اقوام متحدہ اسمبلی میں ایرانی صدر کا خطاب، ظالم اور طاقتوروں کو امن کا پیغام

چو ایران نباشد تن من مباد
بدین بوم و بر زنده یک تن مباد

دنیا کی سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے سب سے بڑے تجارتی و سیاحتی شہر نیویارک میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا وہ ایوان، جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اپنے مؤقف کے پرچم بلند کرتی ہیں، وہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی آواز ایک ایسے ملک کی آواز بن کر ابھری، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسے دھمکیوں اور حملوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی گئی، مگر ایران نے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ پزشکیان نے اپنے خطاب میں ایرانی بچوں کی تصاویر لہرا کر دنیا کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ جنگ صرف میزائلوں اور میزائل شکن نظاموں کا نام نہیں، جنگ کا اصل بوجھ ان گھروں پر پڑتا ہے جہاں بچوں کی ہنسی اچانک ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل پر حملوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام دہشت گردی کے شکار ہوئے اور ایران نے اپنے دفاع میں جواب دیا۔ ان کے خطاب میں ایک طرف مذاکرات اور امن کی بات تھی اور دوسری طرف یہ دو ٹوک پیغام بھی تھا کہ ایران دباؤ اور دھمکی کے تحت سرنڈر نہیں کرے گا۔ یہاں اصل سوال ایران کی جوہری پالیسی سے بھی آگے نکل کر ایک بڑے عالمی سوال کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ کیا کسی ریاست کو محض طاقت کے زور پر اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھنے کا مؤقف پیش کرتا رہا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وہ اختلاف ہے جس نے برسوں سے سفارت کاری، پابندیوں اور کشیدگی کو جنم دیا ہے اور آج یہی اختلاف جنگ کے سائے میں کھڑا ہے۔ اس لیے دنیا کے لیے اصل ضرورت نعروں کی نہیں بلکہ ایسے مذاکرات کی ہے جن میں دھمکی کے بجائے دلیل ہو اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو راستہ دیا جائے۔ ایران کی موجودہ مزاحمت کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے صفحات بھی پلٹنے پڑتے ہیں، کیونکہ یہ قوم جنگ اور پابندیوں کے تجربے سے نئی نہیں ہے۔ بائیس ستمبر انیس سو اسی کو عراق نے ایران پر حملہ کیا اور یہ جنگ تقریباً آٹھ برس تک جاری رہی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد پانچ سو اٹھانوے کے تحت جنگ بندی کے مرحلے تک پہنچنے والی یہ لڑائی بیسویں صدی کی طویل ترین روایتی جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایرانی معاشرے پر اس جنگ کے اثرات انتہائی گہرے تھے۔ شہروں پر بمباری ہوئی، سرحدی علاقے میدان جنگ بنے، معیشت شدید دباؤ میں آئی اور ایک پوری نسل نے جنگ کے ماحول میں زندگی گزاری، مگر ایران نے اپنی ریاستی بقا کو مقدم رکھا اور یہی تاریخی تجربہ آج بھی ایرانی قومی شعور کا ایک اہم حصہ ہے۔

ایران عراق جنگ کے زمانے میں ایران کو صرف میدان جنگ کا سامنا نہیں تھا بلکہ بیرونی دباؤ اور اسلحے کی پابندیوں نے بھی ایرانی دفاع کو مشکل بنایا۔ امریکی پالیسی کے تحت انیس سو اسی کی دہائی میں ایران پر مختلف پابندیاں اور اسلحہ برآمدات کی رکاوٹیں عائد کی گئیں، مگر جنگ کے اختتام تک ایرانی ریاست قائم رہی اور اس جنگ نے ایرانی معاشرے میں خود انحصاری اور مزاحمت کے تصور کو مزید مضبوط کیا۔ یہ کہنا البتہ درست نہیں ہوگا کہ اس پورے عرصے میں ایرانی عوام نے حکومت کی ہر پالیسی پر بلا اختلاف اتفاق کیا، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں رائے کا اختلاف اپنی جگہ موجود رہتا ہے، لیکن یہ ضرور تاریخی حقیقت ہے کہ جنگ کے دوران قومی دفاع اور ریاستی بقا نے ایرانی سیاست اور معاشرتی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قوم اور ریاست کے تعلق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ریاستیں صرف ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب شہری اپنے ملک کے وجود اور سلامتی کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ قربانی کسی ایک شخص کے حصے میں نہیں آتی۔ قوموں کی تاریخ میں قربانی ہمیشہ اجتماعی ہوتی ہے۔ کسی کا بیٹا محاذ پر جاتا ہے، کسی کا گھر بار متاثر ہوتا ہے، کسی کی تجارت رک جاتی ہے، کسی کی صنعت مشکلات کا شکار ہوتی ہے اور کوئی اپنے خوابوں کو ایک مشکل دور کے لیے مؤخر کر دیتا ہے، لیکن اسی اجتماعی احساس سے ریاستوں میں بقا کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ ایران نے اپنے تاریخی تجربے سے یہی تصور دنیا کے سامنے رکھا ہے، اگرچہ ایرانی حکومت کی تمام داخلی یا خارجی پالیسیوں سے اتفاق کرنا ایک الگ سیاسی معاملہ ہے اور اسے قومی استقامت کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔

آج پزشکیان کا خطاب بھی اسی تاریخی حافظے کے پس منظر میں سنائی دیتا ہے۔ انہوں نے ایک طرف امن اور مذاکرات کی بات کی اور دوسری طرف یہ واضح کیا کہ ایران دھمکی کے ماحول میں مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران سر نہیں جھکائے گا اور ان کے خطاب میں یہ تصور نمایاں تھا کہ طاقتور ہونے کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ کسی کو طاقت کے ذریعے اپنے فیصلے مسلط کرنے سے روکنا ہے۔ یہ نکتہ عالمی سیاست میں اہم ہے، کیونکہ اگر مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں تو جنگ کے امکانات کم ہو سکتے ہیں اور اگر ہر اختلاف کا جواب میزائل اور بم سے دیا جائے تو دنیا ایک ایسے راستے پر چلی جاتی ہے جہاں واپسی کا راستہ تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مسلمان دنیا کے تاریخی اور مذہبی شعور میں بھی ایک گہرا تصور موجود ہے کہ ظلم کے مقابلے میں کھڑا ہونا عزت اور ایمان سے جڑا ہوا معاملہ ہے، لیکن اس تصور کو جنگ کی اندھی حمایت کے مترادف سمجھنا درست نہیں۔ جہاد کا لفظ بھی اپنے وسیع دینی اور اخلاقی مفہوم میں جدوجہد اور دفاع سمیت مختلف معانی رکھتا ہے اور کسی بھی موجودہ جنگ کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت انسانی جان، بین الاقوامی قانون اور امن کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ دنیا کے تمام غیر مسلم ممالک یا اقوام مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ عالمی تعلقات مذہب سے زیادہ ریاستی مفادات اور سفارتی ترجیحات سے تشکیل پاتے ہیں اور تاریخ میں مسلم ممالک کے غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ تعاون اور اختلاف دونوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ البتہ اگر طاقتور ریاستیں اپنی طاقت کو سفارت کاری کے بجائے مسلسل دباؤ اور جنگ کے لیے استعمال کریں تو اس کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، پابندیوں، مہاجرت اور انسانی بحرانوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ایسے میں امریکا سمیت وہ تمام ممالک جو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، ان کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا طاقت کا استعمال واقعی دیرپا امن پیدا کر سکتا ہے یا مذاکرات کا راستہ زیادہ پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ اقوام متحدہ تقریر میں ایران کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال ہوئی، جبکہ ایرانی صدر نے اسی عالمی فورم پر طاقت کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کی گنجائش کی بات کی۔ یہ متضاد مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کو ایک مرتبہ پھر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

ایران کی داستان کو صرف حکومت کی داستان سمجھنا بھی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا اور اسے صرف مزاحمت کی رومانوی تصویر بنا دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ایران ایک پیچیدہ معاشرہ ہے، جس میں حکومت کے حامی بھی ہیں، ناقد بھی ہیں، جنگ سے متاثر خاندان بھی ہیں، معاشی مشکلات سے دوچار لوگ بھی ہیں اور ایسے شہری بھی ہیں جو اپنی ریاست کی سلامتی کو ہر اختلاف سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ لیکن حالیہ جنگی حالات میں ایرانی قیادت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بیرونی حملے کے مقابلے میں قومی بقا کو مقدم رکھا جائے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے پزشکیان نے اقوام متحدہ کے ایوان میں اپنے انداز میں پیش کیا اور دنیا کو بتایا کہ ایران کو دھمکیوں سے مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔

دنیا اگر واقعی امن چاہتی ہے تو اسے صرف ایران سے نہیں بلکہ ہر طاقتور فریق سے ایک ہی سوال پوچھنا ہوگا کہ جنگ کا آخری نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا مزید لاشیں کسی مسئلے کو حل کر سکتی ہیں؟ کیا تباہ شدہ اسکول کسی قوم کو شکست دے سکتے ہیں؟ کیا میزائل کسی نسل کے دل سے خوف نکال سکتے ہیں یا نفرت کو مزید گہرا کرتے ہیں؟ ایران کے بارے میں دنیا کے مختلف ممالک کے اپنے اپنے مؤقف ہو سکتے ہیں، ایران کی حکومت کے بارے میں مختلف آرا ہو سکتی ہیں، اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں شدید اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن ایک اصول پر اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ عام انسان کی جان جنگی حکمت عملی سے زیادہ قیمتی ہے۔ ایران نے اپنے ماضی سے ایک سبق ضرور دنیا کے سامنے رکھا ہے کہ قومیں صرف دولت سے نہیں بنتیں، صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بنتیں اور صرف بلند و بالا عمارتوں سے بھی نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے اندر بحران برداشت کرنے کا حوصلہ ہو، جب وہ اپنی تاریخ کو یاد رکھیں، جب وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کی قیمت سمجھیں اور جب وہ اختلاف کے باوجود اپنے وطن کے وجود کو مقدم رکھ سکیں۔ پزشکیان کا اقوام متحدہ میں خطاب اسی ایرانی قومی شعور کی موجودہ ترجمانی تھا، ایک ایسا شعور جو کہتا ہے کہ امن چاہیے، مگر ذلت کی قیمت پر نہیں، مذاکرات چاہیے، مگر دھمکی کے سائے میں نہیں اور دفاع کرنا ہو تو ریاست اپنے وجود کی حفاظت کے لیے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اب فیصلہ صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو میزائلوں کا شور دے گی یا امن کی آواز۔ اگر امریکا اپنی خارجہ پالیسی میں طاقت کے ساتھ سفارت کاری کو حقیقی ترجیح دے، اسرائیل اور ایران سمیت خطے کے تمام فریق مذاکرات کے راستے کھولیں اور عالمی طاقتیں دوہرے معیار کے بجائے ایک جیسے اصول اختیار کریں تو مشرق وسطیٰ ایک نئے باب کی طرف جا سکتا ہے۔ جنگ کسی قوم کی بہادری کا واحد ثبوت نہیں ہوتی۔ اصل بہادری بعض اوقات اس لمحے میں ہوتی ہے جب طاقت رکھنے کے باوجود تباہی کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا جائے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پزشکیان کا خطاب ایک بڑے عالمی سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ دنیا طاقت کے ذریعے خاموشی چاہتی ہے یا انصاف کے ذریعے امن۔



  تازہ ترین   
مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزادکشمیر کے نئے صدر منتخب
دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے
وزیراعظم کی یورپی کونسل و یورپی کمیشن کے صدور کو دورہ پاکستان کی دعوت
چینی صدر 3 روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ریڈ کارپٹ استقبال، توپوں کی سلامی
محسن رضائی کی خطے کے ممالک کو امریکی پابندیوں میں شمولیت پر سخت وارننگ
امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا روز، تہران نے شرائط واشنگٹن تک پہنچادیں
پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز بھیجنا ملکی خود مختاری، سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا
افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر