی شامل ہے، جبکہ چینی مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ اس انتظام میں 2025 کے تجارتی حجم کو بنیادی معیار بھی قرار دیا گیا ہے، جس سے یورپ کو چین کی ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات میں مزید اضافے کی گنجائش برقرار رہے گی۔
یہ اتفاق رائے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی منڈی میں چین کی ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ 2024 میں یورپی یونین نے چین میں تیار ہونے والی بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں پر 35.3 فیصد تک اضافی ڈیوٹی عائد کی تھی، تاہم ہائبرڈ گاڑیوں کو ان اضافی محصولات سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔
اس کے بعد یورپ کو چین کی ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یورپی شماریاتی ادارے یورو اسٹیٹ کے مطابق یورپی یونین نے 2024 میں چین سے ایک لاکھ 7 ہزار ہائبرڈ گاڑیاں درآمد کیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 2 ہزار ہو گئی۔
چین اور یورپی یونین کے درمیان گاڑیوں کی تجارت پر اتفاق رائے سے غیر یقینی صورتحال میں کمی اور باہمی فائدہ ہوگا



