بیجنگ (شِنہوا) مصنوعی ذہانت کے عروج کے دوران ذہین اور مربوط نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای وی) کے شعبے میں بنیادی ٹیکنالوجیز میں مسلسل پیش رفت کے ساتھ ساتھ توقع ہے کہ ذہین اور مربوط این ای وی صنعت چین کی آٹو موبائل صنعت کی ترقی و اپ گریڈنگ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) اور دیگر 8محکموں نے ستمبر کے اوائل میں مشترکہ طور پر 15ویں 5سالہ منصوبےکے دورانیے (2026-2030) کے دوران ذہین اور مربوط این ای وی صنعت کی ترقی کا منصوبہ جاری کیا۔
منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ 2030 تک چین پوری ذہین مربوط این ای وی صنعتی چین میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کرے گا اور دنیا کی بڑی آٹو موبائل طاقتوں میں شامل ہو جائے گا۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ ذہین اور مربوط این ای ویز چین کی آٹو موبائل صنعت کی تبدیلی اور ترقی و اپ گریڈنگ کی اہم سمت ہیں، نئی معیاری پیداواری قوتوں کی نمایاں مثال ہیں اور چین میں جدید صنعتی نظام کی تعمیر کا اہم جزو ہیں۔
اس اقدام کو آٹو موبائل صنعت کو مضبوط بنانے کے لئے مستقبل پر مبنی ایک تزویراتی منصوبہ بندی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صنعت گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پیداواری حجم، بنیادی ٹیکنالوجیز اور برانڈز کے حوالے سے مسلسل ترقی کرتی رہی ہے، جبکہ تکنیکی صلاحیتیں اس ترقی کی بنیادی محرک رہی ہیں۔
2025 میں چین میں آٹو موبائل کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 3 کروڑ 45 لاکھ 30 ہزار اور 3 کروڑ 44 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 10.4 فیصد اور 9.4 فیصد زیادہ ہے۔ صنعت نے مسلسل 3 برس تک 3 کروڑسے زائد یونٹس کی سطح برقرار رکھی اور مسلسل 17 برس تک عالمی سطح پر پہلے نمبر پر رہی۔
ان میں نئی توانائی والی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت بالترتیب تقریباً ایک کروڑ 66 لاکھ 30 ہزار اور ایک کروڑ64 لاکھ 90 ہزار یونٹس رہی اور یہ مسلسل 11 برس سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہیں۔
ذہین اور مربوط نئی توانائی والی گاڑیاں چین کی آٹو صنعت کی ترقی کو فروغ دیں گی



