تہران (نیشنل ٹائمز)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکی اور اسرائیلی جنگ اور اقتصادی ناکہ بندی ہے ۔ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات نے خطے کے امن و سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ اس موقع پرروسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس کبھی بھی ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کو خوراک اور طبی امداد کی پیشکش کی ہے۔
ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے کہا ہے کہ اگر ہمارے بجلی گھروں اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو ایران نو ممالک کے بجلی گھروں اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔محمد مخبر نے کہاکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز سے دستبردار ہو جانا چاہیے تاکہ ملک کے دیگر حصوں کو محفوظ رکھا جا سکے ۔پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس نئی کارروائیاں کرنے کی فنی اور عسکری صلاحیت نہیں، تاہم وہ شاید کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
حسین محبی نے کہاامریکا اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے جس سے اسے نئی کامیابیاں حاصل ہوں۔ خطے میں موجود امریکی اڈوں کا بیشتر حصہ غیر فعال کر دیا گیا ہے ، ان کی افواج، تھکاوٹ کا شکار ہونے کے علاوہ، ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور منتقل ہو چکی ہیں۔ جرمنی نے یہودی اور اسرائیل نواز شخصیات کے قتل کی سازش کے الزام میں دو افراد کو قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پیر کو ایرانی سفیر کو طلب کرلیا۔ ایران نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔



