نیروبی (شِنہوا) افریقی یونین (اے یو) کے ایک سابق عہدیدار نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے روابط نے اختلافات سے نمٹنے اور تعاون کے فروغ کے لئے سازگار حالات پیدا کئے ہیں، جس سے عالمی امن کے لئے زیادہ مستحکم بین الاقوامی ماحول کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔
افریقی یونین کمیشن کے سابق نائب چیئرپرسن ایراسٹس موینچا نے شِنہوا کو تحریری انٹرویو میں کہا کہ ’’چینی صدر شی جن پھنگ کے دورہ امریکہ کی اہمیت خود دوطرفہ تعلقات سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والی ملاقات سے لے کر رواں سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے سرکاری دورے اور اب صدر شی جن پھنگ کے دورہ امریکہ تک دونوں رہنماؤں کے ان روابط نے ایک اہم پیغام دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اب بھی مذاکرات کے ذریعے ان سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’مذاکرات تزویراتی خطرات کے انتظام کا ایک ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے برقرار رکھنے سے باہمی افہام و تفہیم میں اضافہ، حساس معاملات سے نمٹنے کے لئے ذرائع کی فراہمی اور غلط اندازوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی حیثیت سے چین اور امریکہ کے درمیان احترام، منصفانہ رویے اور باہمی مفاد پر مبنی تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم تعلقات کے تجارت، سرمایہ کاری، مالیات، ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز سمیت مختلف شعبوں پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ذمہ داری سے سنبھالنے اور رابطے برقرار رکھنے سے نہ صرف دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی میں غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم موینچا نے کہا کہ اختلافات کا انتظام ہی آخری مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم تعلقات بین الاقوامی تعاون کے لئے مزید محرک کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے گلوبل ساؤتھ بشمول افریقہ میں ترقی کے لئے مزید گنجائش پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں استحکام برقرار رکھنے سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش بیرونی غیر یقینی صورتحال کم کرنے، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول کو زیادہ قابل اعتماد بنانے اور بنیادی ڈھانچے، توانائی اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے لئے زیادہ سازگار حالات پیدا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
چین اور امریکہ کے تعمیری روابط سے عالمی ترقی کے لئے مزید مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، سابق افریقی یونین عہدیدار



