صوبہ خیبر پختونخوا میں لگنے والے گورنر راج سے متعلق اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی ناقص پالیسیاں اور ہر وقت کے احتجاج، دھرنے اور دھمکیوں کی بابت نوبت گورنر راج تک آئی، کیونکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں صرف احتجاج سرفہرست تھا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عوام کے بنیادی مسائل جیسے بنیادی سوالات ایک دوسرے سے الجھ گئے تھے۔ گیارہ اکتوبر 2026ء کو وفاقی حکومت کی سفارش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے صوبے میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ ہونے اور صوبائی انتظامیہ کے عدم تعاون نے یہ صورتِ حال پیدا کی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام اور صوبائی اختیار میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ایک صوبے میں امن و امان کا بحران شدت اختیار کر جائے تو کیا سیاست کا محور عوام کی جان و مال کا تحفظ ہونا چاہیے یا اقتدار کی کشمکش اور احتجاجی تحریکوں کو اولیت دی جانی چاہیے۔
خیبر پختونخوا کوئی عام سیاسی خطہ نہیں، بلکہ وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے ہزاروں شہریوں اور اہلکاروں کی قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کے عوام نے بم دھماکوں، مسلح حملوں، نقل مکانی، کاروبار کی تباہی اور خوف کے ماحول میں زندگی گزاری ہے۔ قبائلی اضلاع سے لے کر شہری مراکز تک امن کا قیام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر یہ سوال اٹھانا بالکل جائز ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے اور وفاق کے ساتھ اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔ حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامیہ پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عدم تعاون کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں پی ٹی آئی مسترد کرتی ہے۔ ان الزامات کی حتمی جانچ متعلقہ شواہد اور قانونی عمل کے ذریعے ہونی چاہیے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑی ہے۔
وزیراعلیٰ کا منصب محض سرکاری گاڑی، پروٹوکول، سرکاری رہائش گاہ اور سیاسی جلسوں میں خطابت کا نام نہیں ہوتا۔ یہ منصب عوام کے جان و مال کے تحفظ، انتظامی مشینری کی نگرانی، تعلیم و صحت کی بہتری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صوبے کے مالی وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی صوبے کے عوام دہشت گردی کے خوف میں مبتلا ہوں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں، تعلیمی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہو اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر سوالات اٹھ رہے ہوں تو حکومت سے جواب طلب کرنا عوام کا حق ہے۔ احتجاج اور سیاسی سرگرمی جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن ان سرگرمیوں کے دوران حکومتی ذمہ داریوں سے غفلت کا الزام ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی کو اسی تناظر میں پرکھنا چاہیے کہ آیا اس نے صوبے کے بنیادی مسائل کے حل میں کوئی قابل پیمائش پیش رفت کی یا سیاسی محاذ آرائی نے حکومتی ترجیحات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کا حق اور حکمرانی کی ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ کوئی جماعت وفاقی حکومت سے اختلاف کر سکتی ہے، اپنے قائد کی رہائی کا مطالبہ کر سکتی ہے، پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کر سکتی ہے اور عدالتوں سے رجوع کر سکتی ہے، لیکن جب اسی جماعت کے پاس صوبے کی حکومت ہو تو اسے اپنے شہریوں کے تحفظ اور روزمرہ انتظامی معاملات کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ دن بھر سیاسی مارچ اور احتجاج کی قیادت کرنے کے بعد سرکاری ذمہ داریوں سے لاتعلقی کا تاثر پیدا ہو تو عوام کے ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے سیاسی مطالبات کے ساتھ ساتھ پولیس، صحت، تعلیم، مالیات اور مقامی انتظامیہ کو کس طرح مؤثر بناتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وفاق نے صوبے کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے تو اسے مالی اعداد و شمار، سرکاری مراسلات اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی واضح کرنا ہوگا کہ اس نے صوبے کے جائز مالی اور انتظامی حقوق کی ادائیگی میں کیا کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار بھی اس بحران میں اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر راج کے فیصلے سے پہلے صوبائی قیادت کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں کیں اور چار اکتوبر کو محسن نقوی نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات میں امن و امان اور احتجاجی مارچ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی انتظامات اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق خدشات پر گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔
ان حالات میں محسن نقوی کی ذمہ داری پہلے کی نسبت بہت حد تک بڑھ چکی ہے کیونکہ گورنر راج سے قبل بھی محسن نقوی صوبائی اداروں اور وفاق کے درمیان رابطے کا اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے متعدد بار یہ کوشش کی کہ سہیل خان آفریدی دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کی پالیسیوں میں اپنا آئینی کردار ادا کریں۔ متعدد بار محسن نقوی نے سہیل خان آفریدی سے صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے ہر ممکن مالی مدد اور دیگر ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کا عندیہ دیا مگر سہیل خان آفریدی نے ہمیشہ اس آفر کو بھی اپنے سیاسی انتشار کے پاؤں تلے روند دیا۔ آخر یہ سب کیوں کیا گیا؟ صوبے کے عوام کو کیوں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا؟ اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کی قیادت کو لازمی دینا پڑے گا، جبکہ
احتجاجی سیاست کے معاشی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب شاہراہیں بند ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ متاثر ہوتی ہے، کاروباری مراکز تک رسائی محدود ہوتی ہے اور شہری معمولات زندگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا بوجھ براہ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔ مزدور کی دیہاڑی متاثر ہوتی ہے، دکاندار کی فروخت کم ہوتی ہے، مریض کو ہسپتال پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کار بھی ایسے ماحول میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں جہاں سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے خدشات بڑھ رہے ہوں۔ تاہم، معاشی نقصان کے بارے میں اربوں روپے کے روزانہ اعداد و شمار پیش کرنے سے پہلے معتبر تخمینوں اور متعلقہ اداروں کے اعداد و شمار کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی، ناقص معاشی پالیسیوں، مہنگائی اور انتظامی کمزوریوں کے معاشی اثرات کو صرف احتجاج کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ذمہ دار سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق اپنے فیصلوں کے نتائج کا جائزہ لے اور عوام کے روزگار اور کاروبار کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانے سے گریز کرے۔
گورنر راج کے دفاع میں سب سے اہم دلیل امن و امان اور آئینی مشینری کے مؤثر طور پر کام کرنے سے متعلق وفاقی حکومت کا مؤقف ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت ایسی صورت حال میں صدر مملکت کو مخصوص اختیارات حاصل ہیں جب انہیں یہ اطمینان ہو کہ صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس اختیار کے استعمال کے ساتھ آئینی شرائط اور پارلیمانی نگرانی بھی وابستہ ہیں، اس لیے گورنر راج کو نہ تو محض سیاسی انتقام کہہ کر اس کے قانونی سوالات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ہر تنقید سے بالاتر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کی کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ کیا دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بہتری آتی ہے، کیا شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے، کیا سرکاری خدمات بحال اور بہتر ہوتی ہیں اور کیا آئینی تقاضوں کی پابندی کی جاتی ہے۔ اگر یہ اقدامات عوامی تحفظ اور انتظامی بہتری کے لیے اٹھائے گئے ہیں تو ان کے نتائج بھی شفاف انداز میں سامنے آنے چاہییں۔
اب صوبے کے معاملات چلانے کے لیے قائم مشاورتی کونسل کے سامنے سب سے بڑا امتحان کارکردگی کا ہے۔ اسے محض سیاسی چہروں کی تبدیلی یا انتظامی اختیارات کی منتقلی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ امن و امان، تعلیم، صحت، صنعت، روزگار، مالی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کے لیے واضح ترجیحات مرتب کرنی چاہییں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا، متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنا اور صوبے کے مالی معاملات کو شفاف بنانا بنیادی اہداف ہونے چاہییں۔ وفاقی حکومت کو بھی صوبے کے جائز حقوق اور ضروری وسائل کی فراہمی کے معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشاورتی کونسل کے ساتھ بامعنی تعاون کریں اور اختلافات کو آئینی و سیاسی راستوں سے آگے بڑھائیں۔ کسی بھی جماعت کو اختلاف رائے سے محروم کرنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن کسی جماعت کو حکومتی ذمہ داریوں سے بے نیاز رہنے کا حق بھی حاصل نہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو نعروں سے زیادہ امن، روزگار، تعلیم، علاج اور باعزت زندگی درکار ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی فتح کا سہرا کس کے سر بندھتا ہے، بلکہ ان کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ان کے بچے محفوظ رہیں، کاروبار چلیں، ہسپتال کام کریں اور ریاستی ادارے شہریوں کی خدمت کریں۔ پی ٹی آئی کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ثابت کرے کہ اس کی ترجیح صرف احتجاج نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی بھی ہے۔ وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ کڑا امتحان ہے کہ وہ گورنر راج کو سیاسی برتری کا ذریعہ بنانے کے بجائے امن اور انتظامی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ محسن نقوی اور متعلقہ وفاقی حکام کو مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں اور ہر قدم آئین، قانون اور شہری آزادیوں کے احترام کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔ تاریخ کسی سیاسی جماعت کو محض اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے پرکھتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اصل کامیابی اسی دن ہوگی جب خوف کی جگہ امن، انتشار کی جگہ نظم، سیاسی محاذ آرائی کی جگہ قومی ذمہ داری اور محرومی کی جگہ عوامی آسودگی لے لے گی۔



