اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ ’’سیکرٹری جنرل بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے مجموعی اثرات، بالخصوص عدالت کی جانب سے اپنے اہم فرائض کی انجام دہی جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان فرائض میں سلامتی کونسل اور روم معاہدے کے فریق ممالک کی جانب سے عدالت کو بھیجے گئے معاملات سے متعلق کارروائیاں بھی شامل ہیں۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’’آج کا فیصلہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کے حصول کے لئے ہماری اجتماعی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا ہے جس میں آئی سی سی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کو جواب دہ ٹھہرانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا امن، سلامتی، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لئے ہمارے عالمی عزم کا بنیادی حصہ ہیں۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اس کے عہدیداروں کی خودمختاری کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گوتریس نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور عالمی برادری کے لئے باعث تشویش سنگین ترین جرائم پر جواب دہی یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کی آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کی مذمت



