عابد حسین قریشی
(حصہ اوّل)
سچ کیا ہے؟
جو سننے والے کو اچھا لگے۔
انصاف کیا ہے؟
جو میرے حق میں ہو۔
گورنر راج کیا ہے؟
جس میں دستخط تو گورنر کے ہوں، مگر راج کسی اور کا ہو۔
غصہ کیا ہے۔ جو کمزور پر فوری اور بلا وجہ بھی آئے۔
دل کیا ہے؟
دل نازک ہے، حساس ہے اور محبت کا متلاشی ہے۔ چوٹ لگنے پر زیادہ حساس ہو تو ڈوب جاتا ہے، اور سخت ہو تو سہہ جاتا ہے۔
دماغ کیا ہے؟
منصوبہ ساز ہے، پلانر ہے، چالیں چلتا ہے اور دلوں کے معاملات خراب بھی کر دیتا ہے۔
تعلقات کیا ہوتے ہیں؟
یہ دو طرفہ مفادات کا کھیل ہوتے ہیں، جس میں خلوص کم اور غرض زیادہ ہوتی ہے۔
نیاز مندی کیا ہے؟
جس میں ’’نیاز‘‘ بھی ہو، ورنہ پھر صرف ’’مندی‘‘ ہی ہوتی ہے۔
جمہوریت کیا ہے؟
جمہوریت کی دنیا میں دو قسمیں ہیں: پاکستانی جمہوریت اور مغربی جمہوریت۔
مغربی جمہوریت تو کتابی اور آئینی سی ہے، لیکن اصل مزہ تو پاکستانی جمہوریت میں ہے!
اس جمہوریت میں ووٹ ڈالنے والوں سے ووٹ گننے والے زیادہ اہم ہوتے ہیں، اور حکمرانی کا حق اسی کو حاصل ہوتا ہے جسے ووٹ گننے والوں کی آشیرباد حاصل ہو۔
ضمیر کیا ہے؟
جو گناہ سے روکتا نہیں، صرف اس کا مزا کرکرا کرتا ہے۔
ضمیر زندہ ہو تو لاکھ کا، اور مردہ ہو تو سوا لاکھ کا!
ضمیر جاگ رہا ہو تو بے چین کر دیتا ہے، اور سویا ہوا ہو تو موجاں ای موجاں!
بزرگی کیا ہے؟
اس کا عمر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جب آپ کی اہلیہ آپ پر ’’شک‘‘ کرنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ آپ بزرگی میں داخل ہو چکے ہیں!
افسر کیا ہوتا ہے؟
جو ماتحت پر ہمیشہ شک و شبہ کی نگاہ ڈالے، اپنے سے اوپر والوں سے ڈرے اور نیچے والوں کو ڈرائے۔
ماتحت کیا ہوتا ہے؟
جو ہمہ وقت اپنے افسر کی نقل و حرکات پر نظر رکھے اور کام سے زیادہ اپنی مراعات پر غور و فکر کرتا رہے۔
فہم و فراست کیا ہے؟
کسی دوسرے کی بات کو جلد سمجھ لینا فہم ہے، اور نامناسب بات کو روک لینا، لاحاصل بحث سے بچنا اور احمق کے وار سے محفوظ رہنا فراست ہے۔
حکمت کیا ہے؟
حکمت، دانائی سے بھی زیادہ کمیاب، بلکہ نایاب جنس ہے۔
جہالت کیا ہوتی ہے؟
یہ اختیاری ہوتی ہے، ورثہ نہیں!
امیر اور دولت مند میں کیا فرق ہے؟
دولت مند وہ ہے جو مال و متاع زیادہ رکھتا ہے، مگر دل کا بخیل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، امیر وہ ہے جو دل کا غنی ہو، خواہ اس کے پاس دولت کم ہی کیوں نہ ہو۔
ایلیٹ کیا ہے؟
یہ ایک ایسی کلاس ہے جو عام لوگوں میں رہنا پسند نہیں کرتی، جس کی دولت اپنے ملک سے زیادہ بیرونِ ملک ہوتی ہے اور جو ہنگامی حالات میں ہمہ وقت ملک چھوڑنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ (جاری ہے)



