دارالسلام (شِنہوا) دنیا بھر میں 5 اکتوبر کو منائے جانے والے عالمی یوم اساتذہ پر چین اور تنزانیہ کے ماہرین تعلیم تنزانیہ میں چینی زبان کی تعلیم کو فروغ دینے اور وسعت دینے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس تعاون میں مقامی لسانی مہارت کو مقامی ثقافتی فہم کے ساتھ یکجا کیا جا رہا ہے۔
تنزانیہ کی ٹیچر گلوریا مشانا کے لئے چینی زبان پڑھانا محض الفاظ اور قواعد سمجھانے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک اجنبی زبان کو مقامی تجربات سے جوڑنا بھی شامل ہے۔
4 موسموں کے بارے میں پڑھاتے ہوئے مشانا چین میں قیام کے اپنے ذاتی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے تنزانیہ کے طلبہ کو بہار، گرمی، خزاں اور سردی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ تنزانیہ کے طلبہ ان موسموں میں نمایاں فرق سے نسبتاً کم واقف ہیں۔
تاہم کلاس روم میں اس تعلیم کے زیادہ سے زیادہ اثرات کے لئے حقیقی معنوں میں باہمی تعاون پر مبنی طریقہ کار ضروری ہے۔ مثال کے طور پر چینی کھانوں سے متعلق موضوع پڑھاتے وقت مقامی چینی اساتذہ کھانوں سے متعلق اصطلاحات کی باریکیوں اور ان کے ثقافتی پس منظر کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس کے بعد مشانا تصاویر، ویڈیوز اور قابل فہم مثالوں کے ذریعے اس موضوع کو مزید واضح کرتی ہیں، یوں چینی روایات اور تنزانیہ کی مہمان نوازی کے درمیان موجود فرق کو پر کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مقامی ضروریات کے مطابق اختیار کیا گیا طریقہ تدریس دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی شراکت داری کی مضبوطی کو اجاگر کرتا ہے۔ چینی اساتذہ جہاں زبان کے حوالے سے پیشہ ورانہ مہارت فراہم کرتے ہیں، وہیں ان کے تنزانیہ کے ساتھی بالخصوص ان ابتدائی درجے کے طلبہ کے لئے ابلاغی رکاوٹیں دور کرنے میں مدد دیتے ہیں جو سواحلی زبان میں روانی رکھتے ہیں۔
دارالسلام یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ (سی آئی۔یو ڈی ایس ایم) کے زیر انتظام اردھی یونیورسٹی کے تدریسی مرکز میں چینی رضاکار ٹیچر لیو مو کے لئے یہ تعاون انتہائی اہم ثابت ہوا ہے۔ اپنے دوسرے سال میں 350 طلبہ کی تدریس کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے لیو نے ان کے سیکھنے کے انداز کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے مقامی ساتھی اساتذہ سے مدد لی۔
روزمرہ کی باہمی تعاون پر مبنی تدریسی سرگرمیاں انسٹی ٹیوٹ میں باقاعدگی سے ہونے والے تدریسی تبادلوں کے ذریعے مزید مضبوط ہوتی ہیں۔ ان میں ہر بدھ کی سہ پہر منعقد ہونے والی ہفتہ وار مشترکہ ورکشاپس بھی شامل ہیں، جن میں کلاس روم کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
سی آئی۔یو ڈی ایس ایم کے چینی ڈائریکٹر شو چھیان نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کا موجودہ تدریسی عملہ، جس میں تنزانیہ کے 7 مقامی اساتذہ، 6 چینی اساتذہ اور 18 چینی رضاکار شامل ہیں، اس کی ایک اہم قوت ہے اور اس کے ذریعے ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے والا تدریسی ماڈل تشکیل دیا گیا ہے۔
شو نے کہا کہ’’چینی اساتذہ زبان کے حوالے سے مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ تنزانیہ کے اساتذہ مقامی حالات، طلبہ کے سیکھنے کے انداز اور درپیش مخصوص مسائل کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔‘‘
چین اور تنزانیہ کے ماہرین تعلیم کا چینی زبان کی تعلیم کے فروغ کے لئے اشتراک



