دنیا میں کچھ لوگ دولت سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ عہدے سے، کچھ تعلقات سے، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پہچان ان کا کردار بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ نہ اپنے منصب کا سہارا لیتے ہیں، نہ دولت کی نمائش کرتے ہیں، نہ تعلقات کی فہرست ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں، بلکہ ان کی اصل شناخت ان کا ظرف، ان کی وضع داری، ان کی عاجزی اور انسانوں سے محبت ہوتی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود بھی اسی قبیل کے ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں میں نے محض سیاسی میدان کے ایک کردار کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ گزشتہ بیس برس سے زیادہ عرصے میں ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا ہے جس کے مزاج میں محبت بھی ہے، مروت بھی ہے، وضع داری بھی ہے اور خدا کی مخلوق کے لیے ایک ایسا درد بھی ہے جسے لفظوں کے پیمانے میں ناپنا آسان نہیں۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں استادوں کے استاد، سینئر صحافی اور روزنامہ جنگ کے موجودہ کالم نگار حاجی نواز رضا کے اعزاز میں ایک نہایت خوبصورت اور باوقار عشائیہ ہوا، جس کی میزبانی سینیٹر طلحہ محمود نے کی تھی، مگر اس شام کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ میزبان نے خود کو میزبان بننے سے بھی گریزاں رکھا۔ اسلام آباد کی مختلف صحافتی تنظیموں کے نمائندگان، مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے صحافتی رہنما اور پریس کلب کی موجودہ قیادت اس محفل میں موجود تھی اور سینیٹر طلحہ محمود نے دانستہ طور پر تقریب میں دیر سے شرکت کی، پھر خود اس راز سے پردہ اٹھایا کہ میں اس لیے دیر سے آیا ہوں کہ آپ لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ میں میزبان ہوں، بلکہ آپ سب خود اس تقریب کے میزبان ہیں۔
یہی وہ بات ہے جو کسی انسان کے ظرف کا پتہ دیتی ہے، ورنہ کھانا کھلانا تو صاحبِ استطاعت لوگوں کے لیے کوئی بڑی بات نہیں، مگر اپنے ہی گھر میں ہونے والی تقریب سے اپنی ذات کو پس منظر میں رکھ دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ انداز دراصل ایک ایسی تربیت کی علامت ہے جس میں ماں باپ کی دعائیں شامل ہوتی ہیں، جس میں بزرگوں کی نصیحتیں شامل ہوتی ہیں اور جس میں انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ دسترخوان پر بیٹھنے والے کی حیثیت نہیں دیکھی جاتی، بلکہ اس کی عزت دیکھی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے سینیٹر طلحہ محمود کے ہاں مہمان صرف مہمان نہیں ہوتا، بلکہ عزت کی امانت ہوتا ہے۔
جو دل کو جیت لے وہی صاحبِ دل کہلاتا ہے
وگرنہ تخت و تاج سے کون بڑا بن پاتا ہے
سینیٹر طلحہ محمود کے دسترخوان کا ذکر ہو تو ایک عشائیے کا تذکرہ کافی نہیں ہوگا۔ ان کے گھر کا دسترخوان ایک روایت ہے، ایک مزاج ہے، ایک ایسی پرانی تہذیب کی خوشبو ہے جس میں مہمان دروازے سے داخل ہو تو گھر والے اپنے کام بھول کر اس کی خاطر مدارات میں لگ جاتے ہیں۔ ان کے ہاں کوئی شناسا چلا جائے یا کوئی ایسا شخص پہنچ جائے جس سے پہلے کبھی ملاقات نہ ہوئی ہو، اسے کھانا کھلائے بغیر رخصت کرنا گویا ان کے لیے اپنی ہی تربیت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود اپنے مہمانوں کی پلیٹیں بھرتے ہیں، اصرار کرتے ہیں کہ اور لیجیے، کچھ کم تو نہیں رہ گیا، اور پھر کھڑے ہو کر اس طرح خدمت کرتے ہیں جیسے مہمان نوازی کوئی فرض نہیں، بلکہ دل کی خوشی ہو۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ایوان دیکھے ہیں، بہت سے بڑے لوگ دیکھے ہیں، بڑے بڑے دسترخوان بھی دیکھے ہیں، لیکن ایسی میزبانی بہت کم دیکھی ہے جس میں صاحبِ خانہ اپنے مہمانوں کے درمیان کھڑے ہو کر ان کی پلیٹوں میں کھانا ڈالے اور اس کے چہرے پر ذرہ بھر تکلف نہ ہو، نہ کوئی تصنع، نہ کوئی نمود، نہ کسی احسان کا احساس، بلکہ صرف محبت اور اپنائیت ہو۔ یہ وہ تہذیب ہے جو آج کے شور میں کہیں کہیں دب گئی ہے اور جس کے آثار اب صرف چند گھروں میں دکھائی دیتے ہیں۔
سینیٹر طلحہ محمود کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے سیاسی سفر سے زیادہ ان کے انسانی رویوں کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ سیاست اپنی جگہ ایک میدان ہے جہاں اختلاف بھی ہوتا ہے، وابستگیاں بھی بدلتی ہیں، راستے بھی جدا ہوتے ہیں، مگر انسان کی اصل آزمائش وہاں ہوتی ہے جہاں سیاسی اختلاف کے باوجود ذاتی احترام باقی رہے۔ ان کا ماضی ایک معروف مذہبی سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کے ساتھ رہا اور پھر سیاسی حالات اور بعض نظریاتی اختلافات کے باعث ان کے راستے جدا ہوئے، مگر اس جدائی میں بھی تلخی کو شعار نہیں بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مختلف سیاسی حلقوں میں ان کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی میں ان کی شمولیت کے بعد بھی ان کی یہی روایت برقرار رہی اور سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ان کے ذاتی وقار اور انسان دوستی کے حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں میں ان کے لیے احترام کا عنصر موجود رہا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی سیاسی عہدے سے نہیں ملتا اور نہ کسی انتخابی کامیابی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ برسوں کے کردار سے بنتا ہے اور پھر انسان کے ساتھ چلتا ہے۔
میری ان سے دو دہائیوں سے زیادہ کی شناسائی میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں رہی ہے وہ ان کی عاجزی ہے۔ میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے، مختلف حالات میں دیکھا ہے، کامیابی کے دنوں میں بھی دیکھا ہے، مشکل وقت میں بھی دیکھا ہے اور ہمیشہ یہی محسوس کیا ہے کہ دولت اور منصب نے ان کے مزاج میں وہ تبدیلی پیدا نہیں کی جو اکثر انسانوں کو اپنے آپ سے دور کر دیتی ہے۔ ان کے اندر ایک درویشانہ سادگی ہے، ایک ایسی خاکساری ہے جسے دیکھ کر کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ آدمی نے دنیا کی رونقیں دیکھنے کے بعد بھی دل کو دنیا کا غلام نہیں بننے دیا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نوازا بھی ہے، رزق میں وسعت دی ہے، تعلقات میں وسعت دی ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ دی ہے، کیونکہ قدرت کا ایک عجیب اصول ہے کہ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اس کے لیے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ جو شخص دوسروں کی عزت کرتا ہے، اس کی اپنی عزت لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی ہے، اور جو شخص انسانوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگے، اس کے لیے دعائیں خود راستہ تلاش کرتی ہیں۔
گزشتہ روز تقریب میں سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان کے حالات پر جس درد کا اظہار کیا، وہ بھی محض سیاسی تقریر محسوس نہیں ہوا، بلکہ ایک ایسے شخص کی بے چینی محسوس ہوئی جو اپنے ملک کو وسائل سے مالا مال دیکھتا ہے، مگر عوام کی مشکلات اسے بے چین کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان قدرت کی نعمتوں سے مالا مال ملک ہے، مگر حکمرانی کے مسائل، فیصلہ سازی کی کمزوری، بدعنوانی اور عام آدمی کی مشکلات وہ سوال ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی گفتگو میں عوام کے لیے درد تھا اور یہی درد شاید کسی صاحبِ ثروت شخص کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنی آسائشوں کے حصار سے باہر نکل کر اس شخص کو بھی دیکھے جو دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اور صرف صاحبِ حیثیت انسان کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ دولت ہونا کوئی کمال نہیں، دولت کے باوجود دل میں انسان کے لیے جگہ باقی رہنا اصل کمال ہے۔ اقتدار کے قریب رہنا کوئی بڑی بات نہیں، اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر عام آدمی کی دہلیز تک پہنچنا بڑی بات ہے۔ بڑا گھر ہونا کوئی عجوبہ نہیں، بڑے گھر کے دروازے ہر طبقے کے لیے کھلے رکھنا اصل کشادگی ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود کی میزبانی میں بھی یہی کشادگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا دسترخوان شاید ان کے گھر کی سب سے خوبصورت علامت ہے، کیونکہ اس دسترخوان پر کھانا صرف کھانا نہیں رہتا، بلکہ تعلق بن جاتا ہے، اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، فاصلے کم ہو جاتے ہیں اور آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی بڑے آدمی کے گھر نہیں، بلکہ کسی اپنے کے گھر بیٹھا ہے۔ یہی کیفیت شاید حیدرآباد دکن کی ان پرانی محفلوں کی یاد دلاتی ہے جہاں تہذیب آواز سے پہلے لہجے میں بولتی تھی اور لکھنؤ کی ان محفلوں کی بھی جہاں مروت کو زیور اور مہمان نوازی کو شرف سمجھا جاتا تھا۔
سیاست میں نظریات اپنی جگہ، وابستگیاں اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، مگر انسانیت کا رشتہ ان سب سے بڑا ہونا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود کی شخصیت کا یہی پہلو مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کہ ان کے سیاسی سفر کو ان کے انسانی رویوں سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔ ان کے ناقدین ہوں یا حامی، ان سے اتفاق رکھنے والے ہوں یا اختلاف کرنے والے، ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عمومی طور پر ان کے ذاتی کردار اور شائستگی کا حوالہ ضرور آتا ہے، اور یہی کسی انسان کے لیے سب سے بڑی گواہی ہے۔
ہم نے ایک ایسے زمانے میں آنکھ کھولی ہے جہاں لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہے، مگر اپنے مفاد کے لیے وقت بہت ہے، جہاں دسترخوان سجتے ہیں، مگر دل خالی رہ جاتے ہیں، جہاں تعلقات بڑھتے ہیں، مگر اپنائیت کم ہوتی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص اب بھی مہمان کے لیے خود کھڑا ہو جائے، اگر کسی اجنبی کو بھی عزت دے، اگر اپنی دولت کو نمائش کے بجائے خدمت کا وسیلہ بنائے اور اگر اپنے ملک کے عام آدمی کے دکھ پر دل گرفتہ ہو تو ایسے شخص کی قدر ہونی چاہیے۔
میرے نزدیک پاکستان کے اصل ہیرو صرف وہ نہیں جو بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں یا جن کے نام ہر روز خبروں کی سرخی بنتے ہیں۔ اصل ہیرو وہ بھی ہیں جو خاموشی سے لوگوں کے کام آتے ہیں، جو کسی ضرورت مند کی مدد کر کے اس کا چرچا نہیں کرتے، جو اپنے گھر کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں، جو اپنے مہمان کی پلیٹ خود بھرتے ہیں، جو اختلاف میں بھی احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور جو دولت کی بلندی پر پہنچ کر بھی انسانوں کے درمیان رہنا نہیں بھولتے۔ سینیٹر طلحہ محمود بھی ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
دنیا میں عزت مانگنے سے نہیں ملتی، خریدنے سے نہیں ملتی اور عہدے سے بھی ہمیشہ حاصل نہیں ہوتی۔ عزت کردار سے پیدا ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود کے ساتھ میری دو دہائیوں سے زیادہ کی شناسائی نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ انسان اگر اپنے دل کو بڑا رکھے تو اس کا دسترخوان بھی بڑا ہو جاتا ہے، اس کا گھر بھی بڑا ہو جاتا ہے، اس کے تعلقات بھی بڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کے لیے لوگوں کے دلوں میں جگہ بن جاتی ہے۔
حاجی نواز رضا کے اعزاز میں ہونے والی وہ شام گزر گئی، مگر اس کی خوشبو شاید دیر تک باقی رہے گی، کیونکہ اس شام ایک سینئر صحافی کی عزت افزائی بھی ہوئی، صحافتی برادری ایک جگہ جمع بھی ہوئی اور ایک ایسے میزبان کا کردار بھی سامنے آیا جس نے اپنی ہی تقریب میں خود کو میزبان کہلوانے سے زیادہ اس بات کو اہم سمجھا کہ اس کے مہمان خود کو میزبان محسوس کریں۔ یہی وضع داری ہے، یہی مروت ہے، یہی تہذیب ہے اور شاید یہی وہ چیز ہے جسے ہماری نئی نسل کو دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ سینیٹر طلحہ محمود کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، ان کے رزق میں برکت عطا فرمائے، ان کے والدین کی تربیت اور دعاؤں کے سائے کو ان کے لیے ہمیشہ قائم رکھے، انہیں صحت، عافیت اور سکون عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح انسانوں کے دکھ درد میں شریک رہنے کی توفیق دے، کیونکہ دولت بہت لوگوں کے پاس ہوتی ہے، مگر دولت کے ساتھ دل کی فراخی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے اور جن لوگوں کے دل کشادہ ہوں، ان کے دسترخوان بھی کشادہ ہوتے ہیں، ان کے دروازے بھی کشادہ ہوتے ہیں اور ان کی یاد بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کشادہ رہتی ہے۔



