طالبان کی جانب سے افغانستان میں صحافیوں پر پابندیاں افغان حکومت کا ظالمانہ اقدام ہے، پی ایف یو جے

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے افغانستان میں صحافیوں اور میڈیا اداروں پر عائد مسلسل بڑھتی ہوئی پابندیوں، سنسرشپ، گرفتاریوں، دھمکیوں اور معلومات تک رسائی محدود کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔

پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکریٹری جنرل شکیل احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی معاشرے میں عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ صحافیوں کو دھمکیوں، گرفتاریوں، تشدد اور سنسرشپ کے ذریعے خاموش کرانا نہ صرف آزادیٔ اظہار پر قدغن ہے بلکہ عوام کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔

پی ایف یو جے رہنماؤں کے مطابق افغانستان میں صحافت کے لیے ماحول مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کی رپورٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغان صحافیوں کو گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی اور ادارہ جاتی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ سیاسی پروگراموں، خواتین کی میڈیا میں شرکت، براہِ راست نشریات، تصاویر اور حساس سیاسی و انسانی حقوق کے معاملات کی رپورٹنگ پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے باعث افغان میڈیا کے لیے آزادانہ رپورٹنگ کی گنجائش مسلسل محدود ہو رہی ہے اور صحافیوں کو ایسی معلومات نشر یا شائع کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے جو حکام کی پالیسی اور سرکاری بیانیے سے متصادم نہ ہوں۔

پی ایف یو جے نے کہا کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹس کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران بھی افغانستان میں میڈیا اداروں کی بندش، صحافیوں کی گرفتاریوں اور میڈیا سے متعلق خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

رانا محمد عظیم اور شکیل احمد نے کہا کہ پی ایف یو جے افغان صحافیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور پاکستان کی صحافتی برادری افغان صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی کا تعلق خواہ کسی بھی ملک یا خطے سے ہو، اسے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے خوف، دباؤ اور غیر ضروری پابندیوں سے آزاد ماحول میسر ہونا چاہیے۔

پی ایف یو جے نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں صحافیوں کے خلاف جاری پابندیوں اور میڈیا کی آزادی محدود کرنے والے اقدامات کا مؤثر اور فوری نوٹس لیں۔

پی ایف یو جے نے کہا کہ افغانستان میں انسانی امداد، تعمیر نو اور ترقیاتی سرگرمیوں کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم صحافت اور بنیادی آزادیوں کو مسلسل محدود کرنے والے اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم کے مطابق وہ ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی و ترقیاتی ادارے جو افغانستان میں انسانی امداد، تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی و تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں، انہیں آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے معاملے کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔

تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان حکام کے سامنے یہ معاملہ واضح طور پر اٹھایا جائے کہ صحافیوں کی گرفتاری، آزاد رپورٹنگ پر پابندیاں اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات کی رپورٹنگ میں رکاوٹیں صحافتی آزادی کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

پی ایف یو جے نے مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست صحافیوں کے معاملات کا شفاف جائزہ لیا جائے، صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے، میڈیا اداروں پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں، عوام کی معلومات تک رسائی یقینی بنائی جائے اور خواتین صحافیوں سمیت تمام میڈیا کارکنوں کو بلاامتیاز اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے کا حق دیا جائے۔

پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکریٹری جنرل شکیل احمد نے کہا کہ اگر افغان حکام آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق عالمی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کرتے رہے تو عالمی برادری کو دستیاب سفارتی اور مالیاتی ذرائع کے ذریعے معاملے پر مؤثر توجہ دینے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

پی ایف یو جے نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس سمیت عالمی صحافتی برادری کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور افغان صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔



  تازہ ترین   
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے
لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ؟ اہم فیصلہ آج متوقع
معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم
چین اور پاکستان ہر موسم کے سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں، چینی سفیر
محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ
نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر