بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین نام نہاد ” پیداواری صلاحیت کی انتہا” کو جواز بنا کر تجارتی تحفظ پسندی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متعلقہ معیشتوں نے چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کئے تو چین ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔
ترجمان نے یہ بیان ذرائع ابلاغ کے ایک سوال کے جواب میں دیا۔ سوال امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے بدھ کو جاری کردہ اعلان سے متعلق تھا، جس کے مطابق امریکہ نے 14 دیگر معیشتوں کے اعلیٰ حکام کو نام نہاد “پیداواری صلاحیت کی انتہا” سے متعلق مشترکہ وزارتی بیان پر دستخط کرنے کے لئے جمع کیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ چین مختلف مواقع پر نام نہاد “اضافی پیداواری صلاحیت” کے معاملے پر اپنا موقف واضح کر چکا ہے اور اس حوالے سے جولائی میں ایک خصوصی دستاویز بھی جاری کی تھی۔
ان کے مطابق چین کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پیداواری صلاحیت کے معاملات کا جائزہ جامع، غیر جانب دار اور منصفانہ انداز میں لیا جانا چاہیے۔ اپنی صنعتی مسابقت اور منڈی میں حیثیت کے بارے میں خدشات کی بنیاد پر اقتصادی اور تجارتی معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
ترجمان نے زور دیا کہ چین نام نہاد “پیداواری صلاحیت کی انتہا” سے نمٹنے کے نام پر بعض ممالک کی جانب سے تجارتی تحفظ پسندی اختیار کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے عالمی اقتصادی اور تجارتی نظام متاثر ہوگا، عالمی صنعتی اور سپلائی چینز کا استحکام کمزور ہوگا اور عالمی اقتصادی ترقی کو طویل مدتی خطرات لاحق ہوں گے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ معیشتوں نے اس معاملے کو بہانہ بنا کر چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کئے تو چین ضروری جوابی کارروائی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین وسعت اور تعاون کے ذریعے جدید صنعتی نظام کی تشکیل کے لئے پرعزم ہے اور ایک منصفانہ اور مساوی بین الاقوامی اقتصادی نظام کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
ترجمان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کثیرجہتی نظام کو برقرار رکھیں، باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دیں، مارکیٹ معیشت کے اصولوں کا احترام کریں اور عالمی صنعتی و ترسیلی سلسلے میں مشترکہ تعاون کے نظام کے تحفظ کے لئے مشترکہ کوششیں کریں۔
چین کا “پیداواری صلاحیت کی انتہا” کے بہانے تجارتی تحفظ پسندی کے خلاف انتباہ



