لکھنے کے لیے جب قلم کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ کانپ گیا۔ یہ کپکپاہٹ کسی کمزور اعصاب کی علامت نہیں تھی، یہ اس دل کا لرزنا تھا جو ایک بار پھر اپنے ہی وطن کے بیٹوں کے لہو سے بھیگی ہوئی خبر پڑھ چکا تھا۔ ایک صحافی کے لیے قلم کا رک جانا معمولی واقعہ نہیں ہوتا، یہ ایسے ہے جیسے کسی کالم نگار کے سینے میں دھڑکتی ہوئی آواز اچانک خاموش ہو جائے۔ آج آنکھیں نم ہیں، مگر آنسو بھی شاید اس منظر کی شدت سے گھبرا کر پلکوں کی دہلیز پر ٹھہر گئے ہیں۔ دل میں ایک بوجھ ہے، روح میں ایک بے قراری ہے اور ذہن میں ایک سوال مسلسل دستک دے رہا ہے کہ آخر لکھوں تو کیا لکھوں، اور کہاں سے شروع کروں؟ کیونکہ جب خبر یہ ہو کہ ایک اور ماں کا لخت جگر وطن پر قربان ہو گیا، ایک اور باپ کا بڑھاپے کا سہارا چھن گیا، ایک اور بہن کا بھائی تابوت میں واپس آیا، ایک اور بیوی کا رفیق سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر پہنچا اور ایک اور بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا تو پھر الفاظ کی ساری شان و شوکت دم توڑ دیتی ہے۔ بڑے سے بڑا جملہ بھی شہید کے لہو کے سامنے بونا دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمیں اسی تلخ حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اس ملک میں امن کی قیمت آج بھی ہمارے نوجوان اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ ہنگو میں دو نوجوان افسران سمیت اہلکاروں کی شہادت ہو یا کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر خودکش حملہ، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہوں یا وردی میں ملبوس ان جوانوں کی قربانیاں جو اپنے گھروں سے یہ سوچ کر نکلتے ہیں کہ شاید شام کو واپس لوٹ آئیں گے، مگر پھر ان کے گھر صرف ان کی وردی، تصویر اور جنازہ پہنچتا ہے، ہر خبر اپنے اندر ایک قیامت رکھتی ہے۔ ہم خبر پڑھتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، شہید کی تصویر دیکھ کر دعا کرتے ہیں اور پھر موبائل کی اسکرین آگے بڑھا دیتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کو اس گھر میں داخل ہو کر دیکھیے جہاں دروازہ آج بھی کھلتا ہے مگر بیٹا نہیں آتا۔ ذرا اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیے جس کے لیے شہادت ایک عظیم اعزاز بھی ہے مگر ماں کا دل آخر ماں کا دل ہوتا ہے۔ ذرا اس بچے سے پوچھیے جو باپ کی تصویر سینے سے لگا کر سو جاتا ہے اور برسوں تک دروازے کی چاپ پر چونک اٹھتا ہے کہ شاید بابا آ گئے ہوں۔
شہادت کا لفظ بول دینا آسان ہے، جان دینا آسان نہیں۔ وطن پر جان نچھاور کرنے کی تقریر کرنا آسان ہے، اپنی زندگی، اپنے خواب، اپنے بچوں کی محبت، اپنی ماں کی دعائیں اور اپنے مستقبل کے سارے امکانات وطن کے نام کر دینا آسان نہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو اس عمر میں قبریں نہیں بلکہ مستقبل بنانا چاہتے تھے۔ وہ گھر بنانا چاہتے تھے، کاروبار کرنا چاہتے تھے، بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے، ماں باپ کی خدمت کرنا چاہتے تھے، مگر انہوں نے اپنے خوابوں سے پہلے پاکستان کے امن کو ترجیح دی۔ پھر ہم کس بے حسی سے ان کی قربانی کو صرف ایک خبر بنا کر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں؟ ان کے خون کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ سرکاری بیانات جاری ہوں، تعزیتی اجلاس ہوں اور چند رسمی الفاظ ادا کر دیے جائیں۔ ان کے خون کا تقاضا یہ ہے کہ قوم اپنے گریبان میں جھانکے اور پوچھے کہ ہم نے اس ملک کو کس طرف دھکیل دیا ہے۔
مجھے شہادتوں کا دکھ تو ہے ہی، مگر اس سے کہیں زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب دہشت گردی کی آگ ایک طرف بھڑک رہی ہو اور دوسری طرف ہماری سیاسی اشرافیہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو۔ خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک خطرات موجود ہوں، سکیورٹی فورسز کے افسر اور جوان جانیں دے رہے ہوں، معیشت دباؤ میں ہو، عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہو اور ایسے میں سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا بن جائے تو سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے۔ کیا واقعی یہی وقت ہے کہ سڑکوں کو میدان جنگ بنایا جائے؟ کیا یہی وقت ہے کہ شہروں کو سیاسی محاذوں میں تقسیم کیا جائے؟ کیا یہی وقت ہے کہ نوجوانوں کو ایک اور تصادم کے ایندھن میں جھونکا جائے؟ احتجاج جمہوری حق ہے، اختلاف سیاسی حق ہے، حکومت پر تنقید آئینی حق ہے، مگر حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون احتجاج کر سکتا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ احتجاج کے نتیجے میں ملک کہاں کھڑا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف نے ستائیس ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال دی ہے اور اس کے مقاصد میں عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات شامل ہیں۔ یہ سیاسی مطالبات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان پر سیاسی و آئینی طریقے سے بحث ہونی چاہیے، لیکن اصل سوال کسی ایک جماعت سے بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کو مذاکرات کی میز تک لے جانے کے بجائے سڑکوں کی کشیدگی تک لے جانا ضروری ہے؟ کیا سیاسی قوتوں کے پاس مکالمے کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں؟ کیا اقتدار کی کشمکش پاکستان کی سلامتی، معیشت اور شہری زندگی سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟ مجھے تحریک انصاف کی قیادت سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اس جماعت کے کارکن بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں۔ اسی طرح مجھے شہباز شریف کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے، حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھ سکتا ہے، ریاستی اداروں کے بعض اقدامات پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو مٹانے پر تل جائیں۔ سیاست اگر دشمنی بن جائے تو پھر جمہوریت کا نام باقی رہ جاتا ہے، روح نہیں۔
پاکستان کسی حکومت کی جاگیر نہیں، کسی اپوزیشن کی موروثی ملکیت نہیں، کسی جماعت کے کارکنوں کی جاگیر نہیں اور کسی ادارے کی ذاتی ملکیت بھی نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کی مٹی میں ہمارے باپ دادا سو رہے ہیں، جس کی گلیوں میں ہمارے بچے کھیل رہے ہیں، جس کے اسپتالوں میں ہمارے عزیز زیر علاج ہیں، جس کے اسکولوں میں ہماری نسلیں پڑھ رہی ہیں اور جس کے پرچم میں ہمارے شہید واپس آتے ہیں۔ پھر خدا کے لیے اس ملک کو اپنی اپنی انا کا اکھاڑا نہ بنائیے۔ اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔ حکومت کو للکاریے، سوال کیجیے، احتساب مانگیے، احتجاج کیجیے، مگر ملک کو مفلوج نہ کیجیے۔ مخالف سے لڑتے لڑتے وطن کو زخمی کر دینا کوئی سیاسی فتح نہیں۔ یہ ایسی فتح ہے جس کے جشن میں پورا ملک ماتم کرتا ہے۔
میرے علاقے نے مزاحمت دیکھی ہے۔ میری زمین نے مزاحمت دیکھی ہے۔ میرے بزرگوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ مزاحمت میرے لیے کوئی فیشن نہیں، کوئی سیاسی نعرہ نہیں، یہ میرے خون اور میری سوچ میں رچی بسی روایت ہے۔ مگر مزاحمت کا مطلب ہر وقت تصادم نہیں ہوتا۔ کبھی سب سے بڑی مزاحمت اپنے غصے کے خلاف ہوتی ہے، کبھی سب سے بڑی بہادری یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنی جماعتی وابستگی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر پاکستان کو دیکھے، اور کبھی سب سے بڑا سیاسی قد یہ ہوتا ہے کہ دشمن سمجھنے والے شخص کے ساتھ بھی بیٹھ کر مسئلہ حل کیا جائے۔ آج پاکستان کو ایسی ہی مزاحمت درکار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مزاحمت، غربت کے خلاف مزاحمت، کرپشن کے خلاف مزاحمت، ناانصافی کے خلاف مزاحمت، جہالت کے خلاف مزاحمت اور اس نفرت کے خلاف مزاحمت جو پاکستانی کو پاکستانی کا دشمن بنا رہی ہے۔ ہمیں ایسی مزاحمت نہیں چاہیے جو لاہور کو اسلام آباد سے، پشاور کو کوئٹہ سے اور ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی سے لڑا دے۔
شاعر نے کہا تھا
یہ خاکِ وطن گواہ رہے، ہم نے لہو سے سینچی ہے
یہ سرزمینِ پاکستان شہیدوں کی امانت ہے
اور آج یہی خاک ہم سے سوال کر رہی ہے کہ تم میرے بیٹوں کے لہو کا کیا کرو گے؟ ایک اور دھرنا؟ ایک اور تصادم؟ ایک اور سیاسی نعرہ؟ ایک اور نفرت؟ یا پھر ایک ایسا عہد کہ اب اس ملک کو مزید تقسیم نہیں ہونے دیں گے؟ بلوچستان کے پہاڑوں سے خیبر پختونخوا کی وادیوں تک گولی کی آواز ایک ہی پیغام دے رہی ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ادارے، ایک صوبے یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔ دہشت گردی ریاست کو کھوکھلا کرتی ہے، معیشت کو نگلتی ہے، کاروبار کو تباہ کرتی ہے، تعلیم کے دروازے بند کرتی ہے، نوجوانوں کے خواب چھینتی ہے اور قوم کے اندر سے امید کا چراغ بجھاتی ہے۔
پھر ہمیں اپنے سیاسی رویوں کا بھی احتساب کرنا ہوگا۔ یہ سوال تلخ ہے مگر وقت اس سے زیادہ تلخ ہے۔ ہماری سیاست اس آگ کو بجھا رہی ہے یا اس میں مزید لکڑیاں ڈال رہی ہے؟ میں یہ سوال کسی سیاسی دشمنی میں نہیں کر رہا۔ میں جمہوریت کا قائل ہوں، اختلاف رائے کو جمہوریت کی روح سمجھتا ہوں اور سیاسی جماعتوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتا ہوں۔ مگر سیاسی جماعتیں صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، بحران کے وقت قوم کو راستہ دکھانے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن اگر ایک دوسرے کو شکست دینے میں ہی اپنی ساری توانائی صرف کر دیں تو دہشت گردی کے خلاف قومی قوت کہاں سے آئے گی؟ پارلیمنٹ کو سیاسی انتقام کا میدان بنانے کے بجائے قومی مکالمے کا مرکز کیوں نہ بنایا جائے؟ حکومت کے اعتراضات کا جواب پارلیمان میں دیا جائے، اپوزیشن کے مطالبات پر مذاکرات ہوں، اداروں سے متعلق سوالات آئینی دائرے میں اٹھائے جائیں اور اختلاف کو تصادم کے بجائے دلیل کا راستہ دیا جائے۔
آخر کب تک ہمارے نوجوانوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے اور ہم سیاسی نعروں کی گونج میں ان کے قدموں کی چاپ بھولتے رہیں گے؟ یہ نوجوان دہشت گردی اور سیاسی کشمکش کے درمیان پسنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ وہ تعلیم کے لیے پیدا ہوئے ہیں، روزگار کے لیے پیدا ہوئے ہیں، زندگی کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، روزگار ہونا چاہیے، خواب ہونا چاہیے، بندوق کی گولی نہیں۔ ان کے گھروں میں شادیوں کے چراغ جلنے چاہئیں، شہادت کی خبر نہیں آنی چاہیے۔ ان کے والدین کو بڑھاپے کا سہارا ملنا چاہیے، تابوت نہیں۔
آج میرا قلم پھر کانپ رہا ہے، مگر اب مجھے معلوم ہے کہ کیوں۔ یہ قلم الفاظ کی کمی سے نہیں کانپ رہا، یہ شہیدوں کے لہو کے احترام میں لرز رہا ہے۔ یہ جانتا ہے کہ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لکھنا بھی بے ادبی محسوس ہوتا ہے۔ مگر قلم کا فرض خاموش رہنا بھی نہیں۔ اس لیے آج یہ قلم ایک سوال ضرور لکھے گا اور شاید پوری قوم سے پوچھے گا: خدارا رک جائیے، ذرا ٹھہریے، اپنے سیاسی جھنڈے ایک لمحے کے لیے نیچے رکھیے، اپنی جماعتی انا کو ایک طرف رکھیے اور کسی شہید کے گھر جا کر اس ماں کی آنکھوں میں دیکھیے جس نے اپنا بیٹا پاکستان کے نام کیا ہے۔ پھر اپنے دل سے پوچھئے کہ کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمارے جوان جان دے رہے ہیں؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنا راستہ بدلیں۔ اختلاف زندہ رہے، جمہوریت زندہ رہے، تنقید زندہ رہے، آئین زندہ رہے، احتجاج زندہ رہے، مگر پاکستان سب سے پہلے زندہ رہے۔ کیونکہ اگر پاکستان ہی کمزور ہو گیا تو نہ حکومت بچے گی، نہ اپوزیشن، نہ جماعت بچے گی، نہ اقتدار، نہ سیاسی نعرے۔ آخر میں بچ جائے گی تو صرف وہ مٹی جس میں ہمارے شہید سو رہے ہوں گے۔ اور شاید اسی لیے آج اس کالم کا آخری جملہ بھی اسی مٹی کے نام ہے: سیاست ضرور کیجیے مگر ملک کو مت ہاریے، احتجاج ضرور کیجیے مگر وطن کو مت جلائیے، اختلاف ضرور کیجیے مگر شہید کے لہو کی حرمت مت بھولیے۔
کیونکہ تاریخ جب کبھی ہم سے پوچھے گی کہ جب پاکستان اندر اور باہر سے آزمائش میں تھا تو تم نے کیا کیا، تو ہمارا جواب یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنی انا نہیں، اپنے وطن کو بچانے کی کوشش کی تھی۔
قلم بھی شہیدوں کے لہو پر رو پڑا



