صنعا (شِنہوا) یمن کے حوثی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر سکتا ہے اور تنازع میں شامل ہونے والے کسی بھی ملک جوابی کارروائی کرے گا۔ یہ انتباہ یمن کے تزویراتی اہمیت کے حامل بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
لبنان میں قائم المیادین ٹیلی ویژن کی طرف سے نشر کئے گئے ایک انٹرویو میں حوثی پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ سرکاری فورسز نے اپنی تازہ جارحیت کے دوران پیش قدمی کر کےحوثی دفاعی لائنوں کو توڑ دیا تھا، لیکن دعویٰ کیا کہ اس پیش قدمی کو اس کے بعد سے روک لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ایک جگہ دفاعی لائن میں شگاف پڑا تھا، لیکن ہم نے اسے پر کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حوثی گروپ کے پاس سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بند کرنے کی فوجی صلاحیت موجود ہے اور خبردار کیا کہ مخاصمت جاری رہنے کی صورت میں سعودی عرب کے مزید وسیع بنیادی ڈھانچے کو حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
علاقائی ممالک کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے البخیتی نے کہا کہ حوثیوں کو توقع نہیں کہ ترکیہ یا پاکستان یمن کے اندر براہ راست فوجی کارروائیوں میں شامل ہوں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ گروپ بالواسطہ شمولیت کو بھی جنگ میں شرکت تصور کرے گا اور اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوگا۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق سعودی عرب میں فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کریں گے اور ان کی فوری تعیناتی یقینی بنائیں گے۔
دھمکیوں کے باوجود البخیتی نے تنازع ختم کرنے کو ’’مشترکہ مفاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی سے سعودی عرب اور یمن دونوں کو فائدہ ہوگا۔
ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے جنوب مغربی ساحل کے ساتھ لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے باب المندب آبنائے کے اطراف حوثی ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے، جسے سعودی فضائیہ کی بھرپور فضائی مدد حاصل تھی۔ حوثیوں نے ستمبر میں المخا اور قریبی میون جزیرے پر قبضہ کرکے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اس اہم آبی گزرگاہ کے اطراف اپنی موجودگی مزید مضبوط کر لی تھی۔
حکومتی فورسز کی تازہ زمینی کارروائی کے ساتھ سرحد پار حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور فوجی اہداف پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جبکہ سعودی جنگی طیاروں نے یمن بھر میں حوثی ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔
یمن 2014 کے اواخر سے تنازع کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے 2015 میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔
حوثی گروپ کا یمن تنازع میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف انتباہ



