بیجنگ (شِنہوا) چین نے جمعرات کو طبی بحالی اور نگہداشت کی خدمات کو وسعت دینے اور بہتر بنانے کا منصوبہ جاری کیا ہے، جس کے تحت خدمات کے وسائل میں اضافہ، پیشہ ورانہ تربیت کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔
قومی صحت کمیشن اور قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کی جانب سے جاری کردہ عملی منصوبے کے تحت جن شہروں میں آبادی زیادہ، آبادی کی عمر تیزی سے بڑھ رہی ہو اور بحالی و نگہداشت کی خدمات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہو، وہاں 2030 تک کم از کم ایک سرکاری بحالی صحت ہسپتال اور ایک سرکاری نگہداشت مرکز قائم کرنے کی توقع ہے۔
اس منصوبے کا مقصد 2030 تک ہر ایک ہزار افراد کے لئے تقریباً 0.48 بحالی اور نگہداشت کے بستروں جبکہ ہر 10 ہزار افراد کے لئے 0.7 بحالی کے طبی ماہرین اور 1.6 بحالی کے معالجین کی دستیابی یقینی بنانا بھی ہے۔
خدمات کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے منصوبے میں بحالی صحت اور نگہداشت کی خدمات کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور طبی و صحت کے اداروں میں بحالی صحت اور نگہداشت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
منصوبے میں 10 لاکھ سے زیادہ شہری آبادی رکھنے والے صوبائی سطح سے نچلے اور اس سے اوپر کے درجے کے شہروں میں طبی بحالی اور نگہداشت کی خدمات کو وسعت دینے اور بہتر بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس میں جامعات اور پیشہ ورانہ کالجوں میں بحالی صحت اور نگہداشت سے متعلق شعبوں اور پروگراموں کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں ضرورت کے مطابق داخلوں میں اضافہ اور تربیت کو روزگار کی ضروریات سے زیادہ ہم آہنگ کرنا شامل ہے۔
چین میں طبی بحالی اور نگہداشت کی خدمات کو وسعت دینے کے منصوبے کا اجرا



