برسلز: (نیشنل ٹائمز) بیلجیئم، لکسمبرگ اور یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے یورپی پارلیمنٹ میں ’’عالمی نظامِ حکمرانی کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے عالمی امن و استحکام کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔سفیر پاکستان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان عالمی امن و استحکام کے لیے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام عالمی نظام کے استحکام اور بین الاقوامی قانون کی بقا کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کا چنیدہ اطلاق عالمی قانون کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ریاستوں کے درمیان تعاون کو بھی کمزور کرتا ہے۔رحیم حیات قریشی نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد مساوی حقوق، باہمی احترام اور انصاف پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات اور عالمی مفاد سے متعلق معاملات میں تمام متعلقہ فریقوں کی مؤثر شمولیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی نظام میں اصلاحات کے لیے شمولیت اور انصاف کے اصولوں کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، جو معاملات سب کو متاثر کرتے ہیں، ان پر فیصلوں میں سب کی رائے شامل ہونی چاہیے۔سفیر پاکستان نے عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ جامع اور منصفانہ بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ عالمی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس کے دوران سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ چیک ریپبلک سے تعلق رکھنے والے رکن یورپی پارلیمنٹ آندریے دوستال نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی، جبکہ جرمن رکن یورپی پارلیمنٹ مائیکل وان ڈیر شولنبرگ نے بھی اس معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی پاسداری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔سفیر رحیم حیات قریشی نے مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس دیرینہ تنازعے کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔یورپی پارلیمنٹ میں ہونے والی یہ گفتگو عالمی نظامِ حکمرانی میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری، ریاستوں کے مساوی حقوق، معاہدوں کے احترام اور اہم عالمی معاملات میں تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور مسئلہ کشمیر کے حل پر زور



